سانحہ موٹروے اور بے حس معاشرہ

سانحہ موٹروے اور بے حس معاشرہ
تحریر: اے حق – لندن


پچھلے کچھ عرصہ سے ہم کافی تسلسل کے ساتھ عصمت دری کے واقعات سنتے آ رہے ہیں لیکن یہ کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے کہ ہم چند دن چسکے لیکر اس طرح کے سانحات پر بحثیں کرتے ہیں پھر ایسے فراموش کرتے ہیں جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ زینب کیس کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ اب آئندہ شاید اس طرح کے واقعات نہیں ہوں گے ۔ لےکن شوم· قسمت کہ اس طرح کے واقعات مےں آئے روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔
واقعات تو نہ جانے کتنے ہوتے ہونگے جو کبھی اپنی عزت کی خاطر دبا لیے جاتے ہیں تو کبھی اس مجرم کو بچانے کی خاطر جو عموماً سگا رشتے دار ہوتا ہے لیکن پھر بھی میڈیا پر ہر مہینے ایک دو خبریں آتی رہتی ہیں اور لوگ منہ پھاڑ کر سنتے ہیں دو چار چچ چچ کی آوازیں نکالتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔
افسوس صد افسوس اگر فکر کی جاتی ہے تو عورت کی آزادی کی، الزام لگایا جاتا ہے تو عورت کی آزادی پر، عورت مارچ کو جتنی کوریج مل جاتی ہے اس کی آدھی بھی عصمت دری کے واقعات کو نہیں ملتی۔
بات ہورہی تھی عصمت دری کے واقعات کی۔ ابھی پرانی سبزی منڈی سے ساڑھے چار سالہ بچی جس کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا کی لاش کچرہ کنڈی سے ملے ہوئے دو تین دن ہی گذ رے تھے کہ سیالکوٹ موٹر وے پر درندگی کا ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آگیا جس میں ایک ماں کو اغوا کرکے اس کے معصوم بچوں کے سامنے درندگی کا نشا نہ بنایا گیا۔ دل دکھ سے لبریز تھا کہ سی سی پی او عمر شیخ کا بیان سامنے آگیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ خاتون کو اتنی رات کو موٹر وے پر سفر نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا اور گھر سے نکلتے وقت پیٹرول بھی چیک کرنا چاہیے تھا شاید انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاتون مرد کے بغیر سفر کر رہی تھیں اس لئے انہیں یہ سب احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کر نا چاہئیں تھیں۔
مشورے تو صحیح ہیں اور مفت بھی ہیں لیکن سر سے مو¿دبانہ گزارش ہے کہ ” جب یہ سب ہورہا تھا تو آپ اور آپ کے عملے کو کیا کرنا چاہئے تھا ؟ آپ کو یہ کون بتائے گا “۔
اور اللہ جانے وہ کیا حالات اور مجبوریاں تھیں کہ ایک اکیلی عورت رات کے ساڑھے بارہ بجے گھر سے معصوم بچوں کو لیکر نکلی۔
ہر انسانیت سوز واقعے کے بعد عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کسی نے کہا کہ ” دیکھا اسلام اسی لئے تو بغیر محرم سفر کی اجازت نہیں دیتا” اس کہنے والے سے پوچھا جائے کہ ” کیا اسلام اکیلی عورت کو دیکھ کر بھیڑیا بننے کی اجازت دیتا ہے؟
کہیں عورت کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ ” جب ایسا لباس پہنیں گی تو یہ تو ہوگا”
افسوس صد افسوس یہ یاد رہتا ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم بھی دیتا ہے۔
ایک مسلمان کا لباس واقعی ایسا ہونا چاہئے کہ اس کا جسم ڈھکا ہوا ہو تاکہ مردوں کی شہوت نہ جاگ جائے لیکن پھر قبر میں کفن میں لپٹی عورت کا کیا قصور ہے کہ جنسی درندے قبر میں سے عورت کی لاش نکال کر اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
رنگ برنگی تتلیوں جیسی معصوم بچیاں ایسی کیا حرکتیں کررہی ہیں کہ جس سے ان جانوروں کو اپنے اوپر قابو پانا مشکل ہورہا ہے۔
اب تو حکومت جاگ جائے سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے، سزائے موت کے قانون سے کم پر یہ واقعات نہیں رکیں گے۔ سزائے موت اور وہ بھی سب کے سامنے تاکہ دوسرے درندوں کو عبرت حاصل ہو۔ چیف جسٹس صاحب سوموٹو کا وقت یہی ہے پلیز ایکشن لیں۔ خواتین اٹھیں اور انصاف کے لئے اپنی آواز اٹھائیں اس سے پہلے کہ ہماری بہنوں، بیٹیوں کا اکیلے نکلنا مشکل ہوجائے۔