136 افراد ہلاک،23 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور 45961 مویشی ہلاک ہونے کے ساتھ ساتھ کچے اور پکے مکانات کی ایک بڑی تعداد منہدم ہوگئی ہے

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی سے مختلف ممالک کے سفارتکاروں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 136 افراد ہلاک،23 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور 45961 مویشی ہلاک ہونے کے ساتھ ساتھ کچے اور پکے مکانات کی ایک بڑی تعداد منہدم ہوگئی ہے۔ اجلاس ہفتہ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں یو ایس اے کے مسٹر روبر سلبرسٹین، کینیڈا کے مسٹر برام اواری، چین کے مسٹر لی بیجیان، ژانگ ہاؤ اور جانگ لن، جاپان کی مسٹر اشڈا کٹسوناری، متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹر سلیم الخادین الدھنانی،۔ فرانس کے مسٹر ڈیڈیئر تالپائن، برطانیہ کے مسٹر مائک نیتھوریااناکس اور دیگر نے شرکت کی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اجلاس میں وزیر تعلیم سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سکریٹری ممتاز شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو قاضی شاہد پرویز، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو اور وزیراعلیٰ سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری فیاض جتوئی شامل تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ملٹی میڈیا پر ایک پریزنٹیشن کے ذریعے کہا کہ اگست 2020 میں ہونے والی مجموعی بارش سے 9 اضلاع بری طرح سے سیلاب کی زد میں آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ میرپورخاص میں 27.28 فیصد، بدین 13.2 فیصد، عمرکوٹ میں 12.25 فیصد، ٹنڈو الہیار میں 5.93 فیصد، سانگھڑ میں 5.79 فیصد، ٹنڈو محمد خان 1.65 فیصد، حیدرآباد میں 0.14 فیصد، مٹیاری میں 0.64 فیصد اور تھرپارکر میں 31 فیصد سیلابی ریلہ ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صورتحال کی کشش کو مدنظر رکھتے ہوئے انکی حکومت نے چار ڈویژن آفت زدہ 20 اضلاع کا اعلان کیا ہے۔ ان میں کراچی ڈویژن کے ضلع جنوبی، ضلع غربی، ضلع شرقی، ضلع وسطی، ضلع کورنگی اور ضلع ملیر شامل ہیں۔
حیدرآباد ڈویژن کے حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، مٹیاری اور دادو اضلاع شامل ہیں۔ میرپورخاص ڈویژن: کے میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر اضلاع شامل ہیں۔ شہید بینظیرآباد ڈویژن: کے شہید بینظیرآباد اور سانگھڑ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق 20 سے 29 اضلاع میں 2.4ملین افراد کا مطلب 500000 سے زیادہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی حکومت کی طرف سے نقصانات، اور امدادی کاموں پر اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق بتایا کہ کراچی میں 64 افراد سمیت 136 افراد لقمہ اجل بن گئے اور 86 افراد زخمی ہوئے جبکہ 2488616 افراد متاثر، 1094150 ایکڑ کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ، 77343 مکانات کو مکمل نقصان پہنچا اور 137178 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ 45961 مویشی ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے 196 امدادی کیمپ لگائے ہیں جہاں 54778 خیمے لگائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 23629 افراد کو خیموں میں 73081 راشن بیگ، 102200 مچھر دانیاں، 2680 جیری کین ، 5000 پانی کی بوتلیں، 930 واٹر فلٹرز اور 3780 ترپال کی چادریں تقسیم کی گئیں ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ڈمانڈ اینڈ سپلائی کے فرق کے بارے میں بتایا کہ 122100 خیموں کے نسبت صوبائی حکومت نے صرف 41135 فراہم کیے ہیں۔ اسی طرح 279000 کی طلب پر 24150 راشن بیگ فراہم کیے گئے ہیں۔ تقریبا 79000 مچھردانیوں کی ضرورت ہے لیکن حکومت نے صرف 43500 کی فراہمی کی ہے۔ 11500 کچن کٹس کی ضرورت ہے لیکن ابھی تک صرف 2200 سپلائی کی جاسکی ہے۔ 479 ڈی واٹرنگ مشینیں درکار ہیں لیکن حکومت نے صرف 57 فراہم کی ہیں۔ 10250 ترپال چادروں کی مانگ کی گئی جس کے نتیجے میں 3780 فراہمی کی گئی ہے۔ 32000 جیری کین کی طلب ہے لیکن 2600 فراہم کی جا سکی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا اسی طرح امدادی سامان کی طلب اور رسد کے درمیان ایک وسیع فرق ہے۔ اور انہوں نے مزید کہا کہ انکی حکومت نہ صرف ضرورت اور رسد کے مابین پائے جانے والے فرق کو پورا کرنا چاہتی ہے بلکہ بین الاقوامی ایجنسیوں کو بھی متاثرہ افراد کی بحالی اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کیلئے صوبائی حکومت کی مدد کرنا چاہئے۔ سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال سے پوری طرح باخبر ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کسی نے بھی انہیں بارشوں کی اتنی بڑی تباہی سے آگاہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ وہ صوبائی حکومت کی مدد کیلئے اپن دفتری کاروائی استعمال میں لائیں گے تاکہ متاثرہ لوگوں کو امداد فراہم کی جاسکے اور ان کی بحالی کی جاسکے۔

یونیسف اور ورلڈ فوڈ پروگرام:
وزیراعلیٰ سندھ نے کرسٹینا کی سربراہی میں یونیسف اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے وفد کے ساتھ منعقد ملاقات میں انھیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ وہ کھانا اور سپلیمنٹ فراہم کرنے کیلئے متاثرہ علاقوں کا ذاتی طور پر دورہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بارش سے متاثرہ علاقوں کراچی اور صوبے کے دیگر اضلاع میں انسداد پولیو مہم چلائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کریں گے کہ وہ یونیسف اور ڈبلیو ایف پی کے نمائندوں کو ڈیٹا فراہم کریں تاکہ انکی مناسب مدد کی منصوبابندی اور توسیع کی جاسکے۔
کورونا وائرس صورتحال:
وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا وائرس کی صورتحال میڈیا کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مزید 3 مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 2443 ہوگئی ہے اور اسی طرح 2055 مریض سامنے آئے جب 13797 ٹیسٹ کئے گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید تین مریضوں کی اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 2443 ہوگئی اور شرح اموات 1.9 فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کورونا وائرس کے 205 نئے کیسز سامنے آئے جب 13797 ٹیسٹ کئے گئے جس میں ایک فیصد تشخیصی شرح پائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 1120255 ٹیسٹ کرائے گئے ہیں جن کے نتیجے میں 131880 کیسز کی تشخیص کی گئی ان میں سے 97 فیصد یعنی 127418 صحتیاب ہوچکے ہیں، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 557 شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس وقت 2019 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 1737 گھروں میں، 6 قرنطینہ مراکز میں اور 276 مختلف اسپتالوں میں ہیں۔ جبکہ 144 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جن میں 17 کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ کورونا وائرس 205 نئے کیسوں میں سے 123 کراچی کے ہیں جس میں ضلع جنوبی 58، ضلع شرقی 24، ضلع کورنگی اور وسطی میں 17-17، ضلع ملیر 5 اور ضلع غربی 2 شامل ہیں۔ دیگر اضلاع میں بدین میں 17، شکار پور 8، حیدرآباد ، جامشورو اور کشمور 4-4، لاڑکانہ، مٹیاری، میرپورخاص، سانگھڑ اور ٹھٹھہ 3-3، دادو ، نوشہروفیروز ، شہید بینظیر آباد ، اور سکھر 2-2 ، سجاول ، ٹنڈو الہیار اور خیرپور ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے ۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ