’پولیس افسر کا دفاع کرنے کو ترجیح دی‘?

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی و سماجی معاملات پر اپنی رائے دینے سے نہیں چوکتیں پھر خواہ وہ ان کی والدہ کی پارٹی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
فیض آباد دھرنے پر جب ان کا ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا تھا تو اس وقت صارفین نے نہ صرف انہیں تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ شیریں مزاری سے بھی معاملے پر وضاحت مانگی جس پر انہوں نے اپنی بیٹی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کہ ان کی ایک بالغ لڑکی ہے اور اس کو اپنا نقطہ نظر رکھنے کی آزادی ہے

اب ایک بار پھر ایمان زینب مزاری کی ایک ٹویٹ نے شیریں مزاری کو وضاحت دینے پر مجبور کر دیا۔
زینب مزاری نے اپنی ایک ٹویٹ میں وفاقی وزیر اسد عمر، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ان مرد حضرات کے نام اور چہرے نہ بھولیں۔ یہ وہ “لیڈر” ہیں جنہوں نے ایک کرپٹ، زن بیزار پولیس افسر کا دفاع کرنے کو ترجیح دی، بجائے اس کے کہ وہ ایک ریپ وکٹم کو سہارا دیتے۔’

زینب مزاری کی اس ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ان کی والدہ شیریں مزاری نے اسے ‘بالکل غلط’ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ‘اسد عمر نے میرے بیان کا دفاع کیا اور سی سی پی او پر تنقید کی۔ شہزاد اکبر نے بھی واضح طور پر سی سی پی او کے بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی میں سے کسی نے بھی سی سی پی او کے بیان کا دفاع نہیں کیا۔ آئی جی نے بھی ان کے بیان کے خلاف ایکشن لیا ہے۔’

انہوں نے مزید لکھا کہ ‘اس معاملے پر خصوصاً خواتین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جو بالکل درست ہے لیکن ان وزرا کو مورود الزام ٹھہرا کر اپنا غصہ نکالنا جنہوں نے سی سی پی او کے بیان پر تنقید کی، زیادتی کے اس سنجیدہ جرم پر سیاست کرنے کے مترادف ہے۔’

ماں بیٹی کے درمیان اختلافی ٹویٹس کا تبادلہ دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین بھی تبصرے کیے بغیر نہ رہ سکے۔ باجی پلیز کے نام سے ٹوئٹر ہیینڈل نے لکھا کہ ‘ آپ دونوں اپنے مسئلے گھر میں حل کریں۔’ جس پر ایمان زینب مزاری نے جواب دیا کہ ‘ہمارا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ عورتیں جب ایک دوسرے سے سیاسی، قانونی یا اور کوئی اختلاف کرتی ہیں اسے گھریلو معاملہ دکھانا خود ہی ایک تعصب پر مبنی تبصرہ ہے جو صرف اس لیے دیا جاتا ہے کہ عورت کی آواز کو دبایا جا سکے۔ پبلک ایشو پر پبلک بحث۔

ڈاکٹر ملک ضیا نامی صارف نے لکھا کہ ‘یہ کوئی وکھری ٹائپ کی ماں بیٹی ہیں. بیٹی کو حقوق خواتین کا چورن بیچنا ہے اور ماں بے چاری کو سونے سے ہی فرصت نہیں۔’


کچھ صارفین زینب مزاری کی ٹویٹ سے اتفاق کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر پر تنقید کرتے نظر آئے۔

رومی نامی صارف نے اسد عمر کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘اسد عمر واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ ہم سی سی پی او کے اس بیان پر کوئی ایکشن نہیں لے سکتے۔ انہیں سی سی پی او سے مستعفی ہونے کا کہنا چاہیے تھا۔ یہ ان کا کام ہے کہ شہریوں کی حفاظت کریں، انہیں محفوظ محسوس کرائیں اور متاثرہ فریق کو الزام نہ دیں۔ یہ شرمناک ہے۔’

ایک اور صارف علی فیصل نے لکھا کہ ‘نہیں اسد عمر نے واضح کہا کہ سی سی پی او کے خلاف ایکشن نہیں لیا جا سکتا جو کچھ انہوں نے کہا وہ جرم نہیں۔ سی سی پی او کے ساتھ اسد عمر سے بھی چھٹکارہ پائیں۔ آپ کی حکومت کو اس سے فائدہ ملے گا۔’

from-urdu-news-pages