صحافی فریحہ ادریس موٹر وے کے سفاک جرم کی افسوسناک تفصیل بتاتی ہیں

صحافی فریحہ ادریس موٹر وے پر سرزد ہونے والے بہیمانہ اور سفاک جرم کی تفصیل بتاتی ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر مندرجہ ذیل ٹویٹس کیں۔

موٹر وے کے غمزدہ کر دینے والے واقعے کی کچھ مزید تفصیلات۔ خاتون نے ایمرجنسی نمبر 130 پر کال کیا اور انہیں اپنی لوکیشن بتائی۔ انہوں نے ایک مقامی نمبر دیا اور وہاں کال کرنے کا کہا۔ خاتون نے اس نمبر پر کال کیا اور اپنی لوکیشن دی۔ اور پھر مدد کے لیے انتظار کرنے لگیں۔

ظاہر ہے کہ وہ اس وقت ٹراما (شدید شاک) میں ہیں اور ہر چیز یاد نہیں کر سکتیں۔ لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ ایک طویل انتظار تھا۔ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے کم از کم ایک گھنٹے انتظار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی گاڑی میں خاص قسم کے شیشے لگے ہوئے ہیں اور باہر سے یہ دیکھنا ناممکن تھا کہ وہ اندر اکیلی تھیں۔

جب اس خاندان کو اس طرح کھینچا جا رہا تھا جس طرح قربانی کا جانور قربان گاہ کی طرف لے جایا جاتا ہے، تو حملہ آوروں سے ان کا وہ بیگ گر گیا جو انہوں نے ان کی گاڑی سے اٹھایا تھا۔ بیگ میں ان کا سونے کا کڑا مالیتی پانچ لاکھ، ایک لاکھ نقد اور دیگر قیمتی چیزیں تھیں۔ ان عفریتوں نے خاتون کو گن پوائنٹ پر رکھا اور بیگ ڈھونڈنے نکل گئے اور اسے تلاش کر لیا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان درندوں کا حوصلہ بلند تھا اور وہ یہ سنگین جرم کرتے ہوئے پرسکون تھے۔ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ انہیں پولیس کے آنے کا کوئی خوف ہو۔ خاتون کی پولیس کو پہلی کال سے اب تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ان درندوں کی نیت صاف ظاہر تھی۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ انہیں حیرت نہیں ہو گی اگر ان مجرموں کو کسی نے مخبری کی ہو۔ وہ جو کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اس کے بارے میں پراعتماد تھے۔ ان خاتون کا فون ان کی سیٹ کے نیچے گر گیا تھا۔ ان مجرموں نے ایک مرتبہ بھی فون حوالے کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ فون بعد میں ان کی کار کی سیٹ کے نیچے سے ملا۔

جب ان خاتون نے اس خاندان کو فون کیا جہاں انہوں نے دعوت پر جانا تھا تو ان کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ جب ان کی قریبی دوست انہیں لینے آئے تو انہیں پولیس نے گھیر رکھا تھا۔ پولیس والے انہیں طبی معائنے کے بغیر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ خاندان اس معاملے کو چھپانا چاہتا تھا۔

خاندان نے شدید پریشانی میں مبتلا ہوتے ہوئے پولیس کی منت سماجت کی کہ انہیں جانے دیا جائے۔ ان کی دوست نے ان کی حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ ایک مرغی کی طرح خوفزدہ تھیں“ ۔ ان کی آنکھیں باہر آئی ہوئی تھیں اور وہ کانپ رہی تھیں۔ وہ اپنے دوست اور اس کے خاندان کو بھی نہ پہچان پائیں۔ یہ اس سے زیادہ غمناک اور دل توڑنے والا نہیں ہو سکتا تھا۔

پولیس نے طبی معائنے پر اصرار کیا جو کہ ظاہر ہے ایک پیشہ ورانہ ضرورت تھی۔ لڑکی (دوست) نے بتایا کہ ان سے جائے وقوعہ پر موجود سینئیر افسران نے مکمل رازداری کا وعدہ کیا تھا۔ جب انفارمیشن لیک ہوئیں تو ان کا دل پاش پاش ہو گیا۔

ان خاتون نے اب تک کچھ نہیں کھایا ہے۔ پہلے دن وہ نہ تو کچھ بولیں اور نہ ایک کچھ کہنے کے قابل تھیں۔ اب کچھ وقت گزرنے کے بعد آج وہ تھوڑا تھوڑا بولنے لگی ہیں لیکن یہ ایک بہت مشکل وقت ہے۔ اب یہ پاکستان کے لیے وہ وقت ہے جب وہ اٹھ کھڑا ہو اور متحد ہو کر تحریک چلائے کہ مجرموں کو سزا دی جائے۔

ایک ایسا لمحہ آیا جب وہ لباس تبدیل کرنے کے بعد فرش پر بیٹھیں۔ خاندان نے کہا کہ وہ بس روتی رہیں روتی رہیں اور فلک شگاف چیخیں مارتی رہیں۔ ”ہم میں سے کسی کا حوصلہ نہیں تھا کہ انہیں روک سکتا۔ وہ کچھ نہیں کہتیں مگر ان کی آنکھیں سب کچھ کہ دیتی ہیں“ ، ان کی دوست نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ بتایا۔

ان کی آنکھوں کے لٹے ہوئے خوابوں کے بارے میں ہم کچھ نہیں بول سکتے۔ لیکن میں نے اس خاتون کو ایک پیغام دیا۔ ”سارا پاکستان تمہارے ساتھ ہے، تمہیں کسی چیز پر شرمسار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمہیں درد دینے والے سزا پائیں۔“ آئیں اس مقصد کے لیے متحد ہوں۔ پلیز۔