مدت سے پنپتی ہوئی سازش نے ڈبویا

یاسمین طہٰ

——-

yasmeen taha urdu columnist

27 اگست 2020ء کراچی کی تاریخ میں ایک خوفناک دن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ جب شہر مکمل طور پر ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بن گیا۔ شہر بھر میں پانی کے خوفناک بہائو کے باعث سڑکوں پر کنٹینرز، کاریں اور بسیں کھلونوں کی طرح بارش کے ریلوں کی نذر ہو گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کراچی میں بارش سے 100 برس کا ریکارڈ توڑ دیا اور ایسا نہیں ہے کہ اسی صورت حال کا انتظامیہ کو علم نہ تھا۔ جولائی میں ہی یہ پیشن گوئی کر دی گئی تھی کہ اس سال گزشتہ برس کے مقابلے میں شدید ترین بارشیں ہوں گی لیکن اس پیش گوئی کے باوجود متعلقہ اداروں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی جولائی سے ہی نالوں کی صفائی کے نام پر میڈیا میں خوب خبریں چلائی گئیں اور یہ دعوے 6 اگست کی بارش میں ہی بہہ چکے تھے۔ اس کے باوجود سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں نے کوئی پلاننگ نہ کی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک ہفتے قبل بھی محکمہ موسمیات نے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا تھا لیکن اس پر بھی کان نہ دھرے گئے اور کراچی والوں پر 27 اگست قیامت ڈھا گئی اور 41 لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ جس میں 3 ہلاکتیں کرنٹ لگنے سے ہوئیں۔ شہر بھر میں بجلی کا نظام چوپٹ ہو گیا اور کراچی کے پوش ترین علاقے ڈیفنس میں چار روز بعد بجلی بحال ہوئی۔ اس دوران ڈیفنس سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی آفتاب صدیقی بھی دہائی دیتے رہے کہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کو ذمہ دار قرار دیتے رہے اور انہوں نے ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کو بھی ڈیفنس کی بدترین صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 روز تک پانی نہ نکالنے کے ذمہ دار یہ دونوں ادارے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ کرپٹ ترین ادارے ہیں جن کے خلاف ہم عدالت جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کا سی ای او دو روز سے رابطہ کرنے کے باوجود غائب ہے۔ ڈی ایچ اے لاہور اور ڈی ایچ اے کراچی میں کیوں تفریق کی جا رہی ہے۔ یہاں کا نکاسی کا نظام خراب ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کلفٹن کنٹونمٹ بورڈ کے سی ای او کو برطرف کیا جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے مطالبے کو وزیراعظم کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔کراچی سے الیکشن جیت کر وزیراعظم کے عہدے پر پہنچنے والے عمران خان کے پاس اسلام آباد سے بیٹھ کر تسلی دینے کے سوا اور کوئی آپشن نظر نہیں آیا۔
کراچی والے تا دم تحریر بارش کے بعد کی تباہی کے باعث اذیت کا شکار ہیں اور وزیراعظم کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ وہ کراچی کا دورہ کریں۔ جب کہ تقریباً ہر اتوار کو کراچی میں نظر آنے والے صدر مملکت عارف علوی نے بھی کراچی کا دورہ کرنے کی زحمت نہ کی ،جہاں ان کے رہائشی علاقے میں چار روز بعد بھی پانی نہ نکالا جا سکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو کراچی کے عوام نے منتخب کر کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچایا ہے لیکن ان لوگوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے سب سے زیادہ حمایت یافتہ علاقے ڈیفنس میں چار روز تک بجلی ہی بحال نہ کرا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈیفنس میں پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ قیوم آباد کے قریب ندی کے پاس پر فیز سیون ایکسٹینشن بنایا جاتا ہے، اس ندی پر مبینہ طور پر فیز ایٹ بھی موجود ہے۔ ذررائع کے مطابق متحدہ کی چائنہ کٹنگ کے دور میں بھی یہ کام ہوا۔ اورنگی کا نالہ مبینہ طور پر متحدہ نے فروخت کیا تھا، بنارس کا نالہ اے این پی نے اور شہر سے پانی کے اخراج کے لئے بنائے گئے نالوں پر بستیاں تعمیر ہو گئیں جس کی وجہ سے شہر ڈوب گیا۔ جہاں شہر کی تباہی کی ذمہ دار متحدہ ہے وہیں پی پی پی بھی اس کی بربادی میں برابر کی شریک ہے۔ کراچی پر تین عشروں سے حکومت کرنے والی ان دونوں جماعتوں نے شہر کو جس ظالمانہ طریقے سے برباد کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ پی پی پی کا کراچی سے محض ٹیکس وصولی تک کا مفاد ہے، اس شہر کا المیہ یہ ہے کہ اس پر غیر مقامی لوگ حکومت کر رہے ہیں۔ کراچی میں پی پی پی کا ووٹ بینک نہیں۔ اس لئے اس پارٹی کو کراچی والوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ جہاں ان کا ووٹ بینک ہے۔ وہ اندرون سندھ بھی ان بارشوں میں تباہی کی داستان رقم کر رہا ہے۔ جہاں تک متحدہ کا تعلق ہے تو اس پارٹی کے پاس مکمل طور پر مقامی حکومت تھی۔ کراچی کے تقریباً تمام اضلاع میں ان کے چیئرمین موجود تھے لیکن جو کام انہوں نے ’’دکھائے‘‘ وہ سب کو معلوم ہے اور کراچی کی موجودہ صورت حال کی ذمہ دار یہی پارٹی ہے۔ جس کے میئر نے چار سال تک اختیارات کا رونا روتے ہوئے ایک دھیلے کا کام نہ کیا۔ جہاں تک سندھ حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے تو وہ تو بینک کے تعاون سے نالوں کی صفائی کا کام بھی درست طریقے سے انجام نہ دے سکی۔ پی پی پی نے 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے کو کس مقام پر پہنچایا یہ عوام جان چکی ہے، اس وقت کراچی کے شہریوں کی نظریں وفاق پر ہیں اور وہ عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے کہ اس شہر نے ان کی پارٹی کو ووٹ دے کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچایا لیکن اس قیامت خیز بارش میں یہ نمائندے کہیں نظر نہیں آئے۔ محض دو یا تین ایم پی ایز یا ایم این ایز کی سڑکوں پر موجودگی کافی نہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ وفاق اس شہر پر اپنی توجہ مرکوز کر دے ورنہ ……