زیادتی کا شکار خاتون کی بیان دینے سے معذرت

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر زیادتی کا شکار خاتون کے اہل خانہ نے فی الوقت پولیس کو بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سےمشرقی بائی پاس موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں تحقیقات کے لیے بیان ریکارڈ کرانے کی غرض سے رابطہ کیا گیا تاہم خاتون کے اہل خانہ نے فی الوقت بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت کی ہے۔

موٹروے کا واقعہ شرمناک، پنجاب پولیس میں تبادلے سیاسی مداخلت کی علامت، حکومت ہوش کے ناخن لے، چیف جسٹس

اہل خانہ کاکہنا ہے کہ خاتون کی حالت ایسی نہیں کہ وہ ابھی بیان ریکارڈ کراسکیں۔

فوکل پرسن ایس ایس پی ذیشان اصغر اس معاملے پر کہنا ہے کہ خاتون کی حالت کو سمجھ سکتے ہیں،متاثرہ خاتون کا بیان اس وقت قلمبند کریں گے جب ان کے لیے ممکن ہو گا۔

موٹروے زیادتی کیس جلد حل کیا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب، ملزم تک پہنچ کر سزا دلوانا چیلنج، وزیر قانون

دوسری جانب آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس میں ابھی کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا ہے،ملزمان کی گرفتاری سے متعلق مختلف ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا کی خبریں غلط ہیں۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کو خود مانیٹر کر رہا ہوں،کسی کامیابی پر میڈیا کو خود آگاہ کروں گا، ایسی غیر تصدیق شدہ خبریں کیس پر اثر انداز ہوتی ہیں اور عوام کیلئے بھی گمراہ کن ہیں۔

خاتون کی انگوٹھی، گھڑی مل گئی، 7 افراد کا DNA، مدعی شامل تفتیش

انعام غنی نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر ملزمان اور خاتون کی شیئر کی جانیوالی تصاویر بھی جعلی ہیں، میری میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے کہ وہ تصدیق کے بغیر کوئی خبر نہ چلائیں جبکہ عوام سے بھی گزارش ہے کہ ہم پر اعتماد رکھیں، ہم جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیں گے۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی ملزم گرفتارنہیں ہوا تاہم پولیس دن رات ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔

گزشتہ روز موٹروے پر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والے 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد نے متاثرہ خاتون کے اکاوَنٹ سے رقم کی ٹرانزیکشن کی کوشش کی۔ دونوں افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سیمپلز لے لیے گئے تھے۔

دوسری جانب موٹروے پر زیادتی کا شکار خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی تھی۔ میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے ساتھ زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کا میڈیکل کوٹ خواجہ سعید اسپتال سے کرایا گیا۔ 7 مشتبہ افراد کا ڈی این اے میچنگ کروا لیا گیا۔ پولیس نے کرول گاؤں کے سینتالیس مردوں کے ڈی این اے سیمپل بھی لے لیے ہیں۔

دوسری طرف پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں رہائشیوں سمیت 70 سے زائد جرائم یافتہ افراد کو شارٹ لسٹ بھی کر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ متاثرہ خاتون کی گھڑی اورانگھوٹھی مل گئی ہے اور 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پنجاب کیس میں ہونے والی پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلومیٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے اور کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر پندرہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔

ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل 15 مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے۔ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کے لیے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ وزیرقانون راجہ بشارت کو کمیٹی کے کنوینرمقرر کیا گیا ہے جب کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کمیٹی، ڈی آئی جی انوسٹیشن پنجاب ڈاکٹرمسعودسلیم اور ڈی جی فرنزک ایجنسی، کمیٹی کے ممبر ہیں

کمیٹی سے تین روز میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ جبکہ کمیٹی آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی۔

پولیس کی20ٹیمیں تفتیش میں مصروف ہیں جب کہ متاثرہ خاتون اور حراست میں لیے گئے افراد کے سیمپلز فرانزک لیب بھجوا دئیے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق لاہور تا سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کر دی گئی ہے ملزموں کی تلاش کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کے بیان پر ملزمان کے خاکے بھی بنوا لیے ہیں