عزتوں کی نگہبان خود آج خوف میں کیوں مبتلا؟؟؟؟؟؟

عزت نفس کسی شخص کی محفوظ نہیں
اب تو اپنے ہی نگہبانوں سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

کہا جاتا ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ لیکن اب معاشرے میں نہ تو وجود محفوظ ہےاور نہ ہی زن تازہ ترین واقعہ لاہورکا جس میں خاتون کوبچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، متعلقہ اداروں حتیٰ کہ وزیر اعظم نےبھی نوٹس لیا لیکن عوام جانتی ہے کہ اس طرح کےنوٹس ماضی میں بھی لئے جاتے رہے۔ اس سے قبل کراچی کےعلاقےسبزی منڈی میں پانچ سالہ معصوم بچی ماروا کو زیادتی کےبعد درندوں نے قتل کردیا۔لیکن ملزمان کو ڈھونڈنےکےسائنسی آلات اتنا وقت لےچکےہوتے ہیں کہ مدعی انصاف کےلئےدربدرہی رہتا ہے۔۔۔۔۔
سندھ کےتعلیمی اداروں، طبی شعبوں میں بھی زیادتی کےواقعات سامنےآتے رہے ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ ہراساں کئے جانے کے واقعات ہیں جو خواتین اپنی عزت کی خاطررپورٹ کرنےیاکسی کو بتانے سے ڈرتی ہیں مگر جب رپورٹ کردیاجائے تب بھی ذلت عورت کے ہی حصے میں آتی ہے، سندھ پولیس کی بہادر بیٹٰی انسپکٹرسیدہ غزالہ جوکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ایک نمایاں مقام اور عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ خواتین کو انصاف اور انہیں سسرال میں ممتاز مقام دلانے والی ان میں جرات پیدا کرنے والی انسپکٹر جو معلوم نہیں کتنی خواتین کا حوصلہ ہے آج یہ بلند حوصلوں کا دیا کون بجھا رہا ہے۔ اسی جرات اور بہادری پر کافی عرصہ وومن تھانہ کی ایس ایچ او شپ کے فرائض سر انجام دئے۔

۔انسپکٹرغزالہ بھی کافی عرصہ سے ہراسمنٹ سہتی رہیں اوراب جب پانی سرسے اونچا ہونے لگا تو انھوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے ویڈیو پیغام میں ہراساں کرنے کا ذکرکردیا انھوں نےویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پولیس میں شامل کالی بھیڑیں مجھے ہراساں کررہی ہیں مجھے کہا جارہا ہے کہ پولیس کی نوکری چھوڑ دوں سوشل میڈیا پر مہم چلائیں گے اورتم خود استعفے پرمجبور ہوجاؤگی میں نے ان کرپٹ عناصر اورکالی بھیڑوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیااور ایف آئی اے سائبر کرائم میں درخواست جمع کرادی ہےاپنے محکمے کے اعلیٰ افسران کو بھی صورتحال سے آگاہ کردیا ہے یہ جنگ میرے اکیلے کی نہیں ،گھرسے نکلنے والی ہرعورت کی ہے معاشرے کے ان ذہنی بیماروں کو بے نقاب کرکے قانون کے کٹہرے میں لاؤں گی ۔۔۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ناک اور غور طلب امر یہ ہے کہ خاتون پولیس افسرکو ہراساں کرنےوالے کوئی اور نہیں اپنے ہی محکمہ کے وہ لوگ ہیں جو وہی وردی پہنتے ہیں جو سیدہ غزالہ پہنتی ہیں۔ جب ضمیر مردہ اور اخلاقیات انتقام کا لباس پہن لیں تو دھمکانے والے گھر ہی کی عزتیں غائب کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور ایسا ہی سیدہ غزالہ کے ساتھ ہوا اور ان کے چمن کے پھول کو (بیٹی) کو غائب کرنے کی دھمکی دی گئ۔سوالیہ نشان یہ ہے کہ خود ایک پولیس افسر کو کیوں سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑا کیوں پہلے سے دی گئی شکایتی درخواستوں کا ازالہ نہ کیا گیا۔۔۔۔اگر یہ کوئ مصلحت ہے تو انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔
اس سے قبل بھی محکمہ پولیس میں ایسی شکایتیں آئیں لیکن کسی بھی خاتون اہلکار یا افسر نے اس طرح کھل کر ذکر نہیں کیا ، شاید وہ یہ جانتی تھیں کہ قانون واقعی نہ صرف اندھا بلکہ لولا لنگڑا بھی ہوچکاہےجہاں حوا کی بیٹیوں کو کہیں سڑک پر سے تو کبھی راہ چلتے اغوا کرکے عزتیں لوٹ لی جاتی ہیں یا پھردرسگاہوں میں انھیں غلط جملوں اور غیراخلاقی باتوں کاسامنا کرنا پڑتاہے مگر مجال ہےکہ نام نہاد حقوق نسواں کا پاس کیا جانیوالا بل کسی کام آئے یا پھر خواتین کےلئے بنایا گیا پروٹیکشن سیل۔۔۔اور تو اور حقوق نسواں کےلئے آواز اٹھانے والی نام نہاد تنظیمیں بھی موم بتی مافیا کاکردار ادا کرکے چلتی بنتی ہیں ، تعلیمی ادارے میں ہراسمنٹ کا واقعہ ہوتو کم از کم کچھ طلباء ساتھ دینے کی ہمت کرلیتے یا احتجاج کاراستہ اپناتے، طبی شعبےمیں ہو تو ڈاکٹر یاپیرامیڈیکل اسٹاف احتجاج کرلیتا لیکن شعبہ پولیس کی خاتون افسر کے ساتھ ہونے والے اس قصے میں کہیں سے نہ تو کسی پولیس افسر کی آواز آئی اور نہ ہی کوئی اہلکار کھڑا ہوا۔۔۔ خاتون افسر کا یہ جملہ بھی ان کا ضمیر نہیں جھنجھوڑ سکا کہ یہ جنگ میرے اکیلے کی نہیں گھر سے نکلنے والی ہر عورت کی ہے۔ لیکن پولیس میں موجود لوگ سوچ لیں کہ دنیا مکافات عمل ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کہیں سے کوئی اور عورت آواز اٹھا کر پھٹ پڑے اور اس دھماکے کی آوازیں آپکو ہلا کررکھ دیں یا پھر شاید یہ شعر درست ہے کہ

ہمیں ہےخبرلٹیروں کےسب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے

تحریر:سمیر قریشی