نظریہ پاکستان اور نظام پاکستان

قلم کو ہر دور میں اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ اسی نے ہر قسم کا جاہ و جلال اور لطف و کرم نسلوں تک پہنچانا ہوتا ہے اسی قلم کی بدولت ہم تک بہت ساری قوموں کے حقائق پہنچے اور اسی کی مدد سے ہم ان حقائق کے ساتھ موجودہ حالات کا موازنہ کرتے ہوئے نسل نوع انسانی کی تعلیم و تربیت کا کام انجام دیتے ہیں ماضی قریب میں جب ہم لوگ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ علیہ کی قیادت میں چلے تھے تو ایک نظریہ لے کر چلے تھے جس کے اصول قائد اعظم رحمہ اللہ علیہ نے ہی نئ ریاست کیلئے مقرر فرمائے تھے جو بالترتیب کچھ اس طرح تھے ایمان، اتحاد، تنظیم، جس کیلئے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے جانی و مالی و قلبی قربانیاں پیش کیں جس کے نتیجے میں خدائے وحدہ لاشریک کی خصوصی مہربانی سے وطن عزیز ملک پاکستان حاصل ہوا یہ ابتداء تھی جزبہ اسلامی اور دینی غیرت و حمیت سے پیدا ہونے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس میں باقی دیگر ممالک کی طرح آباد ہونے والے لوگوں نے بھی اپنی بقاء کی خاطر دن رات ایک ہو کر اس وطن عزیز کیلئے محنت و لگن کو اپنا شعار بنایا لیکن چونکہ تعلیم و تربیت اور امن و امان کا ابھی کوئی خاص انتظام عمل میں نہ آ سکا تھا سو اغیار دین کا کام بھی اس دیس میں خوب چلنا شروع ہوا اور دشمنان پاکستان کو بھی اپنی منافقانہ چالیں چلنے کا خوب موقعہ ملا سو جیسے جیسے اپنی سر زمین پر لوگوں کو قرار حاصل ہوتا گیا تو پھر ویسے ویسے ان کا معیار زندگی اور انداز تخیل بھی تیزی سے تبدیل ہوتا نظر آیا یعنی کہ جو کٹر اسلامی و دینی ذہن رکھنے والے مہاجر یا مقامی لوگ تھے ان کی اولادوں میں ماڈرن کے نام پر بے دینی و غیراخلاقی تربیت کثرت سے پروان چڑھنے لگی کیونکہ اغیار دین کے نشانے پر وہی تھے کہ ان سے ان کی نظریاتی اساس چھینی جائے جس کی ایک اور وجہ برادر اسلامی ممالک میں اسلامی اطوار و اقدار کی پامالی بھی کہا جا سکتا ہے جو کہ تیزی کے ساتھ تنزلی کی طرف جا رہے تھے سو خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق مسلمانان پاکستان بھی لمحہ بہ لمحہ واعظ و نصیحت کو پس پشت ڈالتے نظر آئے جس کا نتیجہ یوں نکلا کہ کچھ لوگ مذہبی وابستگیوں میں شدت اختیار کر گئے تو کچھ سیاسی وابستگیوں کے قیدی بن کر رہ گئے اور عام عوام الناس اپنے دائرہ زندگی میں اس قدر بے یارو مددگار ہوئے کہ ہر قسم کا قبیح و غلیظ جرم بھی کئ لوگوں کو چھوٹا اور معمولی لگنے لگا تو کئ اپنی شرافت کا دم بھر کر گھٹ گھٹ کے جینے پر مجبور ہو گئے یہاں سے نظریہ پاکستان کی پہلی شق ایمان پر ضرب پڑنا شروع ہوئی میرے مطابق اس میں سب سے پہلا قصور حکومت وقت کا اور دوسرا قصور قاضئ وقت کا تھا اگر حاکم وقت یا وہ سیاستدان اپنے ہر قسم کے ذاتی مفادات اور لالچ و حرص کو پس پشت ڈال کر ملک و ملت کی خدمت کو اپنا اعزاز بناتے تو یقینا آج ملک پاکستان جو اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے وہ اس وقت کم از کم دنیائے اسلام پر ضرور حکومت کر رہا ہوتا اسی طرح اگر قاضئ وقت اپنے علم و فن کے مطابق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مکمل خدا خوفی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا تو یقینا عام عوام کے حالات بھی بہتر ہوتے اور سیاستدان و بیوروکیٹس کے پاس بھی خوف عدالت کی بدولت لالچ و حرص ہرگز ڈیرہ نہ ڈالتی اب اگر تیسرے طبقے پر غور کریں تو وہ ہے علمائے دین و ملت کا طبقہ جیسا کہ سب ہی جانتے ہیں کہ دین اسلام نے ہر چھوٹے بڑے امیر و غریب عالم و جاھل قاضی و حاکم سب ہی کیلئے جھوٹ چغلی غیبت لالچ و حرص و بغض جیسی عادتوں کو حرام کیا ہے اسی طرح علمائے کرام یا مشائخ عظام کو بھی یہ چیزیں قطعا جائز نہیں سو اگر ہمارے علمائے دین نے بھی ہر قسم کی لالچ و حرص اور آپسی بغض و عناد کو ٹھکڑاتے ہوئے قوم کی صحیح معنوں میں ایک غیرت مند و جرات مندانہ انداز میں نظریاتی خطوط پر تعلیم و تربیت کا ذمہ نبھایا ہوتا تو پھر بھی حالات پر کچھ قابو پانے میں مدد ملتی مگر شومئ قسمت نہ ہی عقائد و فقہ کے مسائل کو عدالتوں نے اپنی میز پر جگہ دی اور نہ ہی حکمران طبقے نے سوائے اپنا مطلب پورا کرنے کے اس مہراب و منبر سے کوئی تعمیری کام لیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نظریہ پاکستان کی جو پہلی شق ایمان ہے، جس کا مطلب ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کو حقیقی و دائمی سپر پاور اور پیارے سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی ماننا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو ہی بطور شریعت یعنی قانون حقیقی ماننے و اقرار کرنا ہے ہم بحثیت قوم اپنے نظریئے کی اس پہلی شق سے ہی دستبردار ہو گئے اور ہوئے بھی کچھ یوں کہ یہ تو مولویوں کا کام ہے یا پھر بقول بعض ہمیں کیا پڑا ہے اتنی گہرائی میں جائیں قصہ مختصر اکثریت نے اس شق سے جان چھڑانے کا کوئی نا کوئی بہانا تراش لیا پھر اسی قسم کے بہانوں کے زیر سایہ صاحب کرسئ و اقتدار لوگ بھی نہ ہی ملک میں اپنی ثقافت و تمدن برقرار رکھ سکے اور نہ ہی ملک کے باہر اپنے محسن ممالک سے اپنی اقدار و تہذیب منوا سکے لہذا نتیجتا کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا کے مصداق یہ قوم مغرب زدہ و مشرق زدہ ہونے میں ہی اپنی بقاء تلاش کرنے لگی جب کہ اس کی بقاء نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پنہاں تھی جسے ہمارا پڑھا لکھا ماڈرن طبقہ یا خود ساختہ معزز لوگ دیکھنا تو دور سوچنا بھی قبول نہیں کرتے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرنے والوں کو یہ خود ساختہ معزز لوگ صاحب عزت تو کیا انسان تک تسلیم کرنے پر تیار نہیں کیونکہ یہ نعرہ ان کی عیاشیوں کیلئے موت اور دین اسلام کی نئ زندگی کا نعرہ ہے اور پھر یہاں پر علمائے دین کی مجبوری و بے بسی کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے میں علمائے دین کی اکثریت آج بھی بیروزگار ہے یا اپنے گلی محلے والوں کے رحم و کرم پر ہے جس کی ایک وجہ ان حضرات کا دنیاوی تعلیم سے دور ہونا اور دوسری بڑی وجہ سیاسی نظام کو گندگی جان کر اس کی اصلاح کی بجائے کلی طور پر اس کا ترک کر دینا شامل ہے اور اگر کچھ مذہبی اسکالرز نظریات پر کام کر بھی رہے ہیں تو ان کے بھی اپنے باہمی اختلافات و رنجشیں بنام دین اس قدر عروج پر ہے کہ سادہ لوح دنیا دار طبقہ اگر علم دین کی طرف کچھ رغبت کرے بھی تو پریشانی کے عالم میں وہ بھی سیدھا کسی ایسے پیر صاحب کے دربار میں گرتا ہے جہاں سے ذکر و اذکار اور گوشہ نشینی سے آگے بات بڑھتی ہی نظر نہیں آتی جس کی بنیاد پر بعض لوگ اپنے اپنے شیوخ یا پیر حضرات کے ساتھ ہی قلبی تعلق قائم کرتے ہوئے انہیں ہی اپنا دین و ایمان سمجھ بیٹھتے ہیں یعنی آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا اب یہاں سے بات آگے کیسے بڑھے سو نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی نظام عدل کا یہاں سے دروازہ بھی بند ہوا جہاں سے نظریہ ایمان کی مزید تباہی کا علمی میدان میں بھی سفر شروع ہو جاتا ہے اور اگر کوئی الا ماشاءاللہ عالم دین کسی بھی دور حکومت میں کلمہ حق بلند کرنے کی جرات کر بھی لے تو اس پر شدت پسند مولوی کا ٹائٹل لگا کر پابند سلاسل کروا دیا جاتا ہے اور اپنے پسندیدہ جج کے سامنے پیش کر کے معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے یا اگر عدالتی کاروائی ناگوار گزری کسی صاحب حثیت کو تو ویسے ہی قتل کروا کر قصہ تمام کر دیا جاتا ہے یوں بھی ہم اپنی تہذیب و آزادی کا اپنے ہی ہاتھوں گلا گھوٹتے رہتے ہیں اور پھر بدقسمتی سے ہمارے جن شیوخ یا پیر صاحبان کو سیاستدانوں کی دینی و مذہبی تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دینا چاہئے تھا وہ بھی وہاں حکومتوں کا بھیجا ہوا خط پڑھ کر بمصلحت تاویلات کا ایسا تانتا باندھنے میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ جی امن و امان خراب نہ ہو حالانکہ امن و امان تو دینداری و حق قول پر ڈٹ جانے میں ہی پنہاں تھا لیکن ان کے نزدیک لوگوں کا ایمان یا دینی نقطہ نظر کی خیر ہوتی ہے یہ تو بنتا بگڑتا رہتا ہے لہذا یہاں بھی ہمارے ملک پاکستان کے نظریہ کا پہلا اصول ایمان بمصلحت سیاسی وابستگیوں یا ذاتی ضرورتوں کی بھینٹ چڑھتا ہوا نظر آتا ہے پھر اس کے بعد نظریہ پاکستان میں ایک دوسری چیز تھی اتحاد، ( جاری ہے )

از قلم: حافظ محمد قمررضا
المدينة المنورة، سعودي عرب