ہم نے تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار 15 ستمبر سے کھولنے کا اعلان تو کیا ہے تاہم یہ ایک مشکل فیصلہ ہے اور اس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم نے تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار 15 ستمبر سے کھولنے کا اعلان تو کیا ہے تاہم یہ ایک مشکل فیصلہ ہے اور اس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سال کے تعلیمی پالیسی کے تحت ہفتہ کے روز کی تعطیل، موسم سرما کی تعطیلات کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ آئندہ سال موسم گرما کی تعطیلات صرف ایک ماہ جولائی میں ہوں گی۔ سرکاری اور نجی اسکولز کی مانیٹرنگ کے لئے ضلعی اور صوبائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ اس حوالے سے تمام اضلاع کے کمشنرز کو بھی آن بورڈ لیا گیا ہے تاکہ بلدیاتی حوالے سے بھی درپیش مسائل کا حل کیا جاسکے۔ اس سال تعلیمی سال 15 ستمبر سے 15 اپریل تک رہے گا جبکہ آئندہ تعلیمی سال 3 مئی 2021 سے شروع ہوگا۔ نجی اسکولوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت صرف 5 فیصد فیسوں میں اضافے کی اجازت ہوگی البتہ کسی بھی نجی اسکول کو کوووڈ 19 کو لے کر کسی قسم کے اضافی چارجز وصول نہیں کرنے دئیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز محکمہ تعلیم کے اعلیٰ سطحی اجلاس اور بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز باقر نقوی، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم آصف میمن، ڈاکٹر فوزیہ خان اور دیگر بھی موجود تھے۔ قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم کی زیر صدارت صوبے کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈائریکٹرز، آر ایس یو چیف پروگرام مینجر حنیف، ڈی جی پرائیویٹ اسکول منصوب صدیقی سمیت تمام اعلیٰ افسران موجود تھے۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں کو کھولنے سے قبل تمام احتیاطی تدابیر اور جاری کردہ ایس او پیز کو مکمل نافذ کرنے کے حوالے سے تمام افسران کو ہدایات دی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلمی اداروں کو کھلنے کے بعد کرونا سے بچاؤ کے لئے محکمہ تعلیم اور صحت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ بغیر ماسک کے اسکول میں نہ آئے۔ بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ 15 ستمبر سے مرحلہ وار صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو کھولا جارہا ہے، جس کے تحت پہلے فیز میں کلاس نویں سے جامعات تک، دوسرے مرحلے میں 22 ستمبر سے کلاس 6 سے 8 تک جبکہ 28 ستمبر سے پری پرائمری اور پرائمری کلاسوں کو کھولا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے کیونکہ بازار اور مارکیٹوں سمیت دیگر اداروں کے مقابلے تعلیمی اداروں کو کھولنا ایک مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ہمیں یاد رہنی چاہیے کہ اس وقت ملک بھر میں کرونا وائرس کے کیسوں میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اور خدانخواستہ یہ دوبارہ بڑھ بھی سکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ان خدشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں غیر ضروری طور پر احتیاطی تدابیر کو اپنانا ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس بار جب تعلیمی ادارے کھلیں گے تو حالات یکسر مختلف نہ صرف بچوں کے لئے بلکہ اساتذہ اور والدین کے لئے بھی ہوں گے، انہوں نے کہا کہ بڑی کلاسوں کی نسبت ہمیں چھوٹی کلاسوں کے بچوں کو کرونا وائرس سے بچانے کے لئے انتہاہی احتیاط برتنا ہوگا اور جہاں اس میں محکمہ، اساتذہ اور دیگر کو کردار ادا کرنا ہوگا وہاں ان بچوں کے والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ اس سلسلے میں احتیاط کو یقینی بنائیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم اس حوالے سے پرنٹ، الیکٹرونک میڈیا اور ریڈیو کے ذریعے مہم کا بھی آغاز کررہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز کو بھی پھیلایا جائے گا۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی والدین اسکول کے انتظامات سے مطمئین نہ ہوں تو وہ اپنے بچوں کو اسکول نہ بھیجیں اور جو بچے آن لائن تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی یہ کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرونا وائرس کے بعد کلاس 6 سے 12 تک کے لئے مائیکرو سافٹ کے ذریعے آن لائن تعلیم کے لئے بچوں کی آئی ڈی بنانے کا آغاز کیا ہے اور اس وقت تک 13 لاکھ میں سے 5 لاکھ سے زائد بچوں کی آئی ڈیز بنا لی گئی ہیں جبکہ ڈیجیٹل کلاسز کے تحت 2262 اسکولز کو رجسٹرڈ کردیا گیا ہے اور 20997 اساتذہ کی تربیت مکمل کرلی گئی ہے اور یہ پروگرام آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی مانیٹرنگ کے لئے میں خود بھی صوبے بھر میں وزٹ کروں گا جبکہ ہمارے سیکرٹریز اور ڈائریکٹرز بھی مختلف اضلاع میں دورے کریں گے اور صورتحال کو مانیٹر کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم نے ڈپٹی کمشنرز کی زیر نگرانی مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جس میں ڈی ای او، ڈی ایچ او،آر ایس یو، تعلمی افسران اور سول سوسائٹی کے افراد شامل ہوں گے اس کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ تمام اضلاع کے کمشنرز جو کہ اس وقت ان اضلاع کے ایڈمنسٹریٹرز بھی ہیں ان کی بھی کمیٹی بنادی گئی ہے تاکہ کوئی بلدیاتی اشیو ہو تو اس کو بھی حل کیا جاسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس سال تعلیمی سال 15 ستمبر سے 15 اپریل 2021 تک ہوگا اور اس دوران تمام کلاسز کے نصاب میں کمی کردی گئی ہے جبکہ کلاس 4 سے 8ویں تک کے سالانہ امتحانات 12 اپریل سے، کلاس پہلی تا 3 تک کے امتحانات اور ان کو اگلی کلاسوں میں ترقی کا عمل 19 اپریل 2021، نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات 7 سے 17 اپریل 2021 اور کلاس 11 اور 12 ویں کے امتحانات 18 مئی سے 29 مئی 2021 تک منعقد ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگلے سال تعلیمی سال 3 مئی 2021 سے شروع ہوگا اور موسم گرما کی تعطیلات کو جولائی 2021 کے ایک ماہ تک محدود کردیا گیا ہے جبکہ اس سال ہفتہ کے روز کی تعطیل اور موسم سرما کی تعطیلات ختم کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلاس 9 ویں 12 ویں تک کا آئندہ سال کا تعلیمی سال اگست 2021 میں شروع ہوجائے گا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب کے بعد جن اسکولز کو ریلیف کیمپ بنایا گیا ہے اس حوالے سے رپورٹ مرتب کی جارہی ہے اور ان اسکولوں کو فوری طور پر نہیں کھولا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو ماسک، ہینڈ سینیٹائزرز اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے یونیسف، ڈبلیو ایچ او اور دیگر ادارے سامان کی فراہمی کررہے ہیں البتہ یہ ممکن نہیں کہ تمام اضلاع اور اسکولز میں یہ سامان میسر ہوسکے اس کے لئے ہم نے ان اسکولز کی ایس ایم سی فنڈز سے صرف کرونا کے حوالے سے سامان کی خریداری کی اجازت دی ہے جبکہ جن اسکولوں میں ہاتھ دھونے کے لئے موبائل ہینڈ واش باتھ روم بھی فراہم کریں گے۔