جب جب پاکستان میں تیل تلاش کیا گیا امریکی اثر رسوخ پر کام رکوا دیا گیا

پاکستان آٹھ ارب ڈالر سے زائد کا تیل خریدتا ہے 60 لاکھ ٹن تیل عرب ملکوں سے آتا ہے ۔

پاکستان میں بجلی بنانے سے لے کر مختلف صنعتیں چلانے کے لیے درآمدی تیل پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تیل کا درآمدی بل بھی بڑھ رہا ہے 8 ارب ڈالر سے زائد کا تیل خریدا جا رہا ہے جس میں سے 60 لاکھ ٹن تیل تو صرف دوست عرب ملکوں سے آتا ہے جبکہ پاکستان میں موجود تمام آئل فیلڈز سے ستاسی ہزار بیرل یومیہ تیل حاصل ہوتا ہے پاکستان میں تیل کی تلاش کا کام پچاس کی دہائی سے شروع کیا گیا انیس سو باون میں سوئی کے مقام پر جب گیس کے وسیع ذخائر ملے تو اس کے قریب تیل کے ذخائر کا پتہ بھی لگایا گیا پھر ایوب خان کے دور میں سوویت یونین کے تعاون سے بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں تیل کی تلاش شروع کی گئی لیکن امریکی اثر رسوخ پر کام روک دیا گیا ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تیل کی تلاش بھی شروع ہوئی ڈھوڈاک فیلڈ سے تیل ملا لیکن ناکافی تھا اب تیل کے ذخائر ملنے کی خبریں آ رہی ہیں کہ سمندر سے تیل تلاش ہو رہا ہے جن میں سابق وزیر پیٹرولیم چوہدری نثار علی خان اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف عوام کو بہلایا جا رہا ہے اتنے بڑے ذخائر کی کوئی حقیقت نہیں ہے پھر بھی دعا کی جا رہی ہے کہ اللہ کرے کہ سمندر سے تیل مل جائے اور پاکستان کا موجودہ بحران ختم ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں