‎قیصر محمود کی یاد میں

‎تحریر۔عارف الحق عارف

‎ہم سو کر اٹھے تو یہ افسوس ناک خبر افسردہ کر گئی کہ ہمارے دوست اور کم و بیش چار عشروں کے ساتھی اور کراچی کے صحافیوں کے “ بڑے بھائی”سینئر صحافی قیصر محمود بھی اللہ تعالی کی رحمت میں چلے گئے ہیں۔ان کے انتقال پر ملال سے ہم ایک بہترین دوست، سچے،کھرے اور بے باک صحافی سے محروم ہوگئے اللہ تعالی ان کی لغزشوں سے در گزر کرےاوران کو جنت الفردوس کے اعلی ترین مقام پر فائزکرے۔ آمین
‎یار قیصر بھائی، اتنی بھی کیا جلدی تھی کہ آپ ہم سب کو سوگوار چھوڑ کر دور۔ بہت دور چلے گئے ہیں۔

‎قیصر محمود کافی عرصے سے علیل تھے لیکن اسپتال میں داخلے کی نوبت نہ آئی تھی۔ ہم کبھی کبھی ان کی خیریت پوچھ لیتے یا دوستوں سے معلوم کر لیتے تھے، اکثر ہمایوں نقوی یا شاہد اسلام رشی کے گھر دوستوں کے گٹھ جوڑ کی محفلوں میں نظر آجاتے جو سید منور حسن یا بیرون ملک سے کراچی آنے والے پرانے دوستوں کے اعزاز میں منعقد ہوتیں۔ چند ہفتے قبل ان کی طبیعت خراب ہو ئی تو افسر عمران بھائی اور ہمایوں عزیز بھائی کا فون آیا کہ قیصر محمود شدید علیل ہیں اور اسپتال میں داخل ہونا چاہتے ہیں لیکن اسپتال والے داخلے سے پہلے پیشگی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں چوں کہ وہ جیو کے مستقل ملازم نہیں اس لئے مشکل پیش آرہی ہے، آپ انتظامیہ سے بات کر کے اس مسئلے کو حل کرائیں۔ہم نے جیو کے ڈائرکٹر ایچ آر زیڈ اے (ذوالفقار علی ) سے بات کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ “ ہم قیصر بھائی کی علالت سے باخبر ہیں اور ان کے معاملے کی دیکھ بھال کےلئے ایک افسر معراج خالد کو اس کام کے لئے متعین کردیا ہے اور یہ کہ میرا رابطہ ان کے بھتیجے سے بھی ہے ان کے علاج میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی” ہم نے قیصر بھائی کو فون کیا تو ان کے بھتیجے نے ان سب باتوں کی تصدیق کی اور کہا کہ اب مسئلہ حل ہو گیا ہے اور ہم انہیں اسپتال منتقل کر رہے ہیں۔
‎اللہ کی شان دیکھیں کہ وہ کرونا جیسی مہلک وبا سے اللہ تعالی کے فضل سے روبہ صحت ہو گئے تھے پھر ان کو ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہوئی تو ڈاکٹر ظفر اقبال سے علاج کرایا جس سے کچھ افاقہ ہوا تو پتہ چلا کہ ان کو تو خون کا سرطان ہے جس کا ان کو علم نہیں تھا اس کا علاج ہو ہی رہاتھا کہ ان کا اس فانی دنیا میں وقت پورا ہو گیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔بے شک ہم اللہ کے لئے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی باری پر اپنے رب کے حضور ضرور پیش ہونا ہے۔

‎قیصر محمود کی پہچان ایک بے باک، کھرے،اصولی اور خود دار صحافی کی تھی۔ وہ جس بات یا موقف کو درست سمجھتے ، نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس کا اظہار کر دیا کرتے تھے۔چاہے مخالف کوئی بڑا وزیر،رشتہ دار یا اپنا بہترین دوست اور اخباری مالک ہی کیوں نا ہو۔ وہ کسی شخص یا دوست کا احسان لینا بھی کبھی گوارا نہیں کرتے تھے۔اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے سے انہوں نے بڑے بڑے نقصانات بھی برداشت کئے لیکن کبھی اپنی اس عادت اور رویے پر سمجھوتا نہیں کیا۔وہ ان وجوہ کی بنا پر بے روزگاری کا عذاب بھی برداشت کرتے رہے۔ادریس بختیار بھائی جیو کی ایڈیٹوریل کمیٹی کے سربراہ بنے تو انہوں نے کچھ عرصے بعد اپنے اس دوست کو بھی اپنی مختصر ٹیم کا حصہ بنا لیا جس میں جاوید حسن قیصر جیسا اردو اور انگریزی کا کہنہ مشق صحافی اور افسانہ نگار بھی شامل تھا۔وہ آخر تک اس ٹیم کا حصہ رہے۔ قیصر محمود نظریاتی صحافی تھے اور اسلام پسند صحافیوں کا ایک بڑا نام تھے لیکن ان کی دوستیاں سب کے ساتھ تھیں اور انہوں نے کبھی ان نظریات کو دوستیوں اور بھائی چارے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔صحافیوں میں وہ بڑے بھائی کے نام سے مشہور تھے۔وہ اس کے بجا طور پر مستحق بھی تھے کہ وہ سب صحافیوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ صف اوّل میں رہتے اور ان کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کرتے۔ وہ بستر مرگ پر بھی صحافیوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کو نہیں بھولے اور انتقال سے قبل اسپتال سے صحافیوں کے نام ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا۔جو لنک میں سنا جا سکتا ہے۔اس سے صحافیوں کے لئے ان کی فکر اور تشویش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ پیغام اکھڑتی ہوئی سانسوں کے ساتھ بڑی مشکل سے ریکارڈ کیا ہے۔جس سے ان کی صحافیوں کےمسائل اور حقوق کے ساتھ کی ان کی تشویش کا بخوبی احساس ہوتا ہے ہم آپ کی سہولت کے اس پیغام کا متن لکھ دیتے ہیں۔

‎میرے صحافی دوستو۔ السلام علیکم
‎میں آپ کا دیرینہ صحافی، رپورٹ قیصر محمود اس وقت علیل ہوں اور اس وقت ایک اسپتال میں زیر علاج ہوں۔ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں جس طرح کی رپورٹنگ میں نے شہر میں دیکھی وہ ماضی کی رپورٹنگ سے مختلف نہیں تھی لیکن اب یہ مقابلے کی ایک ایسی فضا میں داخل ہوتی جارہی ہے جہاں لوگوں کی خاص طور ہر کیمرہ مین اور رپورٹرز کے لئے جانوں کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ ان کے لئے حفاظتی ابتظامات نہیں ہیں اور ان سے مشکل کام لئے جارہے ہیں۔ آج ایک واقعہ ہوا ہم ٹی وی چینل کے رپورٹر عرفان اور کیمرہ پرسن کاشف جس طرح سے بچے ہیں مرتے مرتے۔ اللہ کا کرم ہوا۔ میری دو درخواستیں ہیں ایک اپنے صحافتی دوستوں اور کیمرہ مین ساتھیوں سے کہ وہ خود حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں اور کوئی ایس رسک نہ لیں جس سے ان کی جان جانے کا خطرہ ہو۔ مشکل حالات میں رپورٹنگ کے تقاضے ہیں۔ اسکا خیال رکھیں۔ آپ فائرنگ والے علاقے میں جاتے ہیں تو ضرور جیکٹ پہن لیتے ہیں۔ لیکن ایسے علاقوں میں جہاں پانی ہو کرنٹ ہو،وہاں پر جانے کے لئے آپ کے پاس انتظامات نہیں ہیں اور نا ہی ادارہ کرنا چاہتا ہے۔ ڈیسک پر جو سینئر ز بیٹھے ہوتے ہیں ان کا رپورٹرز اور کیمرہ مینوں پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اکثر جان پر کھیل جاتے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے تو میں اپنے صحافی دوستوں سے خصوصا” رپورٹروں اور کیمرہ مینوں سے درخواست ہے کہ وہ خود ایسی کوششوں سے گریز کریں جو ان کی جانوں کے لئے خطرہ بنتے ہیں۔اداروں ڈیسک پر بیٹھے لوگوں سے دباؤ آئے گا لیکن اس کی مزاحمت بھی ضروری ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ جو اداروں میں سینئر ہیں اور ڈیسک پر ہیں وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ فیلڈ میں کام کرنے والوں کے لئے کچھ کر سکیں تو ان کو چاہئیے کہ وہ ان رپورٹروں اور کیمرہ مینوں پر ایسا دباؤ نہ ڈالیں کہ جس سے ان کی جانوں کو خطرہ ہو جائے۔ پھر تنظیمیں مل کر اداروں کو مجبور کریں کہ وہ مختلف حالات اور ماحول میں کام کرنے کے لئے جس گیئر کی جن سہولتوں کی ضرورت ہے وہ باہر بھیجنے سے پہلے اپنے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کو وہ سامان فراہم کریں۔ اس کے لئے بغیر ڈرے ایک تحریک لانے کی ضرورت ہے یہ زندگیوں کا معاملہ ہے مذاق نہیں ہےیہ اسکرین کو زندہ رکھنے یا اپنے آپ کو دوسروں سے نمایاں دکھانے کی کوشش میں جانوں سے کھیلنا کوئی معقول بات نہیں ہے۔ شکریہ۔