مجبوراً ۔ ۔ ۔ ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیوز فِیڈ میں معمول کے مطابق رونا دھونا ، سطحی جذباتیت سے لبریز جملے ، عجیب و غریب تجزیے ، کھوکھلے مشورے ( اللہ جانے کس کو ) ختم ہونے میں نہیں آ رہے ۔
بہت سی پوسٹیں اس جملے کے ساتھ شروع یوتی ہیں کہ “” اِس ملک میں عورت اکیلی گھر سے باہر نہیں جا سکتی ۔۔۔۔۔ اس ملک میں بچے گھر سے باہر کھیل نہیں سکتے ۔۔۔۔۔ اِس مُلک میں فلاں فلاں فلاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
درج بالا سب کچھ دُنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے ۔ کتنا ڈیٹا درکار ہے ؟
چلو منظم ترین ریاست اسرائیل میں ماضی قریب ترین میں ایک پندرہ یا سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ سولہ سے بیس عدد لڑکوں کی قطار میں لگ کر اجتماعی زیادتی کا کیس ہی سرچ کر لیں ۔
۔۔۔
تو بھائی دُنیا بھر کے ہر ملک میں ہر طرح کا جُرم ہوتا ہے ۔
تو پھر پاکستان باقی دنیا سے مختلف کیوں ہے ؟؟
مختلف تو ہے بہرحال !!!
لیکن کہیں بھی کسی بھی پوسٹ میں اس انفرادیت کا ذکر پڑھنے کو نہیں ملا ۔
وجہ بھی بہت کڑوی ہے ۔
یہ انفرادیت نظام یا ان درندہ صفت مجرموں سے متعلق نہیں ۔
یہ میرے متعلق ہے اور آپ کے متعلق ہے ۔
جی ہاں ہمارے متعلق ، ہم سب اصل میں پاکستانی قوم ہیں اور مجموعی اعتبار سے ہم ” بے حس اور بے غیرت ” قوم ہیں ۔
مجھے پورے پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایک مثال نہیں ملتی کہ ” کسی عوامی مسئلے ” پر قوم کراچی تا خیبر سڑکوں پر نکلی ہو ۔
عوامی مسئلے ، سیاسی مسئلے اور عقیدے کے مسئلے کا فرق سمجھنا ضروری ہے ۔
کون کون سے سانحات گنواؤں ، سب کچھ آپ کے سامنے ہے ۔
ہائی پروفائل مجرموں کی دیت کے نام پر رہائی ( ایک طویل فہرست ہے ) ، جعلی پولیس مقابلے ( ایک طویل فہرست ہے ) ریاست کی سرپرستی میں قتل عام ( بارہ مئی ) لوگوں کو بالائے قانون لاپتہ کرنے کی روایت ، بلدیہ فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے کی کاروائی ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ

ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کے خلاف ، قانون میں ایک عدد ترمیم کا اعلان ہوتا ہے تو اگلے دن لاکھوں لوگ چھتریاں تانے ریاست کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سڑکوں پر نظر آتے ہیں ۔
شام میں چار بچوں کو حکومتی سیکورٹی ادارے حکومت کے خلاف دیوار پر نعرے لکھنے کے جرم میں اسکول سے اٹھاتے ہیں تو ملک شام میں ایسی بغاوت ہوتی ہے کہ جس کی حال اور ماضی قریب میں کوئی مثال ہی نہیں ۔
امریکہ میں ایک ہٹے کٹے کالے کو پولیس سرعام قتل کرتی ہے تو مہینے گزرتے جا رہے ہیں لیکن محکمہ پولیس کے خلاف لگنے والی آگ بجھنے میں نہیں آ رہی ۔۔۔۔ الغرض درجنوں قوموں کی مثالیں موجود ہیں ۔
یہ آپ جسے “” تبدیلی “” کہتے ہیں اگر یہ تبدیلی ہے تو یہ انسانی تاریخ کی پر امن ترین تبدیلی ہے جس کو لانے کے لیے نہ کوئی جیل گیا نہ نظام کی طرف سے کوئی مزاحمت ہوئی ۔
یہ ویسی ہی تبدیلی ہے جیسے ہم ہیں ۔ یعنی ہم جیسی بے غیرت سی تبدیلی ۔
اپنے آپ کو آئینے میں دیکھنا بہت مشکل کام ہے ۔
ایک دو دن اداس رہ کر پھر وہی معمول کی چھچھوری پوسٹیں اور گھٹیا لطیفے رواں دواں ہوں گے ، میری وال پر بھی اور آپ کی وال پر بھی ۔
جو قوم “” سانحہ ساہیوال “” کو بھول سکتی ہے اور معمول پر واپس آ سکتی ہے ، وہ زیادہ دیر کسی دوسرے سانحے کو یاد رکھ ہی نہیں سکتی ۔
بطور فیشن ٹیں ٹیں کرنے والوں کو ان فرینڈ کیے جا رہا ہوں ،
میں بھی بے غیرت ہی ہوں لیکن اب اپنی بے غیرتی تنہائی میں سیلیبریٹ کرنے کی عادت سی ہوتی جا رہی ہے ۔
دائیں بائیں موجود ، رونے دھونے والی نر اور مادہ تمام مخلوق سے صدہا معذرت !!!