شانگلہ: محض 3 لاکھ روپے کا انقلاب


فاطمہ امجد
——————-
عوامی فلاح کے منصوبوں پر آپ کو حکومتی عہدیدار بڑی بڑی رقموں کا ذکر کرتے نظر آئیں گے۔ 1400 ارب روپے کا بھاشا ڈیم، 100 ارب کی میٹرو اور اسی طرح کے دیگر میگا پراجیکٹس کا ذکر اس ضمن میں کیا جاتا ہے کہ اتنی بڑی رقم لگے گی تب ہی ملک کی تقدیر بدلے گی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بڑے شہروں کے بڑے منصوبے ترقی میں مدد دیتے ہیں مگر پاکستان جیسا ملک کا 63 فیصد علاقہ دیہی ہے وہاں پر دیہی علاقوں کی ترقی پر نظر ڈالنا اور بھی ضروری ہے۔ دیہی علاقوں پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ ان دیہی علاقوں کی ترجیحات ہی بالکل مختلف ہیں۔ وہاں 100 ارب کی میٹرو نہیں، 2 لاکھ روپے کی پگڈنڈی ہی معاشی انقلاب لا سکتی ہے۔

ایسی ہی کہانی خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کی ہے جہاں کروڑا کے علاقے میں دیہی مرکز صحت کو بجلی فراہم کرنے والا ٹرانسفارمر 2013 میں جل گیا تھا۔ ویسے تو ٹرانسفارمر جلتے رہتے ہیں مگر یہ مخصوص ٹرانسفارمر مرکز صحت کو بجلی فراہم کرتا تھا۔

بجلی نہ ہونے سے مرکز کی مشینیں جس میں الٹرا ساؤنڈ، ایکس رے مشین، دندان سازی کے آلات اور حتیٰ کہ پانی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی تھی۔ ٹرانسفارمر جل جائے تو شہری علاقوں میں عموماً دو تین شکایتوں کے بعد نیا ٹرانسفارمر لگا دیا جاتا ہے مگر دیہی علاقوں میں یہ سہولت نہیں۔ تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔

کروڑا کے مکینوں نے تگ و دو بھی کی۔ دیہی مرکز کے ملازمین نے بھی عرضیاں بھیجیں مگر بے سود۔ بابوؤں سے کام کروانا بہت مشکل ہے۔

کروڑا کے مکینوں کے لیے دیہی مرکز صحت میں موجود مشینوں کی بہت ضرورت تھی کیوں کہ ان مشینوں کے نہ ہونے کی وجہ سے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ ایک خاتون نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ڈاکٹر کی جانب سے الٹراساؤنڈ کرنے کے کہنے کو میں ہمیشہ ٹالتی رہی کیوں کہ دیہی مرکز میں بجلی نہ ہونے کے باعث مجھے سوات جانا پڑنا تھا جس سے خرچہ بھی زیادہ ہوتا اور وقت بھی صرف ہوتا۔‘

جہاں کچھ لوگوں نے خرچے کی تنگی اور سفر کے ڈر سے علاج ترک کیا وہاں کئی افراد سوات بھی جاتے تھے جو کہ ان کی جیب پر نہایت بھاری ہوتا تھا۔ ٹرانسفارمر کی کل لاگت تھی مگر اس کے نہ ہونے سے شاید علاقہ مکین اس سے زیادہ مالیت کا نقصان اپنی صحت کے ذریعے اور سفری اخراجات کے ذریعے کر چکے تھے۔

مرکز صحت کا ٹرانسفارمر جلے پانچ سال گزر گئے۔

پھر وہاں کی ایک مقامی فلاحی تنظیم نے 2018 میں کھلی کچہری کے ذریعے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں ٹرانسفارمر کی درخواست کی گئی تھی۔ علاقہ مکینوں نے اس قرارداد پر دستخط کیے اور قرارداد اعلی انتظامیہ عہدیداران کے پاس لے گئے۔

عموماً درخواستیں سرکار کی ردی کی ٹوکری میں جاتی ہیں مگر یہ قرارداد مختلف تھی۔ مختلف اس لیے تھی ایک اس پر بڑی تعداد میں مقامی افراد کے دستخط درج تھے۔ ایسے میں انتظامیہ کے پاس درخواست کو نظر انداز کتنا یا ٹوکری کی نذر کرنا مشکل تھا۔

قرارداد کے اثر کو جانتے ہوئے مقامی انتظامیہ حرکت میں آئے اور یوں نئے ٹرانسفارمر کی اپروول ہوئی اور ہفتوں میں نیا ٹرانسفارمر لگا بھی دیا گیا۔ اور یہ ٹرانسفارمر کروڑا کے مکینوں کے لیے انقلاب سے کم نہیں تھا۔

محض تین لاکھ روپے سے علاقے کی تقدیر بدل گئی۔ مگر ابھی بھی ہماری فیصلہ ساز میگا پراجیکٹس کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔ ضرور راگ الاپیں اور میگا پراجیکٹس بھی لگائیں مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ 63 فیصد پاکستان کی تقدیر سنوارنے کے لیے اربوں کے منصوبوں نہیں، چند لاکھ روپے بھی کافی ہو سکتے ہیں۔
—–from-humsub-pages