پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی شاہنواز جدون نے وفاقی حکومت اور نیب سے اپیل کی ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کو جاپانی کمپنی جائیکا

پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی شاہنواز جدون نے وفاقی حکومت اور نیب سے اپیل کی ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کو جاپانی کمپنی جائیکا کی جانب سے مفت بنانے کے منصوبے کو آج سے 30 سال پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے سبوتاژ کرنے پر ان کا احتساب کیا جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے،تاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی ماضی ہونے والی کرپشن سے کراچی کے عوام کو بھی آگاہی ہو کہ کمیشن کے خاطر انہوں نے کراچی کیلیئے جاپانی کمپنی کا مفت منصوبہ خاک میں ملا دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم جب کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت دنیا کی کرپٹ ترین حکومت ہے تو ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں یہ تو بینظیر بھٹو دور کا منصوبہ تھا جو کرپشن کی نظر ہو گیا اب جو یہ کرپشن کر رہے ہیں، گردن تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں جس پر کراچی، سندھ اور پورے ملک کے لوگ الامان الحفیظ کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیب کراچی سرکلر ریلوے کے جاپانی کمپنی جائیکا کے مفت منصوبے کو ناکام بنانے کا کڑا احتساب کرے تو اس سے پاکستان کے عوام کو ابو بچاو مہم میں نکلنے والی چیخوں کا مقصد بھی سمجھ میں آجائے گا،بالخصوص کراچی کے عوام کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ پیپلز پارٹی کا مقصد صرف کرپشن کے ذریعے پیسے بنانے اور ان سے سرے محلات اور دبئی محلات بنانا ہیں جو لاڑکانہ میں سرے محل 2 سہیل انور سیال پہلے ہی بنا جکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی کرپشن کیلیئے وہ کراچی اور سندھ کے عوام کو دلدل میں بھی دھکیلنے سے باز نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ جائیکا کمپنی کا یہ منصوبہ ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوا تھا جس کی فیزیبلیٹی بھی بن چکی تھی لیکن جب ضیاءالحق نہیں رہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت 1988 میں قائم ہوئی تو اس منصوبے پر کام شروع ہونا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے ایک اہم عہدیدار نے جائیکا پاکستان کے چیئرمین مرحوم اجمل فاروقی کے پاس پہنچے اور ان سے اپنے کمیشن کی بات کی جس پر جائیکا کمپنی نے اپنا مفت کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ ترک کر دیا جس کی اطلاع اس وقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو بھی دے دی گئی تھی۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ نیب اس منصوبے کی تحقیقات کرائے تو پیپلز پارٹی کی کرپشن عوام کے سامنے آجائے گی کہ یہ اتنے بے رحم ہیں کہ فری عوامی منصوبے کو بھی اپنی کرپشن کی نظر کر دیا۔
———-

قائم علی شاہ کے 1988 کے دور میں جاپان کی جائیکا کمپنی نے کراچی سرکلر ریلوے فری میں بنانے کی آفر کی تھی۔سابق میئر کراچی ایس ایم توفیق کے بیٹے آصف توفیق جاپانی کمپنی کے ساتھ سرمایہ لگا رہے تھے٫لیکن حسب معمول پیپلز پارٹی نے اپنی روایت کے مطابق کمیشن مانگا جس پر جائیکا کمپنی کراچی سرکلر ریلوے سے دستبردار ہو گئی۔
جائیکا جاپان کے کراچی کے چیئرمین اجمل فاروقی مرحوم اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ میرے پاس نثار کھوڑو آئے تھے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ فری KCR بنائیں یا کچھ اور لیکن ہمارے کمیشن کا کیا ہو گا؟.
اجمل فاروقی مرحوم کہتے ہیں کہ میں نے اس کی اطلاع کمپنی کو بھی کی اور بینظیر بھٹو کو بھی بتائی کہ کمیشن مانگنے کی اطلاع پر جائیکا کمپنی KCR کے منصوبے سے دستبردار ہو گئی ہے۔یہ منصوبہ فری آف کاسٹ کمپنی بنا رہی تھی لیکن کمیشن مانگنے یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا۔۔۔۔———

طاہر سومرو کراچی ماس ٹرانزٹ پروگرام کے اس وقت ڈائریکٹر تھے