ہمارا گلا سڑا قانون اور معاشرہ

بہت دکھ ہوا جب یہ خبر نشر ہوئی
اصل میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں قصور وار کون ہے ؟
ہمارے ملک میں نوجوانوں کی تعداد دوسرے ملکوں سے زیادہ ہے
اور جب نوجوان پڑھ لکھ جاتے ہیں تو نوکری نہیں ملتی کیونکہ ان کے پاس نوکری حاصل کرنے کے لئے رشوت کے لیے پیسہ نہیں ہوتا اور چھوٹا سا کاروبار کرنے کے لیے بھی پیسہ نہیں ہوتا
تو یہ نوجوان فارغ رہ کر غلط کاموں کی طرف چلے جاتے ہیں کیونکہ فارغ وقت میں پورن ویڈیوز دیکھتے ہیں اور پھر ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی بھی اسی وجہ سے ہوتی ہے کچھ عرصہ سے پاکستان میں xxx videos دیکھنے میں پاکستان نمبر 1 پر ہے اس میں لڑکیوں کی بھی تعداد شامل ہے 2020 میں بھی پاکستان نمبر 1 پر ہے
افسوس ہے ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہے لیکن لوگ دین سے دور ہیں اگر یہ کہا جائے ہمارے زیادہ تر لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا
دوسرا ہمارا عدالتی نظام گلا سڑا ہے اور پولیس جو عوام کی چوکیدار ہے بالکل فارغ ہے وزیراعظم عمران خان کو چاہیے سب پولیس والوں کو فارغ کر کے نوجوانوں کو جاب دی جائے اور آرمی کے ریٹائرڈ آفسر کے نیچے کام کروایا جائے
جو کام ٹھیک طرح نہ کرے یا رشوت لے اسے اسی وقت نوکری سے فارغ کر دیا جائے۔

ناصر خان،