وہاب ریاض نے آلو والے پراٹھے اور قیمے والے نان کھانے شروع کر دیئے

پاکستان کرکٹ ٹیم نے دورہ انگلینڈ میں سات ہفتے بائیو سیکور ماحول میں گزارے جو کہ آسان نہیں تھا، کھلاڑی صرف ہوٹل اور گراؤنڈ تک محدود رہے، انہیں گھومنے پھرنے کے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی حالانکہ انگلیند میں قومی کرکٹرز بہت ریلیکس رہنے کے عادی ہیں لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں تھا۔

کھلاڑیوں کو کوویڈ 19 کی وجہ سے غیر معمولی حالات میں رہنا پڑا، ‏ قومی کرکٹرز سات ہفتے غیر معمولی حالات میں گزارنے کے بعد جب پاکستان واپس اپنے گھروں میں آئے تو جس چیز کو اُنہوں نے زیادہ مِس کیا وہی کام پہلے کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت خوش ہیں
بائیں ہاتھ کے فاسٹ بالر وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہاں انگلینڈ میں وقت گزارنا مشکل تھا یہ ایک مشکل ٹور تھا لیکن اب گھر واپس آ چکا ہوں اور انجوائے کر رہا ہوں ۔

وہاب ریاض نے کہا کہ وہ طرح طرح کے کھانے کھا رہے ہیں، وہ کبھی آلو والے پراٹھے کھا رہے ہیں تو کبھی قیمے والے نان۔

وہاب ریاض نے بتایا ہے کہ فیملی کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں، بچوں کے ساتھ کھیل کود کر رہا ہوں اور فیملی کے ساتھ ریسٹورانٹس میں آئس کریم اور کافی پینے جا رہا ہوں ۔

‏لیگ اسپنر شاداب خان نے کہا کہ لمبے عرصے کے بعد انگلیند سے واپسی ہوئی اور زیادہ سے زیادہ وقت فیملی کے ساتھ گزارا ہے اور خوب انجوائے کیا ہے۔
شاداب خان نے کہا کہ حارث رؤف اور محمد موسیٰ کے ساتھ سیر کے لیے مری چلے گئے ہیں، قدرتی نظارے دیکھے ہیں اور خوب لطف اندوز ہوئے ہیں۔

‏ ڈبیو ٹی ٹونٹی میچ میں ہی اپنی صلاحیتوں کے بھرپور جوہر دکھانے والے نوجوان حیدر علی نے کہا کہ جب سے واپسی ہو ئی ہے فیملی ، فرینڈز اور فینز کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، فرینڈز اور فینز گھر ملنے کے لیے آتے رہے، تین چار روز میرے لیے بہت مصروف تھے ۔

‏حیدر علی نے کہا کہ اب میں پلان بنا رہا ہوں کہ اپنی فیملی کے ساتھ چار پانچ روز گھومنے پھرنے کے لیے جاؤں