کراچی پیکیج عمل درآمد کمیٹی کا اجلاس بلا کر عملی اقدا مات کا آغاز کیا جائے ۔ کراچی پیکیج پرسیاسی پارٹیوں کی محاذآرائی ، الزام تراشی افسوسناک ہے ۔ پچاس ہلاکتیں اور اربوں روپے کا نقصان بھی سنجیدہ نہ کر سکا ۔ میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی حالت قدرے بہتر ہو رہی ہے اور ملکی معیشت کے استحکام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر نکتہ چینی انتہائی تشویشناک ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی کی تعمیر و ترقی کے لئے1100 ارب روپے کے پیکیج کے اعلان کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھڑا کر تے ہوئے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر دی ہے جس نے اس پیکیج کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جبکہ عوام اور کاروباری برادری جنھیں وزیر اعظم اور آرمی چیف نے حالات بہتر ہونے کا یقین دلایا گیا تھا ایک بار پھر مستقبل کے اندیشوں میں گھر گئے ہیں ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ چند روز قبل ہی مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اختلافات بھلا کر کراچی اور ملک بھر کی ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا جس سے عوام اور سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو تمام ا سٹیک ہولڈرز پر مشتمل پراونشل کوآرڈینیشن امپلی مینٹیشن کمیٹی کا سربراہ بھی مقرر کر دیا تھا جس سے عوام کراچی کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے پُرامید ہو گئے تھے ۔ انھیں امید تھی کہ بارشوں سے 50 کے قریب جانوں کے ضیاع اور اربوں روپے کے نقصانات کے بعد سیاسی قیادت سنجیدہ ہو گئی ہے اور اب پانی، بجلی ، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، تجاوزات اورٹرانسپورٹ وغیرہ کے مسائل حل ہو جائیں گے مگر انکی توقعات پر مختلف شراکت داروں کی منفی بیان بازی سے ضرب پڑی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سیاستدان عوام کی جان و مال بچانے کی فکر کریں اور قومی خزانے کو65 فیصد سے زیادہ محاصل فراہم کرنے والے شہر کو معمولی سیاسی فوائد کے لئے یتیم خانہ نہ بنائیں بلکہ اس شہر کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے سیاسی معاملات سے بالا تر ہو کر کام کرکے ایک اچھی مثال قائم کریں تاکہ شہر کو بہتر بنانے کا آخری موقع ضائع نہ ہو جائے،عوام اور اسٹیک ہولڈرز کوشکوک میں مبتلا ہونے سے بچانے کےلئے عمل درآمد کمیٹی کا اجلاس بلا کر عملی اقدا مات کا آغاز کیا جائے ۔