67

تعلیم اور فیس کے نام پر لوٹ مار بند کی جائے ۔ والدین کا مطالبہ

شہریوں کی جانب سے ایسے احتجاجی بینرز سامنے آگئے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے کہ تعلیم اور فیس کے نام پر لوٹ مار بند کی جائے ۔پرائیویٹ اسکولوں سے کاپیاں کتابیں اور اسٹیشنری بیچنے کا عمل بند کیا جائے کیونکہ اس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ گئی ہے وہ کاپی جو مارکیٹ میں 40 روپے میں دستیاب ہے اسے اسکول کا مونوگرام لگا کر 140 روپے میں بیچا جاتا ہے سارا بوجھ والدین پر آتا ہے والدین اپنے بچوں کے لیے اسکولوں کی مہنگی فیسیں اور مہنگی اسٹیشنری کیسے فراہم کریں حکومت محکمہ تعلیم اس جانب فوری توجہ دے ۔تبدیلی سرکار ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کی بات کرتی رہی ہے تمام سیاسی وجماعتیں بھی نظام تعلیم کو بہتر بنانے پر زور دیتی ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد یہی سیاسی جماعتیں اپنی ترجیحات بدل لیتی ہیں ۔احتجاجی بینرز پر لکھا گیا ہے تعلیم اور فیسوں کے نام پر لوٹنا بند کیا جائے تعلیم کے نام پر دھندہ کیا جا رہا ہے اسے روکا جائے ۔اسکولوں کو مہنگی کاپیاں کتابیں اور اسٹیشنری فروخت کرنے سے روکا جائے ۔سرکار صرف کتابیں ہی نہیں کاپیاں بھی مفت فراہم کرے سردار اعلان تو کرتی ہے کہ کتابیں مفت ملیں گی لیکن بچوں کو کتابیں مفت نہیں ملتی خریدنی پڑتی ہیں سرکاری کتابوں کی چھپائی اور اربوں روپے کے فنڈ سے ان کی تقسیم کے معاملے کو نیب کب دیکھے گی ۔درسی کتب کاپیاں اور اسٹیشنری اتنی مہنگی ہے کہ والدین کے لئے ان کو خریدنا ایک درد سر بن چکا ہے ۔بیلنس کے مطابق جو کاپی مارکیٹ میں 40 روپے میں دستیاب ہے اسے اسکول کا مونوگرام لگا کر 140 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے ۔یہ کھلی بدمعاشی ہے دھوکا ہے لوٹ مار ہے اس کا سدباب ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں