وزیر اعظم عمران خان نے انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر کو تبدیل کردیا

وزیر اعظم عمران خان نے انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر کو تبدیل کردیا،جس کے بعد پولیس سروس گریڈ 21کے انعام غنی نئے آئی جی پنجاب تعینات کردیئے گئے ،اسٹیبلمشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا،انعام غنی جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے پر تعینات تھے ۔تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب شعیب دستگیر اور نئے تعینات ہونے والے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کے درمیان تنازعہ نیا رخ اختیار کرنے کے بعد حکومت نے آئی جی پنجاب کو ان کے عہدسے سے ہٹا دیا جبکہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ اپنا کام جاری رکھیں گے ۔ بتایا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور وہ احتجاجاًگزشتہ روز بھی اپنے دفتر نہیں آئے تھے ۔پنجاب اور لاہور پولیس کے کمانڈرز کی سرد جنگ سے ماتحت افسر تذبذب کا شکار تھے جس کی وجہ سے حکومت نے معاملات کو انتہائی نہج پر پہنچنے سے قبل آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ۔
ادھر پنجاب میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے بعدنیا تنازع کھڑا ہوگیا،ایڈیشنل آئی جی پنجاب طارق مسعود یاسین نے نئے آئی جی پنجاب انعام غنی کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیا،طارق مسعود یاسین نے تحریری مؤقف اختیار کیا کہ نئے آئی جی میرے جونیئر ہیں ان کے ماتحت کام نہیں کر سکتا ، میراتبادلہ کردیاجائے ،ایڈیشنل آئی جی پنجاب طارق مسعود یاسین نے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرزکوآگاہ کردیا۔علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ نئے آئی جی انعام غنی کی اولین ترجیح صوبے میں امن وامان کا قیام ہونا چاہیے ، صوبہ ایک ضابطے اور قانون کے تحت چلتا ہے ۔ دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے ،کوئی آتا ہے کوئی جاتا ہے ۔چیف ایگزیکٹو اور صوبے کے ساتھ مشاورت سے معاملات طے ہوتے ہیں۔سردار عثمان بزدار نے کہا کہ صوبے کیلئے جو بھی بہتر ہوگا، وہ شخص تعینات کر دیا جائے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم کسی آفیسر کو کسی عہدے پر لگائیں اور کوئی آ کر کہہ دے کہ اس کو نہ لگائیں۔

کویت سے طارق اقبال نے رپورٹ کی