لالہ جی تسی تو گئے

جب پاکستان اور بھارت کا فوجی موآزنہ ہوتا ہے تو محب وطن پاکستانی ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم کے یہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام پاکستان کے گھوڑوں کے مقابلے میں گدھوں کی حیثیت رکھتا ہے اور اب تو بھارت کی طاقت، رعب جو صرف عیاری جھوٹ اور اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے علاہ کچھ نہیں وہ گدھے کی حیثیت بھی ختم ہوچلی ہے ۔ ایک طرف کشمیری مجاہدین نے اسے ناک وچنے چبوا دئے ہیں دوسری طرف اب بھارت صرف کشمیری مجاہدین نہیں، پاکستان کی سفارت کاری نہیں بلکہ وہ چین بھوٹان‘ نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ”پنگا “ لے چکا ہے اور اسے خاطر خواہ منہ کی کھانی پڑ رہی ہے ، چین جو مارتا ذیادہ ہے اور گنتا کم ہے وہ حال ہی میں مزے چکھا چکا ہے ،جنگ ستمبر جب ایم ایم عالم کے نام سے بھارتی سورماؤں کی نیندیں حرام تھیں خاص طور پر بھارتی فضائیہ کو تو سانپ سونگھ گیا تھا جب ایم ایم عالم چشم ذدن میں بھارت کے کئی لڑاکا طیاروں کو ڈھیر کردیا تھا۵۵ سال گزر جانے کے بعد بھی بھارتی سورماء اایم ایم عالم جیسے کپتانوں کو خوا ب میٰں دیکھ کر خوف سے اٹھ جاتے ہیں اس وقت صرف بہادر افواج ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام بھی بھارت کا ہر مقابلہ کو تیار تھے، اور نہتے ہاتھوں میں ڈیڈے لیکر بھارتیوں کو مزے چکھانے چل پٹر ے تھے، اور اب تو چین نے ایک اور سبق دے دیا تھا کہ ڈنڈوں پر کیلیں بھی لگا لو تا کہ کام جلدی مکمل ہو۔ جب جنگ ستمبر کی بات آتی ہے پوری پاکستانی قوم کم از کم ایک دن کیلئے جاگ جاتی ہے اور اپنے شہداء کو بھر پور خراج عقیدت پیش کرکے انکے کارناموں کا ذکر کرتی ہے، یہ ہمار شیوہ ہے کہ ہم اپنے قومی دنوں اور یادگاروں کو صرف ایک ہی دن مناتے ہیں اس دن کی افادیت پر کبھی تفصیلی بحث کرنے سوچ بچار کرنے کی خواہش سے عاری ہوتے ہیں یہ ہی ہماری کمزور ی کی وجہ بن جاتا ہے کیا نہ سوچا جائے کہ ہمارا ازلی دشمن جسے آج اپنی رعونت کے باعث اسے خطے میں تنہائی کا سامنا ہے اور اسکے ڈسے ہوئے ممالک متحد ہورہے ہیں۔ چین نے تو ایک بار پھر 1962ء کے بعد لداخ کو یونین ٹیریٹری کا حصہ بنانے پر اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے۔ علاج تو بھارت کا یہی ہے مگر خطے میں امن کے پرخچے اڑ جانے کے خطرے کے باعث پاکستان آخری آپشن اختیار کرنے سے گریز کرتا ہے مگر جنگ سے خوفزدہ ہرگز نہیں ہے۔ جیسا آرمی چیف جنرل باجوہ نے بھی قوم کو باور کرایا ہے اگر جنگ تھوپی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائیگا یہ سب تو ٹھیک ہے مگر کیوں نہ ہم وہ مقام پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ اس خطے پر جنگ کے بادل کبھی نہ چھائیں، بھارت کی اس کمزور صورتحال کو ہماری سفارت کاری اقوام عالم میں بہت اعلی طریقے سے استعمال کرسکتی ہے مگر اسکے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری معیشت مضبوط ہو ، سیاست دان طالع آزمائی نہ کریں، معیشت کی مضبوطی ہی آج کی دنیا میں بہترین سفارت کاری کا ذریعہ ہے ، ہم جو کہ جنگ نہیں چاہتے اپنے علاقائی معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں مگر مدمقابل کو یہ زعم ہے کہ وہ بہت بڑا ملک ہے، بڑے جدید ہتھیار ہیں تو یہ سب کچھ تو اسکے پاس 6ستمبر1965 کو بھی تھا تو کیا ہوا۔ اسوقت تو ہم نے اپنے جذبہ ایمانی کے سہارے جنگ کی تھی اور بھارت کو زمین چٹائی تھی، اب تو جذبہ ایمانی کیساتھ فوجی اعتبار سے پاکستان کا دفاع ناقابل شکست ہو چکا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی ضرورت کا اہم ترین فوجی سازوسامان، پاکستان خود بنا رہا ہے اور کسی ہنگامی صورت میں، دیگر ملکوں پر

پر اس کا انحصار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ لڑاکا طیارے، چین کے اشتراک سے ایروناٹیکل سٹی کامرہ میں تیار کئے جا رہے ہیں اب چین، اور یوکرین کے تعاون سے پاکستان ہر قسم کے ٹینک خود تیار کر رہا ہے۔ کراچی شپ یارڈ میں چین اور ترکی کے تعاون سے نت نئے جنگی جہاز، میزائل بوٹس اور دیگر سازوسامان تیار کیا جا رہا ہے۔ جنگیں امن کو برباد اور نسلوں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ کہا جاتا ہے جنگیں مسائل کو حل نہیں ان میں اضافہ کرتی ہیں مگر اسلحہ کے انباروں کے زعم میں پاکستان کا بدترین دشمن اس کا ادراک نہیں کر رہا تو مجبوراً پاکستان کو وہ سب کچھ کرنا پڑ سکتا ہے جو روایتی جنگ کے آغاز سے ایٹمی جنگ پر منتج ہو سکتا ہے۔ ایسی جنگ ہوئی تو خطے کے ساتھ پوری دنیا کا امن بھی شدید متاثر ہوگا۔ دنیا بدامنی کی آگ سے بچنا چاہتی ہے تو بھارت کو لگام دینا ہو گی پاکستان تو خطہ میں امن کا خواہاں ہیں، پاکستانکی آواز پر عالمی طاقتیں بھارت کو باز نہیں رکھتیں اسکا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑے گا، انکی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ چھوٹی چھوڑی جنگیں کراکے اپنے ہتھیار کی فروخت کا کوئی طریقہ نکال لینگے۔ دیگر ملکوں پر اس کا انحصار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ جنگیں امن کو برباد اور نسلوں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ کہا جاتا ہے جنگیں مسائل کو حل نہیں ان میں اضافہ کرتی ہیں مگر اسلحہ کے انباروں کے زعم میں پاکستان کا بدترین دشمن اس کا ادراک نہیں کر رہا تو مجبوراً پاکستان کو وہ سب کچھ کرنا پڑ سکتا ہے جو روایتی جنگ کے آغاز سے ایٹمی جنگ پر منتج ہو سکتا ہے۔ ایسی جنگ ہوئی تو خطے کے ساتھ پوری دنیا کا امن بھی شدید متاثر ہوگا۔ دنیا بدامنی کی آگ سے بچنا چاہتی ہے تو بھارت کو لگام دینا ہو گی یبھارت نے اپنے عوا م کو بے بہرہ رکھ کر صرف توسیع پسندانہ سوچ کو جنم دیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ بھارتی قیادت کی اس مکاری کو بھارت کا تعلیم یافتہ طبقہ جان چکا ہے اور RSS کی بھارت کے مستقبل سے منسلک پالیسوں پر آواز اٹھا رہا ہے۔ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اندرون ملک عوام کے اتحاد و حوصلہ افزائی پر لڑی جاتی ہیں، جنگ ستمبر میں بھارتی شکست کی وجہ جہاں بہادر افواج پاکستان، بحریہ، فضایہ، کی روائیتی جانفشانی شامل تھی وہیں اندرون ملک سے جمیل الدین عالی اور دیگر شعراء کے لکھے ہوئے پرجوش نغمے، سہیل راعناء کی دلکش موسیقی میں نورجہان، شوکت علی، مہدی حسن و دیگر کے نغمے تھے جو سرحدوں پر گولیو ں، بارود میں پاکستان کے فوجیوں کو جوش پیدا کررہی تھے، ایک بھارتی جنرل جو جنگ ستمبر میں شکست سے دوچار ہوا تھا اپنی مشاہداتی کتاب میں لکھا تھا کہ جنگ شائد ہم جیت جاتے اگر ہمارے پاس نورجہاں، اور پاکستانکے دیگر فنکاروں کو پر جوش نغمات ہوتے۔ اسکے علاوہ فوجی جوانوں کی پذیرائی ہر محلے اور سڑک پر کی گئی، جو فوجی جنگ پر تھے انکے اہل خانہ کی تمام ضروریات انکے پڑوسی بہت پرتپاک اور محبت کے ساتھ پوری کررہے تھے، شہادت کی خبر پور ا گاؤ ں جمع ہوکر اہل خانہ کو تسلی دیتا تھا تمام قصے ایک یادگار تھے اور ثابت ہوتا تھا کہ جنگ صرف ہتھیار کا کام نہیں بلکہ جذبہ کا نام ہے جو کامیابی عطاء کرتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج پاکستانکی فوج جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی حفاظت کیلئے وہی اپنے جذبہ ایمانی پر کاربند ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے نام پر ہم پر مسلط کردہ جنگ میں ہماری ستر ہزار قیمتی جانیں گئیں، ان دہشت گردوں کا مقابلہ بھی انہیں بہادر افواج نے کیا اور اسے پاکستان کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکا، ستم یہ ہے کہ اسکے باوجود بھی چونکہ ہماری معیشت ایک کمزور معیشت ہے ہم ہی پر دنیا کے ناخداء صرف بھارتی پروپگنڈہ کی بناء پر دہشت گردون کی حمائت کرنے کے الزام میں GRAY فہرستوں میں ڈالتے ہیں۔ بہادر افواج جہاں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے وہیں کیوں نہ اندرون ملک بھی نظام حکومت کو بہتر کرنے کی کوشش کرے ، یہ ایک مستحسن اقدام ہوگا سیاست دان جو جمہوریت کا چورن بیچتے ہیں اور عوام پر داؤ لگاتے ہیں وہ چیختے رہیں چونکہ یہ ملک بد انتظامی ، کرپشن کے بدبودار ”گٹر“ دھنس چکا ہے، کئی سالوں سے ملک کی یہ صورتحال ہے عوام کے ووٹوں کا بہانہ ہے، عوامی رائے سے حکومت آنے کا ایک بہانہ ہے ورنہ گزشتہ کئی سالوں سے وہی لوگ مختلف سیاسی لبادہ اوڑھ کر ، اور ہوا کے رخ پر سیاسی لبادے تبدیل کرکے اقتدار پر قابض ہوتے ہیں عوام کی حالت جوں کی تورہتی ہے، بلکہ ابتری کی طرف گامزن ہے۔ کیا کسی ملک میں اسکے قائد کے مزار کے تہہ خانے میں عصمت دری کا کاروبار ہو سکتاہے ،گرفتاریاں ہوں اور نتیجہ عوام تک پہنچ سکے، کیا کسی ملک میں ننھے بچوں کے سامنے انکے والدین کو دہشت گرد کہہ کر قتل کیا جائے اور اسکی کوئی شنوائی نہ ہو، کیا کسی ملک میں ننھے بچوں کے زیادتی کے دن بدن بٹرھتے ہوئے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے اور قانوں بناتے ہوئے یہ ووٹوں کے نام پر اسمبلی میں بیٹھنے والے اس مسئلے بحث مباحثہ کا شکارہوتے ہیں کیا کسی ملک میں پانچ سالہ بچی کی عصمت دری اور اسکی لاش کو جلایا جاتا ہے اور ملزمان کو پکڑکی سزا دینے میں سالوں لگتے ہیں، کیا کسی ملک میں کوئی مراعات یافتہ شخص دن دھاڑے معصوم پولیس والے پر سٹرک پرگاڑی چلا کر ہلاک کردے وہاں کا قانوں مجرم کو بری کرتا ہے اس نام نہاد ”عدم ثبوت“ کی بناء پر۔سیاست دانوں کو دست و گریبان ہونا ، قانون صرف ان لوگوں کیلئے ہو جن پر شک ہو کہ یہ اقتدار کیلئے مشکل پیدا کرسکتے ہین جبکہ وہی قانوں دوست احباب پر لاگو نہ ہو۔ یہ چند افسوسناک معاملات پر توجہ اسلئے دینے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ جنگی جنون میں دھنسا ہوا ہمارا پٹروسی بھارت کب مست ہاتھی کی طرح نشہ میں ہم پر چٹرھ دوڑے ، ہم عسکری سطح پر سے چنے چبوادینگے، اینٹ کا جواب یقینا پتھر سے بھی کسی مضبوط چیز پر دینگے مگر آج کی صورتحال میں جنگ ستمبر والی قومی ہم آہنگی کہاں سے لائینگے۔جو بہادر افواج کے شانہ بشانہ ہوتی ہے اور ہم فتح حاصل کرتے ہیں۔

امیر محمد خان