سنتھیا کی فوری ملک بدری روک دی گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی شہری سنتھیا رچی کو فوری ملک بدری سے روکتے ہوئے وزارت داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا رچی کی فوری ملک بدری روکنے کے احکامات جاری کیے ۔

سنتھیا رچی نے وزارت داخلہ کا ویزہ میں توسیع نہ دینے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا

اس سے قبل وزارت داخلہ نے 15 روز میں سنتھیا ڈی رچی کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وزارت داخلہ نے سنتھیا رچی کی ویزہ میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔

درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا ڈی رچی کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا۔

سنتھیا ڈی رچی کو ورک ویزا کی درخواست پر بزنس ویزا دینے کا انکشاف

چیف جسٹس اطہر من اللہ کاکہنا تھا کہ آئندہ سماعت تک سنتھیا ڈی رچی تمام الزامات کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کرے، ہم یقینی بنائیں گے کہ پٹیشنر کو مکمل انصاف ملے ۔

سنتھیا رچی نے دائر درخواست میں کہا کہ متعلقہ دستاویزات دینے کے باوجود ویزےمیں توسیع کی درخواست مسترد کی گئی،جبکہ وزارت داخلہ نے ہائیکورٹ میں کہا میں نہ ریاست مخالف نہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ، سنتھیا رچی کی بیان بازی نہ کرنیکی یقین دہانی

امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کا کہنا تھا کہ میں نے بھی پاکستان میں کیس کیے ہوئے ہیں، میرے خلاف بھی کیس چل رہے ہیں، ویزہ میں توسیع نہ دینے سے تاثر بنے گا کہ وزارت داخلہ جان بوجھ کرکیس کی پیروی سے روک رہی ہے۔

وکیل سنتھیا ڈی رچی نے عدالت کو درخواست کی سماعت کے دوران بتایا کہ وزارت داخلہ نے ویزہ مسترد کرتے وقت نہ وجوہات کا ذکر کیا نہ سنا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ویزہ مسترد کرنے میں وجوہات کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔

سنتھیا کو 15روز میں پاکستان چھوڑنے کا حکم

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہر روز پاکستانیوں کے ویزے مسترد ہوتے ہیں کوئی وجہ نہیں بتائی جاتی، آپ کی گراؤنڈ یہ بنتی ہے کہ آپ کے حوالے سے کیسز ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

ا س موقع پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ سنتھیا رچی نے وزارت داخلہ کے 2 ستمبر کے آرڈر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا ۔
jang-report