لندن، خواتین کو قتل کے بعد فریزر میں رکھنے والے مجرم زاید یونس کو عمر قید

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی عدالت میں دوخواتین کو قتل کے بعد اپنے فلیٹ میں فریزر میں رکھنے کا اعتراف کرنے والے زاہد یونس کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق 36 سالہ مجرم جنسی زیادتی کے کیسز میں ملوث تھا اور اس نے 2 خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں فریزر میں رکھی تھیں۔


عدالت نے جرم ثابت ہونے پر زاید یونس کو عمر قید کی سزا سنائی اور قانون کے مطابق انہیں 38 سال تک جیل ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مجرم نے دونوں خواتین کو قتل سے پہلے انتہائی تشددکا نشانہ بنایا۔پولیس کی جانب سے ایک خاتون ہینرٹ سزوکس کی لاش فریزر سے برآمد کی گئی جو تین سال سے وہاں رکھی ہوئی تھی۔34 سالہ ہینرٹ اگست 2016 میں زاہد یونس کے ساتھ رہنے کے لیے شمالی لندن کے علاقے کیننگ میں ان کے فلیٹ میں منتقل ہوئیں اور اس کے بعد لاپتہ ہوگئی تھیں۔

دوسری خاتون کی شناخت 38 سالہ مہریکن مصطفی کے نام سے ہوئی ہے، جو جین کے عرف سے جانی جاتی تھیں۔مہریکین مصطفی مئی 2018 میں لاپتہ ہوگئی تھیں اور ان کی لاش 27 اپریل 2019 کو زاہد یونس کے فلیٹ میں فریزر سے برآمد ہوئی تھی۔خیال رہے کہ پولیس نے دونوں خواتین کی لاشیں مجرم کے فلیٹ سے 27 اپریل 2019 کو برآمد کی تھیں۔باکسر کے نام سے مشہور زاہد یونس نے ساتھ وارک کران کورٹ کے سامنے خواتین کی لاشوں کو فریزر میں رکھنے کا اعتراف کیا، جس پر انہیں مردے کو قانونی اور مناسب طریقے سے نہ دفنانے پر سزا تجویز کی گئی۔
عدالت کے سامنے مجرم نے خواتین کے قتل کی صحت جرم سے انکار کیا لیکن دونوں جرم ثابت ہونے پر انہیں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔سزا سنائے جانے کے بعد مجرم نے کسی قسم کا ردعمل نہیں دیا تاہم بعد میں انہوں نے سزا کے لیے اپنے سیل میں جانے سے انکار کیا۔سماعت کے دوران پراسیکیوٹر ڈنکن پینی نے دونوں خواتین کو کمزور قرار دیا