کراچی کے لئے تاریخی پیکج پر عملدرآمد کے لئے سیاست کو بالا ئے طاق رکھنا ہوگا


تین سال میں کراچی کے انفرااسٹرکچر میں نمایاں تبدیلی نظر آئے گی، علی زیدی، کراچی اس پیکج سے کہیں زیادہ کما کر دے گا، امین الحق
اس پیکج میں دوتہائی فنڈنگ وفاق کی ہے جبکہ سندھ حکومت 38 فیصد رقم خرچ کرے گی ،گورنر ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ( ستمبر06 )

وفاقی وزیربرائے ترقیات و منصوبہ بندی اسدعمر نے کہا کہ کراچی میں مختلف اداروں کے درمیان اختیارات تقسیم ہیں جس کی وجہ سے مسائل ہوئے لیکن اب کراچی کے لئے تاریخی پیکج پر عملدرآمد کے لئے سیاست کو بالا ئے طاق رکھنا ہوگا ، ہم کمرے میں کچھ اور باہر کچھ اور بات نہیں کرتے ہیں ،وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ اس پیکج میں 62 فیصدفنڈنگ وفاق کی ہے جبکہ سندھ حکومت 38 فیصد رقم خرچ کرے گی، عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے گورنرہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزراءعلی زیدی ، امین الحق،رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی اور رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی بھی موجود تھے ۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کراچی شہر ملک کا معاشی حب ہے جو دیگر شہروں سے زیادہ ریوینیو فراہم کرتا ہے ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں کہ شہر کی ترقی کے لئے کون کتنی فنڈنگ کررہا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے زیادہ ریوینیو دینے والے شہر کی ضروریات پوری نہ ہوئیں تو پاکستان ویسے ترقی نہیں کرسکتا جس طرح کی ترقی ہم چاہتے ہیں ، لوگ سوال کرتے ہیں کہ کراچی کی ترقی کے لئے کچھ کریں ۔ وفاقی وزیر اسد عمرنے کہا کہ 1100 ارب کے اعلان کردہ پیکج میں800ارب روپے سندھ حکومت کی طرف سے دینے کا دعویٰ سچ نہیں ،کراچی پیکج شہر کے عوام کاحق ہے اس کام پر کوئی سیاست نہیں ہوگی خدارا اس شہر کی خدمت کریں آپ ایک قدم آگے بڑھائیں گے ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے یہ نہیں ہوگا کہ آپ حقائق غلط بتائیں اور ہم اس کا جواب نہ دیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا وقت نہیں ہے ، بارش سے تباہ کاری بڑھتی جارہی ہے اس ضمن میں وزیراعظم جلد خصوصی اجلاس بلائیں گے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ لوگوں کی کس طرح مدد کی جائے گی ۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں شہر کے نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا اور یہ کام 15ماہ تک مکمل ہوگا ، تجاوزات کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوگی ۔کراچی کے ماسٹر پلان کی تیاری کے بارے میں ایک سوال پر اسد عمر نے کہا کہ اس سلسلہ میں وزیراعلیٰ سندھ سے بات ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس کام کو کررہی ہے ۔ کیا اٹھارہویں ترمیم وفاق اور صوبہ کے درمیان ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ہے ، کے سوال کے پر اسد عمر نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت اس طرح سے کام نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے مختلف منصوبوں پر کام مکمل ہونے کی مدت کے سوال پر کہا کہ گرین لائن منصوبہ جون 2021 ء، کے فور 2022 ءکے اختتام تک جبکہ کراچی سرکلر ریلوے 2023 ءکے اختتام تک مکمل ہوں گے ۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زید ی نے کہا کہ وفاق و صوبہ میں دو الگ الگ جماعتوں کی حکومتیں ہیں لیکن سب اس شہر کے لئے کام کرنے جارہے ہیں ، سندھ حکومت سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ صوبہ کے دیگر 5ڈویژن بارش سے شدید متاثر ہوئے ہیں یہ بھی کراچی سے کم نہیں ہیں ، اگر کراچی کا ایڈمنسٹریٹر 21گریڈ کا افسر لگاتے ہیں تو باقی اضلاع میں بھی ایک سنجیدہ21گریڈ کے افسرکولگائیں تاکہ ان علاقوں میں بھی کام تیز کیا جاسکے ،یقین سے کہہ رہاہوں کہ تین سال میں کراچی کے انفرااسٹرکچر میں نمایاں تبدیلی نظر آئے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں میڈیا کے ہیڈ آفسز ہونے کی وجہ سے یہاں کا میڈیا زیادہ فعال رہتا ہے ہمیں زیادہ خبریں بھی میڈیا سے ہی ملتی رہتی ہیں ، مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی میڈیا سندھ کے دیگر علاقوں میں اس قدر فعال نہیں ہے،وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو بارش سے تباہی کے حوالہ سے جو حقائق بتائے اس کے مطابق 20 اضلاع میں تباہی ہوئی جس سے 23 لاکھ لوگ دربدر ہوچکے ہیں کراچی بھی سندھ کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا دوسرے علاقے ہیں وہ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے کراچی کے لوگ ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما و وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا کہ1100 ارب روپے کا پیکج کراچی پر کوئی احسان نہیںیہ شہر کا حق ہے جو اسے دیا جارہا ہے آپ یقین کریں کراچی اس پیکج سے کہیں زیادہ کما کر دے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی کوتاہی اور غلطیوں کو دیکھتے ہوئے پیسے کی شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا ، یہ ماضی کے پیکج سے مختلف ثابت ہوگا اس وقت تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں ، کل وزیراعظم سے بات ہوئی تھی چونکہ متحدہ اس شہر کی ایک بڑی اسٹیک ہولڈرجماعت ہے اس لئے ہمیں کراچی میں ہونے والی مردم شماری پر تحفظات ہیں ، ہم کہتے ہیں کہ کراچی کے عوام کو اس کا جائز حق دیا جائے ،آرٹیکل141-A کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں ہماری پٹیشن دائر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں میئر ناکام نہیں ہوا بلکہ 2013 کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ ناکام ہوالہذا اس ایکٹ کو تبدیل کیا جائے ، آنے والے میئر کے پاس اختیارات ہونے چاہئے ، اور یہ اختیارات صوبہ کے تمام اضلاع کے میئر زکو بھی ملنے چاہئے تاکہ لوگوں کے مسائل گھر کی دہلیز پر حل ہو سکیں ۔ انہوںنے کہا کہ کے الیکٹرک کو اس کے معاہدہ کا پابند کیا جائے ساتھ ساتھ شہر میں اووبلنگ کا بھی خاتمہ یقینی بنایاجائے ۔