وزیراعظم کا کراچی کے لیے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے لیے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم کراچی میں شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی کے بعد سنیچر کو صوبائی دارالحکومت پہنچے جہاں انہوں نے شہر میں ہونے والے نقصانات پر گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ سمیت مختلف شخصیات سے تبادلہ خیال کیا۔
شہر کو درپیش مسائل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد گورنر عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کراچی بہت بڑے امتحان سے گزرا ہے۔‘
’ایسی صورت حال کسی بھی ملک میں بنے اس کے لیے فوج کو بلایا جاتا ہے کیونکہ یہ منظم ادارہ ہوتا ہے اسی لیے کراچی میں بھی فوج امدادی کام کر رہی ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ پہلے وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر الگ الگ کام کی وجہ سے ہم آہنگی نہیں تھی۔اب فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ سب مل کر کام کریں گے، کمیٹیاں بھی بنا دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں مختلف اداروں کی مداخلت ہے اس لیے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی جس میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت سمیت تمام فریقین موجود ہوں گے۔
عمران خان کے بقول این ڈی ایم اے نالوں کی صفائی کا کام کر رہی ہے۔ نالوں پر سے تجاوزت اور رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی۔
’اس کارروائی میں بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کی ذمہ داری سندھ حکومت نے اٹھائی ہے۔‘
وزیراعظم عمران خان نے اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیلابی صورت حال کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں پیدا ہونے والی صورت حال کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ کام جو پہلے التوا کا شکار ہوتے رہے اب ایک ہی بار حل کر لیے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیوریج کا ںظام مکمل طور پر ٹھیک کیا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)

’ترقیاتی کاموں کے تین مراحل میں قلیل مدت، درمیانی مدت اور طویل مدت کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پورے کراچی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں کی مرمت، سیوریج، نالوں کی صفائی، ٹرانسپورٹ اور دوسرے مسائل انہی منصوبوں کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر ٹھیک کیا جائے گا اور سرکلر ریلوے بحال کی جائے گی۔
’ہماری کوشش ہوگی کہ شہر میں پانی کا مسئلہ تین سال میں حل کر لیا جائے، پانی کے کے فور منصوبے کا ایک حصہ وفاقی حکومت اور ایک حصہ سندھ حکومت مکمل کرے گی۔
انہوں نے طویل مدت منصوبوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا زیادہ سے زیادہ وقت تین سال ہو گا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کورونا وائرس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس آزمائش بھی کامیابی سے نکلے۔

عمران خان نے کہا کہ فوج منظم ادارہ ہے اسی لیے کراچی میں بھی امدادی کام کر رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

’طرح سے پاکستان نے بیماری کو ہینڈل کیا کوئی اور ملک نہیں کر سکا۔‘
انہوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صورت حال دیکھ لیں، کورونا کی وجہ سے اس کی معیشت بہت متاثر ہوئی ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی پہنچے ہیں جہاں حالیہ بارشوں کے بعد سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کے پس منظر میں ان کا یہ دورہ نہایت اہمیت رکھتا ہے، تاہم تاجر طبقہ اس بات پر نالاں ہے کہ وزیراعظم کے دورے میں ان سے ملاقات کے لیے وقت نہیں حالانکہ شہر کا معاشی مرکز ان بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ شرجیل گوپلانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے متوقع دورے میں شہر کراچی کی تاجر برادری سے ملاقات طے نہیں، حالانکہ حالیہ بارشوں میں سب سے زیادہ مالی نقصان تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کا ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کی تاجر برادری کی بجائے صنعت کاروں سے ملاقات متوقع ہے جو ان کے لیے مایوس کن ہے۔

کراچی کی بارشوں سے چھوٹے تاجروں کا بہت مالی نقصان ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

واضح رہے کہ کراچی میں مون سون کی ریکارڈ بارشوں کو کئی روز گزر چکے ہیں اور اربن فلڈنگ سے پیش آئی تباہ کاریوں اور اس پس منظر میں سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کے بعد عوامی حلقوں کی جناب سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا تھا کہ وزیراعظم کراچی کا دورہ کریں اور شہر کی بحالی کے لیئے اقدامات کریں۔
وزیراعظم عمران خان کی کراچی آمد جمعرات کو متوقع تھی تاہم پھر یہ تاخیر کا شکار ہوئی اور اب وہ سنیچر کو کراچی کے دورے پر پہنچے ہیں جس ان کی پی ٹی آئی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے عندیہ دیا ہے کہ اپنے دورے میں وزیراعظم کراچی کے لیے بھرپور امدادی پیکیج کا اعلان کریں گے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رواں ہفتے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی کا دورہ کر کے صنعت کاروں سے ملاقات کی تھی اور ان کے مسائل دریافت کرتے ہوئے ان کے جلد حل کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ملاقات میں شریک کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے اردو نیوز کو بتایا کہ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ کراچی کے معاملات میں بہتری لانے کے لیئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جس میں بزنس کیمونٹی کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔
زاہد حسین کے بقول جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کر کے تین سال میں شہر کو تبدیل کیا جائے گا۔

زاہد حسین کا کہنا تھا کہ آرمی چیف بزنس کمیونٹی کے مسائل کو توجہ سے سنتے ہیں (فوٹو اے ایف پی)

آرمی چیف سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے زاہد حسین کا کہنا تھا کہ شروع میں تو بارشوں کے نتیجے میں درپیش مسائل پر بات ہوئی مگر بعد میں معاشی مسائل اور کاروباری صورتحال بھی زیرِ بحث آئی، جس پر کاروباری افراد نے اپنے مسائل سے آرمی چیف کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر کراچی کی معروف کاروباری شخصیت سراج قاسم تیلی بھی موجود تھے۔
زاہد حسین کا کہنا تھا کہ آرمی چیف بزنس کمیونٹی کے مسائل کو توجہ سے سنتے ہیں اور صنعت کاروں کا بھی ان پر اعتماد ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر پانچ سے چھ ماہ کے عرصے میں وہ ایک بار کاروباری حضرات سے ملاقات کر کے ملکی معاشی صورتحال اور بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا آرمی چیف کی یقین دہانی اور مثبت جواب کے بعد اب وہ وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے اور اپنے مطالبات رکھیں گے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاق سے بارشوں کے بعد بحالی کے کام میں تعاون کی درخواست کی تھی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت عوام کی بحالی کے لیئے ریلیف، بحالی اور ری کنسٹرکشن کے کام انجام دے رہی اور اس حوالے بسے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیکیج کا اعلان بھی کیا ہے تاہم اگر وفاقی حکومت بھی اس میں تعاون کرے تو اس کام میں مزید بہتری ہوجائے گی۔

کراچی کی تاجر برادری حکومتی عدم توجہی کے باعث نالاں ہے (فوٹو اے ایف پی)

واضح رہے کہ اس سے پہلے وزیرِ اعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر سندھ حکومت کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت انہیں اس حوالے سے باظابطہ طور پر آگاہ نہیں کرتی، یہی وجہ ہے کہ کہ وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ وزیرِ اعظم عمران خان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ نہیں جاتے، اور نہ ہی ان کی آپس میں ملاقات ہوتی۔ دیکھنا ہوگا کہ اس بار صورتحال کچھ مختلف ہوتی ہے یا نہیں۔
دوسری جانب کراچی کی تاجر برادری حکومتی عدم توجہی کے باعث نالاں ہے، تاجر رہنما شرجیل گوپلانی کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے نقصان کے ازالے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بارشوں میں اصل نقصان تو تاجروں کا ہوا ہے جن کا مال ضائع ہوا، گودام اور دوکانیں زیرِ آب آگئیں اور ابھی تک کئی مارکیٹوں میں پانی اور کیچڑ کے باعث کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت حقدار تاجروں کے مسائل سننے کی بجائے صنعت کاروں سے ملاقاتیں کر رہی ہے جبکہ وزیراعظم بھی تاجروں کے مسائل کی جانب توجہ نہیں دے رہے۔
ایک سوال کے جواب میں شرجیل گوپلانی کا کہنا تھا کہ ابھی تو تاجر تنظیموں نے اپنے نقصانات کا صحیح تخمینہ تک نہیں لگایا کیوں کہ کئی مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت ان کے نقصانات کا ازالہ کرے اور انہیں ٹیکس میں چھوٹ فراہم کرے، ساتھ ہی تاجروں کو بنا سود قرضے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔

———–
وصیف رضی ملک -اردو نیوز- کراچی