کشمیر پر عالمی توجہ کیوں نہیں؟

اکستان کے موقف کی حمایت محض چند مسلم ممالک تک محدود ہے حالانکہ نئے بلاک میں چین سمیت دوسرے ملکوں کی حمایت کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

نعیمہ احمد مہجور سینیئر صحافی @nayeema1
———

کثر محفلوں اور سیاسی بحثوں میں یہ سوال بار بار پوچھا جاتا ہے کہ کشمیر میں جاری اتنی زیادتیوں، ہلاکتوں اور تشدد کے باوجود عالمی برادری خاموش کیوں ہے اور کشمیر کے مسئلے کے دائمی حل کے لیے کوشاں کیوں نہیں دکھائی دیتی؟

یہ سوالات جتنے اہم ہیں اتنے ہی ان کے جوابات اتنے ہی پیچیدہ ہیں۔ عالمی برادری اس وقت دو نظریات کے تابع ہو گئی ہے اور ہندوستان اور پاکستان کے بارے میں ان کی پالیسیاں بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

ہندوستان کی آزادی کے وجود میں آنے کے بعد ان کی خارجہ پالیسی حقیقت میں سرد جنگ نے ترتیب دی۔ سینٹو یا سیٹو میں شامل ہونے کا نقصان جتنا پاکستان کو ہوا اس کے مقابلے میں روسی بلاک نے بھارت کی ہر سطح اور ہر مشکل گھڑی میں فوجی اور سفارتی امداد کی۔

موجودہ دور میں بیشتر عالمی طاقتیں خود اندرونی انتشار کا شکار ہیں۔ اگر ان ملکوں کے ادارے اور انتظامیہ مضبوط نہ ہوے ہوتے تو یہ بھی ہماری طرح سیاسی اور معاشرتی بدحالی کا شکار دکھائی دیتے۔

ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے امریکی معاشرہ نہ صرف معاشی اور معاشرتی سطح پر مختلف حصوں میں منقسم ہوا ہے بلکہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق عالمی سطح پر اس کی شبیہ ایک پولیس والے کے جیسے رہ گئی ہے۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ برطانیہ نے بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کر کے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار دی ہے۔ اس سے ایک تو یورپی اتحاد کمزور پڑ گیا ہے دوسرا برطانیہ کی عالمی طاقت کے طور پر اس کی حیثیت اور رعب ختم ہو رہا ہے۔

جرمنی، فرانس اور دوسرے یورپی ممالک اس وقت اپنی معیشتیں بچانے کی دوڑ میں ہیں، پھر کرونا وائرس کے باعث ان کی منڈیوں اور بازاروں پر سناٹا چھا گیا ہے۔

سفارتی سطح پر دنیا کے نئے بلاک بننے لگے ہیں جن میں چین اور روس کا دائرہ اثر و رسوخ بڑھتا نظر آ رہا ہے۔

چین نے اگر اقتصادی منڈیوں پر اپنی گرفت مضبوط کر دی ہے تو روس مسلمان ملکوں میں گھس کر دوبارہ اپنی ساکھ بحال کرنے میں مصروف عمل ہے۔ مسلم ممالک امریکہ سے خائف ہو کر روس کے قریب آنے کو ترجیح دینے لگے ہیں اور چین کے ون بیلٹ ون روڈ سے اقتصادی راہداری کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

ایک طرف پاکستان، ترکی ایران، ملیشیا، چین اور روس کے مراسم قائم ہو رہے ہیں وہیں بھارت، امریکہ اسرائیل، سعودی عرب، جاپان اور آسٹریلیا ایک نیا بلاک بنانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔

اس پس منظر میں جب کشمیر کے مسئلے کی عالمی حمایت کے حصول پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک بات کو ذہن نشین کرنا لازمی بن جاتا ہے کہ پاکستان کے موقف کی حمایت محض چند مسلم ممالک تک محدود ہے حالانکہ نئے بلاک میں چین سمیت دوسرے ملکوں کی حمایت کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ چین، روس یا دوسرے ممالک پاکستانی موقف کی حمایت نہیں کرتے؟

نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے تئیں غیر مسلم دنیا کی سیاسی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ میڈیا کو بظاہر ’اسلامی دہشت گردی‘ کی تشہیر کرنے کی ہدایات ملیں اور ہر جائز تحریک کو دہشت گردی سے گردانا گیا وہ چاہیے کشمیر کی تحریک ہو یا فلسطین کی۔ حتیٰ کہ ان تحریکوں سے منسلک پرامن لیڈرشپ کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں ڈالنے کا عمل شروع کرایا گیا۔

معروف مصنف اور نامہ نگار رابرٹ فسک نے ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی تشدد کو کبھی ’یہودی دہشت گردی‘ نہیں کہا جاتا یا عیسائی مسجد پر حملہ کرے تو وہ سرپھرا کہلاتا ہے لیکن مسلمان حملہ کرے تو وہ فوراً ’اسلامی دہشت گرد‘ بن جاتا ہے۔

حماس کو 2006 میں جمہوری طریقے سے انتخابات جیتے کے باوجود سیاسی منظر سے غائب کر دیا گیا۔ 1992 میں الجیریا میں اسلامک سالویشن فرنٹ کے انتخابی نتائج کو سرے سے رد کیا گیا اور سیاسی قیادت پر دہشت گردی کا لیبل چڑھا کر ہمیشہ کے لیے منظر سے ہٹا دیا گیا۔

1988 میں کشمیر میں مسلم متحدہ محاذ کی جیت کو شکست میں تبدیل کر کے انتخابی امیدواروں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا گیا۔

طالبان تب تک جہادی تھے جب تک روس نشانے پر تھا، مگر جب انہوں نے امریکی فوج کے خلاف افغانستان چھوڑنے کی مہم شروع کی تو اسلامی دہشت گرد کہلانے لگے۔

یہ چند مثالیں جمہوری دنیا کی نظریاتی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ کشمیر کے بارے میں یہی سوچ قائم ہے

بھارتی حکومت کی طرف سے اقوام عالم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ کشمیر کو اپنے طریقے سے نبھانی گی جس کے لیے کسی حد تک عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سال پانچ اگست کے فیصلے پر بڑی طاقتوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا حالانکہ عالمی میڈیا نے پہلی بار کشمیر کی حقیقی صورت حال بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

برطانیہ آج بھی اپنی اسی پالیسی پر گامزن ہے جب 1947 میں کشمیر کے مہاراجہ نے اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن سے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ ضم ہونے کی بجائے ریاست کو آزاد مملکت رکھنا چاہتے ہیں لیکن وائسرائے چونکہ نہرو کے ساتھ مشورہ کر کے آئے تھے، انہوں نے مہاراجہ کو ہندوستان کے ساتھ الحاق پر آمادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ریڈکلف کمیشن نے پہلے ہی راستہ صاف کر دیا تھا جب گورداسپور کو ہندوستان کے کھاتے میں ڈال کر پاکستان اور کشمیر کے درمیان تمام زمینی رابطوں کو ختم کرنے کا نیا نقشہ بنایا تھا۔

برطانیہ آج بھی کشمیر کو ہندوستان سے الگ نہیں دیکھنا چاہتا جو اس کی تھنک ٹینکس کے تجزیاتی مطالعوں میں واضح لکھا ہے۔ ظاہرہے کہ برطانیہ کی پالیسی امریکی پالیسی کی نقل ہوتی ہے وہ چاہیے فلسطین ہو، کشمیر ہو، افغانستان ہو یا عراق ہو۔

امریکی اور یورپی تھنک ٹینکس کی رپورٹوں کے مطابق جو چیز عالمی برادری کو سب سے زیادہ پریشان کررہی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کشمیر کو آزادی دی جاتی ہے تو اس کے انتہا پسندوں کے لیے ’محفوظ پناہ گاہ‘ بننے کا خطرہ ہے۔

عالمی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ ہندوستان کے کنٹرول سے آزاد ہونے کی صورت میں ہندوستان کی سرحدوں پر ایک اور اسلامی ریاست وجود میں آ سکتی ہے یا اگر الحاق پاکستان کی حمایت کی گئی تو اس سے اسلامی مملکت مضبوط ہو جائے گی جو آس پاس کے غیر مسلم ملکوں کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔

مغرب کے اکثر دانشور یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کی صورت میں طالبان اس خطے میں پھیل کر اپنا اثر رسوخ قائم کر سکتے ہیں جو پورے خطے کی نظریاتی سوچ کو موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بیشتر تھنک ٹینکس کشمیر کے لیے کسی نہ کسی حل کے لیے ہندوستانی آئین کے دائرہ کار میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ہندوستانی موقف کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی وجہ بھی صحیح سمجھتے ہیں کیونکہ بھارت نے ان پر واضح کیا ہے کہ مسلم ریاست رہنے سے بھی اس خطے میں ’اسلامی دہشت گردی‘ میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی تصدیق کے لیے وہ روزانہ ’اینکاؤنٹرز‘ میں مارے جانے والے ’دہشت گردوں‘ کی لسٹیں فراہم کرتا رہا ہے۔

بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق ہندوستان آزاد کشمیر پر چڑھائی کرنے کی آڑ میں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ وہ اصل میں پاکستان میں ’دہشت گرد اڈوں‘ کو ختم کرنا چاہتا ہے، مگر بالاکوٹ میں ناکامی کی وجہ سے مزید کارروائی سے رک گیا ہے۔ پھر لداخ میں چین کی بار بار مداخلت نے لڑائی کا دوسرا محاذ کھولا ہے، اس لیے پاکستان سے توجہ فی الحال ہٹ گئی ہے۔

چین بھی جموں و کشمیر کو آزاد مملکت کے روپ میں دیکھنے کا حامی نہیں ہے لیکن ریاست کی اندرونی خودمختاری ختم کرنے کا بلکل حامی نہیں ہے جس کی بڑی وجہ لداخ کی ساتھ ملنے والی اس کی سرحد ہے اور دوسری وجہ آزاد کشمیر میں سی پیک کا اس کا منصوبہ۔

چین سمجھتا ہے کہ لداخ کے یونین ٹیریٹری بننے سے بھارت ایک تو سرحدی کشیدگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا دوسرا وہ تبت میں نئی شورش کی وجہ بن سکتا ہے اور پھر شمالی پاکستان کے علاقوں سے گزرنے والی سی پیک راہداری بھارت کی فوجی ترجیحات میں سر فہرست رہے گی۔

لداخ سے ملنے والی حالیہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر قبضہ کر لیا ہے اور ان میں وہ علاقے بتائے جاتے ہیں جو سی پیک راہداری کے تحفظ کیلیے انتہائی اہم ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی برادری کو بتایا گیا ہے کہ ’آزادی کی تحریک‘ صرف وادی کے مسلم علاقوں تک محدود ہے جہاں بیشتر مسلح تنظیمیں ایک ماڈل اسلامی ریاست کے قیام کے حق کا مطالبہ کر رہی ہیں جس کی عالمی طاقتیں مخالف ہیں کیونکہ یہ طاقتیں افغانستان اور پاکستان میں اسلامی عناصر کو پسماندہ کرنے کی بھر پور کوشش کرر ی ہیں تاکہ بقول ان کے یہ خطے القاعدہ یا طالبان جیسے ’انتہا پسندوں‘ کے ٹھکانے نہ بن جائیں۔

عالمی حمایت کے اس نتیجے میں بھارت نے پہلے لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کیا اور خیال ہے کہ جموں کو بھی الگ صوبہ بنا کر کشمیر کو محض وادی تک محدود رکھا جائے گا تاکہ ’دہشت گردی‘ کی آڑ میں ایک تو تحریک آزادی کو ختم کیا جا سکے اور دوسرا وادی کے مسلم کردار پر شب خون مارنے میں آسانی پیدا کی جا سکے۔

عالمی سفارت کاری اور نظریاتی سوچ کے اس پس منظر میں کشمیر کی آزادی کے لیے حمایت کیسے حاصل ہو، اس پر کشمیریوں، پاکستان اور حامی ملکوں کو شاید ایک نئی اور مربوط حکمت عملی ترتیب دینی ہو گی

——
Independent-urdu