ساجد گوندل کو پیر تک بازیاب کروایا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ

سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر کے مبینہ اغوا سے متعلق ان کی والدہ کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ ‘ اسلام آباد سے کسی شہری کو اس طرح اٹھایا جانا تشویش ناک ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کو پیر (7 ستمبر) تک بازیاب کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دوسری صورت میں معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ہفتے کے روز ساجد گوندل کی والدہ کی جانب سے ان کے بیٹے کے مبینہ اغوا سے متعلق دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

ساجد گوندل کی والدہ، اہلیہ اور دوسرے رشتہ دار عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

ان کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ساجد گوندل کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور انہیں اسلام آباد کے پارک روڈ سے اٹھایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل جمعرات (3 ستمبر) کی رات سے لاپتہ ہیں۔ وہ اپنی سرکاری گاڑی میں خریداری کی غرض سے چک شہزاد آئے تھے۔

جمعے کی صبح ان کی سرکاری گاڑی پارک روڈ پر قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کی عمارت کے باہر پائی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ‘اسلام آباد سے کسی شہری کو اس طرح اٹھایا جانا تشویش ناک ہے۔’

انہوں نے عدالت کے حکم نامے کی کاپی سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ساجد گوندل کو پیر دو بجے تک بازیاب کرایا جائے

چیف جسٹس نے مزید حکم دیا کہ ساجد گوندل کی عدم بازیابی کی صورت میں معاملہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں سامنے رکھا جائے۔

عدالت عالیہ نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا کہ پیر کو دو بجے تک مغوی کی عدم بازیابی کی صورت میں وفاقی سیکریٹری داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہوں۔

ساجد گوندل کی اہلیہ نے جمعے کے روز ہی ان کی گمشدگی سے متعلق اسلام آباد پولیس کو درخواست دی تھی۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق، جس مقام سے ساجد گوندل کی گاڑی ملی تھی وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں ہیں، اس لیے فوری طور پر اس سلسلے میں معلومات حاصل نہیں ہو پائیں، تاہم پولیس نے گاڑی کا ریکارڈ حاصل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ساجد گوندل ایس ای سی پی میں تعیناتی سے قبل صحافت کے پیشے سے منسلک تھے اور انگریزی اخبار ڈان میں بحیثیت رپورٹر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے لاپتہ ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور سوشل میڈیا پر خصوصاً صحافیوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

کئی اہم حکومتی شخصیات نے بھی ساجد گوندل کے مبینہ اغوا سے متعلق سوشل میڈیا پر بیانات دیے، جن میں مشیر داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری سر فہرست ہیں

————-
عبداللہ جان نامہ نگار AJKhan65@

IndependentUrdu-report