بیرون ملک مقیم پاکستانی ورکرز کے لیے پہلی قومی پالیسی میں نیا کیا؟

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانی ورکرز سے متعلق ملک کی پہلی ‘نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفئیر پالیسی’ تیار کر لی ہے جو اس ماہ کے آخر یا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کابینہ میں پیش کر دی جائے گی۔
اردو نیوز کو دستیاب پالیسی کا حتمی مسودہ 10 صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں پالیسی بنانے کی وجوہات، مقاصد اور چیلنجز شامل ہیں۔ پالیسی کے تحت امیگریشن قوانین میں تبدیلی سمیت اداروں میں بہتری کے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
وزارت سمندر پار پاکستانیز کے اعلیٰ حکام نے اردو نیوز سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ ’پالیسی تیار کر لی گئی ہے۔ اس کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں نوک پلک سنوارنا باقی ہے جس کے بعد پالیسی کابینہ ڈویژن کو بھیج دی جائے گی۔ امید ہے کہ اسی ماہ کے آخر یا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کابینہ اس کی منظوری دے دے گی

یاد رہے کہ اس پالیسی کی تشکیل میں 12 سال سے زائد کا عرصہ لگا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس پالیسی کا پہلا مسودہ تیار ہوا تھا۔ وہ مسودہ بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی تجاویز شامل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
اس کے بعد مسلم لیگ ن کے دور میں بھی اس مسودے پر کام ہوتا رہا تاہم اسے حتمی شکل نہ دی جا سکی۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ سال ایک بار پھر اس بار میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جس کے نتیجے میں پالیسی تیار کر لی گئی ہے۔
پالیسی کے مقاصد
بیرون ملک مقیم پاکستانی بالخصوص خلیجی ممالک میں رہنے والے ورکرز پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 1کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں جن میں 80 سے 90 فیصد خلیجی ممالک میں ہیں۔ گزشتہ دس سالوں میں 60 لاکھ جبکہ صرف 2015 میں 9 لاکھ سے لوگ بیرون ملک منتقل ہوئے۔

حکام کہتے ہیں کہ نئی پالیسی کی تشکیل میں متعلقہ فریقین سے بھی مشورہ کیا گیا (فوٹو: روئٹرز)

1999 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے کم ترسیلات زر بھیجی جا رہی تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جون 2020 میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ترسیلات زر بھیجنے والوں میں بھی سعودی عرب پہلے، متحدہ عرب امارات دوسرے اور دیگر خلیجی ممالک بھی سرفہرست ہیں۔
سمندر پار پاکستانی ورکرز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ملکی زرمبادلہ کے حوالے سے ان کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے ہی ‘نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفئیر پالیسی’ تشکیل دی ہے۔
مسودے کے مطابق اس پالیسی کے مقاصد میں پاکستان سے ورکرز کی منظم، محفوظ اور باقاعدہ امیگریشن یقینی بنانا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں بالخصوص ورکرز اور پاکستان میں ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر خدمات کی فراہم کا نظام تشکیل دینا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کی ترقی میں شامل کرنے، اور واپس آنے والے پاکستانیوں کو معاشی و سماجی ترقی میں شامل کرنے کا معاون نظام تشکیل دینا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ورکرز کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے سفارت خانوں کو متحرک کیا جائے (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی ورکرز کو درپیش چیلنجز
پالیسی میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ورکرز کو درپیش اہم چیلنجز کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ جس کے تحت پاکستانی ورکرز کی مشرق وسطیٰ میں ملازمتوں کے مواقع کی فراہمی کے تسلسل کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں نئے مواقع کی تلاش جاری رکھنا ہے۔ بیرون ملک ورکرز کے حوالے سے دو طرفہ یاداشتوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث دو طرفہ معاہدوں کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ریکروٹمنٹ کے عمل میں ہونے والی زیادتیاں اور ورکرز کے حقوق کے راستے میں آجروں کے حوالے سے میزبان ملکوں کے ساتھ بات چیت بھی ایک مسئلہ ہے۔ بیرون ملک ورکرز کے ساتھ ملازمت کے معاہدے سے انحراف، تنخواہوں میں کمی اور کام میں تبدیلی جیسے مسائل بھی سامنے ہیں۔
پاکستانی ورکرز کے بچوں کو سکولوں میں داخلے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تجدید میں درپیش مشکلات اور سفارتی خدمات کی غیر مناسب فراہمی کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی ورکرز کو حوالہ ہنڈی سے بچانے کے لیے کسی قسم کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ مسائل جنم لیتے ہیں اور ترسیلات زر بھی متاثر ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق پالیسی کی تشکیل میں عالمی ادارہ محنت سے بھی مشاورت کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

بیرون ملک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کی تعداد یا ان کے بارے میں ڈیٹا کی دستیابی نہ ہونے کے باعث بوقت ضرورت ان کی معاونت کرنے اور ان کی ضروریات کا اندازہ لگانے میں بھی مشکلات ہوتی ہیں۔ ان تمام چیلنجز کے باعث پاکستانی ورکرز عموماً نہ صرف بیرون ملک بلکہ وطن واپس آنے کے بعد بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
پالیسی میں مقاصد اور درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے حل بھی تجویز کیے ہیں۔ جس کے مطابق 1979 کے امیگریشن آرڈینینس اور دیگر متعلقہ قوانین میں ترامیم کے ذریعے ورکرز کی ٹریننگ، ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی استعداد کار میں اضافہ اور کمیونٹی ویلفئیر اتاشیوں کے کردار میں بہتری تجویز کی گئی ہے۔
پالیسی میں انسانی سمگلنگ روکنے، بہترین ریکروٹمنٹ کے لیے مراعات، ورکرز کو بیرون ملک بھجوانے کے اخراجات میں کمی اور ورکرز کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بیرون ملک ورکرز کی مانگ کو سامنے رکھتے ہوئے پیشہ وارانہ مہارت کو فروغ دینے، بیرون ملک ورکرز کے تحفظ اور سستی، محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بروئے کار لاتے ہوئے ترسیلات زر بھجوانے کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئی پالیسی میں ورکرز کی مہارتوں کو نکھارنے جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

سٹیک ہولڈرز سے مشاورت
اس پالیسی کی تشکیل کے لیے مقامی اور عالمی تنظیموں، سول سوسائٹی، ایکڈیمیا اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں 2008 سے کئی ایک مشاورت فورمز کا اہتمام بھی کیا جاتا رہا ہے۔
اس پالیسی کی تشکیل میں ورکرز کے حقوق کے تحفظ اور ان کی بہبود سے متعلق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے حکومت کو تکنیکی سپورٹ اور تجاویز بھی دی ہیں۔
اردو نیوز کے استفسار پر آئی ایل او کی جانب سے بتایا گیا کہ ‘اس پالیسی بارے ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار آئی ایل او سے مشاورت کی گئی اور ہم نے بین الاقوامی قوانین، عالمی لیبر کنونشنز اور بنیادی انسانی حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے تجاویز دی ہیں۔ ان تجاویز میں پاکستان کو مختلف کنونشنز پر دستخط کرنے، میزبان ممالک سے دو طرفہ بات چیت کرنے کے علاوہ ورکرز کی مہارتوں کو نکھارنے جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ورکرز کی ریکروٹمنٹ میں ہونے والی بے ضابطگیوں، ان سے زائد فیسوں کی وصولی اور ملازمت کے معاہدوں سے متعلق ان کو لاعلم رکھنے کے مسائل کا حل بھی تجویز کیا گیا ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جون 2020 میں 23 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب اوورسیز ایمپلائمنٹ پرووموٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز ظہور چیمہ نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ‘ہمارے ساتھ وزارت سمندر پار پاکستانیز نے براہ راست مشاورت نہیں کی تاہم ایک قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ پالیسی دیکھنے کو ملی تھی جس میں اپنی تجاویز دی تھی۔ اگر ہم سے براہ راست تجاویز دی جاتیں تو ہم بہتر تجاویز دے سکتے تھے۔’
انھوں نے کہا کہ ‘ہم اپنے 50 سالہ تجربے کی روشنی میں جو تجاویز دیتے وہ پاکستانی ورکرز کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتیں تاہم کسی بھی پالیسی کو موثر بنانے اور اس پر عمل در آمد کے لیے پاکستان کے بیرون ملک مشنز اور سفارت خانوں کو متحرک کرنا ہے۔ اگر پالیسیاں بنتی رہیں اور متعلقہ ممالک میں سفارت خانہ اور کمیونٹی ویلفئیر اتاشی متحرک نہ ہوں تو ورکرز کے مسائل حل نہیں ہو سکتے

————
بشیر چوہدری -اردو نیوز، اسلام آباد