نیشنل ڈیزاسٹر کے دوران سندھ وفاقی حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر کے دوران سندھ وفاقی حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے، لیکن وفاق کی جانب سے طنز کر کے کہا جاتا ہے کہ سندھ کو پیسہ نہیں دیں گے۔ یہ کسی کے باپ کا پیسہ نہیں، سندھ کا پیسہ ہے۔ موجودہ حکمران قدرتی آفات کے دوران بھی عوام کے پیسے ان ہی پر خرچ کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس 20 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگی، جس کی میزبانی پاکستان پیپلزپارٹی کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاﺅس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیرعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو، جنرل سیکریٹری وقار مہدی، صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، سعید غنی، سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب اور وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی راشد ربانی بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سمیت سندھ حکومت کے اراکین دن رات محنت کر رہے ہیں، سیلابی صورتحال میں لوگوں کو ریلیف پہنچائیں گے۔ ماضی میں اس سے کم بارش پر سب ایک پیج پر تھے، ڈونیشن کی مہم چل رہی تھی، آج اس سے بھی بڑا ڈیزاسٹر ہے، عوام کیلئے یہ مشکل وقت ہے، لوگوں کے کاروبار، دکانیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، کورونا کے بعد یہ سب سے مشکل وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے مختلف اضلاع میں دورے کئے، خود موجود رہے، جہاں ان کا لیگل رول نہیں تھا ان علاقوں میں بھی سی ایم صاحب موجود تھے، کراچی میں بارش کے پانی کی نکاسی ہوگئی ہے، کچھ مقامات پر اب بھی پانی ہے، جسے بھی جلد نکالا جائے گا۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں کے لئے 800 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ دو سال بعد ہمیں نظر آرہا ہے کہ اب وفاق بھی کراچی کے لئے سنجیدگی سے کام کرنا چاہ رہا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے امید ظاہر کی کہ عمران خان کراچی پہنچ کر ریلیف کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کرینگے، امید ہے کہ اب شہر میں منصوبوں پر کام ہوگا ،کراچی کی جو ضروریات ہیں وہ پوری ہوں گی، کراچی کی ترقی صوبے اور پاکستان کیلئے فائدہ مند ہے، سیوریج، صفائی کے نظام سمیت دیگرمعاملات میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نے بارش سے متاثرہ افراد کیلئے 2000 ٹینٹس دیئے ہیں، لیکن ضرورت اس سے بہت زیادہ ہے۔ کراچی شہر میں تین نالے صاف کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، امید ہے سب اپنا کردار ادا کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرپورخاص، عمر کوٹ، بدین کے عوام بری صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، عمرکوٹ میں مرچ کی فصل تباہ ہوگئی اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں بھی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جہاں کسانوں کو نقصان ہوا وہاں وفاقی حکومت اس کا ازالہ کرے۔ سندھ میں ایسے مقامات ہیں جہاں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، ماضی میں جس طرح پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے وطن کارڈ کا اجراء کیا تھا، موجودہ حکومت کو بھی اسی طرح کے اقدام اٹھانا چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے شکرگزار ہیں جو مشکل وقت میں کراچی آئے، آرمی چیف بھی کراچی پہنچے، اس سے بہت اچھا پیغام گیا۔ وزیراعظم کل کراچی پہنچیں گے، ہمیں اور پورے صوبے کو ان کاانتظار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے، وفاقی حکومت اس کیلئے بھی اقدامات کرے۔ وفاقی حکومت نے مشکل وقت میں کے الیکٹرک کیلئے یونٹ میں اضافہ کر دیا، جبکہ اِس وقت سب تباہ ہے، کراچی کے عوام کیلئے یہ فیصلہ واپس لیا جائے، اس وقت عوام کو ریلیف کی ضرورت ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت کا تعاون درکار ہے، کوشش ہے آج اور کل کراچی کے متاثرعلاقوں کا جائزہ لے لیں، صوبے کے دوسرے متاثرہ علاقوں میں بھی جانا ہوگا۔ ہم اس وقت انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر کے دوران بحالی کیلئے وفاقی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں،سندھ حکومت اپنے بجٹ سے بھرپور کوشش کر رہی ہے، لیکن امید ہے وفاق بھی تعاون کرے گا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم ہمارے لئے فنڈ ریزنگ بھی کریں گے، وزیراعظم نے گھر دینے کا وعدہ کیا تھا بارشوں میں جن کے گھر تباہ ہوئے، ان کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ ہمیں فوری طور پر سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف چاہئے، بحریہ ٹاﺅن کے حوالے سے ہمارا جو پیسہ عدالتوں میں پھنسا ہوا ہے اس کیلئے بھی اقدامات کرنے ہیں، یہ پیسہ ملیر کی زمینوں کا ہے سندھ کے عوام کا ہے، یہ سندھ حکومت کو ملنا چاہئے۔ عوام مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ، اس بات کو پورے پاکستان تک پہنچایا جانا چاہئے، لوگوں کوسمجھانا ہے کہ صرف اس شہر میں نہیں اور شہروں میں بھی نقصان ہوا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کروناوائرس وبا، ٹڈی دل اور اب بارشوں کی تباہ کاریوں سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ عوام کے کاروبار، املاک اور فصلوں کو نقصان ہوا ہے۔ ایسے میں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طنز کر کے کہا جاتا ہے کہ سندھ کو پیسہ نہیں دینگے، یہ کسی کے باپ کا پیسہ نہیں، سندھ کا پیسہ ہے اس سے پورا پاکستان چلتاہے۔ وفاق سے بیان آتا ہے کہ سندھ کو پیسہ نہیں دیں گے ایسے بیانات بند کریں۔ یہ ہمارے عوام کے پیسے قدرتی آفات پر خرچ کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ نیشنل ڈیزاسٹرمیں ہر صوبے، ہرشہر کی مدد کرنا ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف بزدار کے صوبے کو دیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم میثاقِ جمہوریت پر بات کرنا چاہ رہے ہیں، دو سال ہوگئے، لاہور، پختونخواہ، بلوچستان کا بلدیاتی نظام ختم کر دیا گیا۔ صرف پیپلزپارٹی نے اپنے مخالف کو کام کرنے دیا، کیونکہ عوام نے مینڈیٹ دیا تھا۔ سندھ کی حکومت کے پاس ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اختیار ہے، مرادعلی شاہ ایسا ایڈمنسٹریٹر لے کر آئیں جس سے وہ کام کرا سکیں اور نتائج دیں۔ ایک سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ وزیراعظم کا شیڈول ہمارے پاس نہیں، سوسال بعدایسی قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا، صوبے اور وفاق کے درمیان مسائل پر آئینی فورمز موجود ہیں، ریلیف کیلئے ہم دن رات کام کر رہے ہیں، کراچی کیلئے ورلڈ بینک اور دیگر سے قرضہ لیا، ماضی میں وفاقی حکومت کا کردار تھا، امید ہے ڈونرزکے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیفنس کے علاقے کی عوام بھی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا جہاں ایڈمنسٹریٹو اختیار نہیں، وہ وہاں بھی کام کر رہے ہیں۔ ڈیفنس میں شہریوں کے احتجاج پر مقدمے کے اندراج کا مجھے علم نہیں، لوگ اس وقت ناراض ہیں، ہمیں حوصلہ دکھانا چاہئے، عوام اگر غصے کا اظہار کریں تو اس کے جواب میں ایف آئی آردرج نہیں ہونا چاہئے۔ ایک اور سوال پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کے معاونِ خصوصی عاصم سلیم باجوہ نے استعفی دیا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اگر اس ملک میں ایک قانون ہے تو جو سلوک ہمارے ساتھ ہوتا ہے وہ سب وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ خورشید شاہ پر الزام لگا، گرفتار ہوئے اور پھر تحقیقات شروع ہوئیں۔ وفاقی حکومت کے جو معاون خصوصی یا مشیر ہیں تو ان کو بھی پہلے اپنے اثاثے ظاہر کرنا چاہئیں تھے، اگر کسی مشیر کی اسپین میں جائیدادیں نکلتی ہیں تو سوال بنتا ہے ، توشہ خانہ کے معاملے پر ہمارے ساتھ کیسا رویہ رکھا جاتا ہے ، اگر سابق صدر اور فوج کا کمانڈر ان چیف عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے تو شہزاد اکبر اور زلفی بخاری کیوں پیش نہیں ہوسکتے، جسٹس فائض عیسیٰ کی اہلیہ کیلئے جو زبان استعمال کی گئی، وہ درست نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف پانامہ پر پہلے جے آئی ٹی بنتی ہے اور ہمارے خلاف اخباری بیان پر جے آئی ٹی بنتی ہے تو دوسروں کیلئے بھی جے آئی ٹی کب بنے گی، یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کے فیصلے کے تحت آل پارٹیز کانفرنس 20 ستمبر کو اسلام آباد میں ہو گی جس کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہونے پر وطن واپس آئیں گے۔