حکومت نے دو سال میں 11.3 کھرب روپے قرضہ لے کرریکارڈ قائم کیا ۔ ایکسپور ٹ میں اضا فے کےلئے کاروباری لا گت کم ،بجلی وگیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے دو سال میں 11.3 کھرب روپے کا قرضہ لینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے جس سے جی ڈی پی کے تناسب سے قرضہ 87.2 فیصد تک جا پہنچا ہے ۔ یہ قرضہ 2019 میں 86.1 فیصد تھا جس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو پریشان کن ہے ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ جون 2018 سے جون 2020 تک غیر ملکی قرضوں میں بھی تقریباً 52 فیصد اضافہ ہواجو تشویشناک ہے ۔ انھوں نے کہا کہ قرضوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ آئی ایم ایف کے احکامات ہیں جنکی وجہ سے روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی لائی گئی اور ہماری کرنسی دو سال میں ڈالر کے مقابلہ میں 110 روپے سے 167 روپے تک گر گئی تاہم اس سے ملکی ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیاجبکہ غربت میں اضافہ ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں ایک روپے کا اضافہ ملک پرغیر ملکی قرضوں کے حجم میں ایک سو ارب روپے کا اضافہ کرتا ہے مگر روپے کی قدر کم کرتے ہوئے اسے نظر انداز کر دیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی سفارش پر روپے کی قدرتو فوراً کم کر دی جاتی ہے مگر معاشی پالیسی ، انتظامی اصلاحات، محصولات کے نظام بہتر بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، شفافیت، ٹیکسوں کے منصفانہ بوجھ، ان ڈائریکٹ ٹیکس کم کرنے اور قرضوں پر دارومدار کم کرنا ممکن نہیں بنایا جا تاجس پر آئی ایم ایف بھی زیادہ زور نہیں دیتا ۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکس جمع کرنے کے لئے اب بھی زیادہ انحصار ان ڈائریکٹ ٹیکسزپر ہے جس سے غربت، مہنگائی اور دیگر سماجی مسائل بڑھتے ہیں جسے بہتر بنانا ضروری ہو چکا ہے مگر اسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ اس سے عوام کی قوت خرید پر منفی اثر پڑتا ہے اور وہ ضروریات زندگی حاصل کرنے کے قابل نہیں رہتے جس سے بے چینی اور جرائم بڑھتے ہیں جبکہ طلب کم ہو جاتی ہے جس سے پیداواری شعبہ متاثر ہوتا ہے ۔ تیل کی مقامی پیداوار میں 20فیصد تک کمی اور درآمدات میں 25فیصد تک کمی کے باوجود حکومت نے مالی سال 2020 میں 2019 کے مقابلہ میں پٹر ولیم لیوی کی مد میں 43 فیصد زیادہ وصولی کی جس نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ معاشی مسا ئل کے حل کےلئے کاروباری لا گت میں کمی اورصنعتوں کو بجلی وگیس کی مسلسل فراہمی اشدضروری ہے ۔
— —