ماہی گیر دشمن پالیسیوں کے خلاف سینکڑوں ماہی گیروں نے ڈیپ سی ٹرالرز کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

فشر مینز کوآپریٹو سوسائٹی کے وائس چیئرمین ابوذر ماڑی والا، ڈایکٹر ڈاکٹر یوسف کے STOPA صدر حبیب اللہ نیازی،عرفان احمد اور پاکستان فشر فوک فورم کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ اور دیگر ماہی گیر نمائندوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے ڈیپ سی فشنگ ٹرالروں کے لائسنس جاری کرنے فشر مینز کوآپریٹو کے چیئرمین کے چین کی کمپنی ” فیوجیان ہھینگلی “کے ساتھ غیرقانونی معائدہ کو رد کرتے ہوئے اس ایگریمنٹ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان ماہی گیر دشمن پالیسیوں کے خلاف سینکڑوں ماہی گیروں نے ڈیپ سی ٹرالرز کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایف سی ایس کے وائس چیئرمین ابوذر ماڑی والا نے کہا کہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت نے ساحلی پٹی کے ساتھ مچھلی کے شکار کیلئے ڈیپ سی ٹرالروں کو لائسنس جاری کیئے ہیں جب کہ تقریبا 12 ڈیپ سی ٹرالر کراچی پورٹ کے قریب کھڑے ہیں ۔ ڈیپ سی میں مچھلی مارنے سے نہ صرف ماہی گیروں کے روزگار پر اثر پڑے گا ، بلکہ اس سے سمندری حیات تباہ ہوگی اور ساتھ ساتھ سمندری آلودگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت کسی بھی ماہی گیر ڈائریکٹر ز کو اعتماد میں لیئے بغیر بلکہ بورڈ کی منظوری کے بغیر کرپٹ سابقہ چیئرمین حافظ عبدالبر اور اس کے حواریوں نے یہ معاہدہ کیا جب کہ کسی بھی ماہی گیر ڈائریکٹرز نے ڈیپ سی فشنگ پالیسی کی منظوری نہیں دی ۔
ڈاکٹر یوسف نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف سندھ ہائیکورٹ سے اپیل کی کہ جعلی طریقے سے جو اسٹے لیا گیا ہے اس کو فورن ختم کرکے حافظ عبدالبر اور اس کے دیگر قانونی حواریوں کو فشرمینز کوآپریٹو سوسائیٹی سے نکال باہر کیا جائے اور حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عبدالبر کو برطرف کرکے ماہی گیرنمائندوں کے حوالے کیا جائے ۔ حبیب اللہ نیازی نے کہا کہ ڈیپ سی ٹرالروں سے ہمارے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو خطرہ لاحق ہے کیوں کہ یہ ٹرالر صرف وہ مچھلی پکڑتے ہیں جن کی انہیں ضرورت ہے
باقی غیر ضروری مردہ مچھلی سمندر میں پھینکتے ہیں اور سمندری گندگی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
پاکستان فشرفوک فورم کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ نے کہا کہ وفاقی حکومت ، سندھ حکومت اور فشرمینز کوآپریٹو سوسائیٹی کے جعلی و چور چیئرمین کو وارننگ جاری کرتے ہیں کہ اگر ڈیپ سی ٹرالروں کے لائسنس ختم نہ کیئے گئے تو ماہی گیر ہزاروں کی تعداد میں فشرمینز کوآپریٹوسوسائیٹی کے آفس کا گھیراؤ کریں گے ۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فشرمینز کوآپریٹو سوسائیٹی کے نام نہاد اور جعلی چیئرمین جس کی مدت یکم مئی 2020 کو ختم ہوچکی ہے ان کو فوری برطرف کیا جائے اور ڈیپ سی ٹرالرز کے لائسنس منسوخ کیئے جائیں۔