پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی نے ریڈیو پاکستان کی فیصل آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری-

پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (پھاٹا) نے ریڈیو پاکستان کی فیصل آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریڈیو اسٹیشن کی اراضی خالی کرنے کو کہا ہے کیونکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اسے دوسرے ‘فائدہ مند مقاصد’ کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

تاہم ریڈیو کے سابق ملازمین اور مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ ریڈیو اسٹیشن کی زمین کا قیمتی ٹکڑا طویل عرصے سے لینڈ مافیا کی ’ہٹ لسٹ‘ میں تھا۔

رپورٹ کے مطابق ریڈیو پاکستان فیصل آباد اسٹیشن ستمبر 1982 میں پیپلز کالونی کے ڈی گراؤنڈ میں قائم ہوا تھا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ریڈیو اسٹیشن کی اس زمین کے حوالے سے معاملہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے لطیف نذر نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران اٹھایا تھا اور تجویز دی تھی کہ قیمتی اراضی کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ لطیف نذر جنہیں فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گورننگ باڈی کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا ہے، نے گزشتہ 22 جولائی کو وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔

انہوں نے وزیر اعظم کو تجویز دی تھی کہ ریڈیو اسٹیشن کو چند دوسری سرکاری عمارتوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ڈی گراؤنڈ کی جگہ کو کچھ اور ‘فائدہ مند مقاصد’ کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

بعد ازاں وزیر اعظم سیکریٹریٹ نے قواعد / پالیسی کے مطابق مناسب کارروائی کرنے کے لیے گزشتہ 28 جولائی کو وزارت اطلاعات کو ایک ہدایت نامہ ارسال کیا تھا اور اس کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔31 اگست کو ریڈیو اسٹیشن کے منیجر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پھاٹا کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ گزشتہ 19 اگست کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد اسٹیشن اراضی کی 99 سالہ لیز کی میعاد ختم ہوگئی تھی۔

نوٹس میں کہا گیا کہ ‘لہذا آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ڈی گراؤنڈ پارک میں تعمیر شدہ ادارے کو 7 روز کے اندر ہٹا دیں بصورت دیگر، عمارتیں مسمار کردی جائیں گی اور انہدام پر آنے والے اخراجات ریڈیو پاکستان کو اٹھانا ہوں گے’۔

نوٹس میں مینیجر کو متنبہ کیا گیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں ‘آپ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی’۔ دراصل لینڈ مافیاز طویل عرصے سے زمین کے قیمتی حصے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں دو مقامی سیاستدان بھائی جو اس وقت مسلم لیگ (ق) میں تھے اور اب حکمران جماعت تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں، نے کوشش کی تھی کہ وہ اپنے پسندیدہ افراد کو خوش کرنے کے لیے اسٹیشن اراضی خالی کروائیں تاہم اس وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے انہیں روک دیا تھا اور واضح طور پر ان سے کہا تھا کہ وہ اس مسئلے میں مداخلت کرنے سے باز رہیں۔

فیصل آباد ریڈیو اسٹیشن کے سابق ملازم علی حسنین نے کہا کہ یہ عمارت قومی اثاثہ ہے اور اسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے محفوظ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر قیمتی اراضی پر قبضہ کرنے اور اسے تجارتی استعمال کرنے کے لیے وزیر اعظم کو گمراہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیشن کو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے قائم کیا گیا تھا اور یہاں تجاوزات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔