چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس

چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس۔
  فوتی کوٹہ، ڈفرنٹلی ایبل پرسن (معزور افراد کا کوٹہ) اور نئیں بھرتیوں سمیت عارضی ملازمین کو مستقل کرنے سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
کراچی ) چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس، اجلاس میں  فوتی کوٹہ، ڈفرنٹلی ایبل پرسن (معزور افراد کا کوٹہ) اور نئیں بھرتیوں سمیت عارضی ملازمین کو مستقل کرنے سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیئر میمبر بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری سروسز اور سیکریٹری اطلاعات سمیت تمام محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ملازمت کے دوران فوت ہونے والے ملازمین کے لواحقین کو سرکاری نوکری دینے کے کوٹہ کے تحت 2019 سے اب تک مختلف محکموں میں 3822 ملازمتیں دی ہے۔ انہونے کہا کہ ڈفرنٹلی ایبل پرسن (معزور) افراد کے 5 فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے جس کے تحت مختلف محکموں میں ملازمتیں دی گئی ہے اور انہونے نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جن محکموں نے اشتہار نہیں دئے وہ اشتہار دے کر 5 فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں سندھ ریگیولرائیزیشن ایکٹ 2013 کے تحت مختلف وقتوں میں مستقل ہونے والے ملازمین کے حوالے سے بریفننگ دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ روینیو میں 52 عارضی ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے، محکمہ تعلیم میں 147 ملازمین کو مستقل کیا جا رہا ہے جب کے اقرہ یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی کے زریعے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لئے صوبائی وزیر تعلیم کی سربراہی میں قائم اسکروٹنی کمیٹی فیصلہ کرے گی۔  اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ پاپولیشن ویلفیئر میں 2200 ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے، محکمہ قانون میں پراسیکیوٹر سمیت 175 ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے، محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں 38 ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے، محکمہ اطلاعات میں 40 ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے، وومین ڈویلپمنٹ میں 46، لائیو اسٹاک میں 35، یونیورسٹی اینڈ بورڈ میں 530 ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کے محکمہ صحت کے 1298 ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے۔  اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ سندھ ریگیولرائیزیشن ایکٹ 2013 کے تحت جو ملازمین مستقل ہونے ہیں انہے جلد مستقل کیا جائے اور جو ملازمین ایکٹ کے تحت مستقل نہیں ہو سکتے ان کا عدالت کو بتایا جائے۔  عدالت میں زیر التوا مقدمات کا وقت پر جواب جمع کروایا جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضلعی سطح پر جہاں پر ڈی آر سی کے اجلاس نہیں ہوئے رپورٹ پیش کریں جس کے بعد ڈسٹرکٹ رکروٹمنٹ کمیٹی کے اجلاس بلا کر معاملات حل کئے جائیں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے نئیں بھرتیوں کے حوالے سے کہا کہ  آئے بی اے سکھر کے زریعے نئیں بھرتیاں کی جائے گی اور تمام محکمے نئیں بھرتیوں کے حوالے سے پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔