ج ملک کی تاریخ کا ایک ایسا اہم دن ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ آج ملک کی تاریخ کا ایک ایسا اہم دن ہے، جب ہم اپنی شہید قائد محترمہ بینظیر بھٹو کے 2008 کے منشور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عملی اقدام کررہے ہیں۔ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے، جس نے 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے میں محکمہ محنت میں 16 انقلابی قوانین بنائے اور آج ہم ’بینظیر بھٹو مزدور کارڈ‘ کا نادرہ کے ساتھ معاہدہ کرکے صوبے کے مزدورں اور محنت کشوں کو مزید سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اور قدم بڑھا رہے ہیں۔ ’بینظیر مزدور کارڈ‘ کے پہلے کارڈ کا اجراء انشاء اللہ یکم جنوری 2021 کو کردیا جائے گا اور اس کے پہلے مرحلے میں 6 لاکھ 25 ہزار ان مزدوروں اور محنت کشوں کے اسمارٹ کارڈز بنائے جائیں گے، جن کے اس وقت سیسی کے تحت مینوول کارڈز بنے ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کے آگے کے مرحلے میں 50 لاکھ مزدوروں اور محنت کشوں تک اس کا دائرہ کار وسیع کرلیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سیسی کے مرکزی دفتر میں ”بینظیر مزدور کارڈ‘ کی سیسی اور نادرہ کے درمیان معاہدہ کی تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے چیئرمین نادرہ عثمان یوسف مبین، سیکرٹری محنت عبدالرشید سولنگی، کمشنر سیسی اسحاق مہر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ تقریب میں رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ، وائس کمشنر سیسی طارق انور کھوکھر، ڈاکٹر عمر چنا، ارکان گورننگ باڈی سیسی، ڈی جی نادرہ عثمان جاوید، ڈی جی پروجیکٹ نادرہ انجم خان درانی، ڈاکٹر سادات میمن و دیگر نے شرکت کی۔ تقریب میں کمشنر سیسی اسحاق مہر اور نادرہ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر انجم خان درانی نے معاہدے پر دستخط کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم و محنت سندھ و چیئرمین سیسی سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ نے 18 ویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں کے مقابلے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے سب سے زیادہ نہ صرف قانون سازی کی ہے بلکہ مزدوروں کی فلاح کے لئے اقدامات بھی کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن بھی ایک تاریخی دن ہے، جو ان تمام کاموں سے کئی گنا بڑھ کر ہے اور وہ ”بے نظیر مزدور کارڈ‘ کے لئے نادرہ سے ہونے والا معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی نہیں بلکہ میرے مطابق دنیا میں کوئی ہی ایسا ملک ہوگا، جو اپنے مزدوروں اور محنت کشوں کے لئے اسمارٹ کارڈ کے ذریعے ان کی مکمل رجسٹریشن کے کام کو مکمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے اور اس کے پہلے مرحلے میں ان 6 لاکھ 25 ہزاران مزدوروں اور محنت کشوں کو اسمارٹ کارڈ فراہم کئے جائیں گے، جو اس وقت سیسی کے ممبرز ہیں اور ان کے مینوول کارڈز بنے ہوئے ہیں جبکہ اس پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ہم یونیوسلائزیشن آف لیبر کے تحت ان تمام کو اس نیٹ ورک میں لانا چاہتے ہیں، جو کسی فیکٹری یا ملز میں کام نہ کرتا ہو بلکہ اپنا کام کرتا ہو اور مزدوری کہ زمرے میں آتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ میرے تخمینہ کے مطابق 50 لاکھ سے زائد صوبے کے مزدوروں اور محنت کشوں کو اس طرح کے اسمارٹ کارڈ فراہم کرسکیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا یہ خواب تھا جو آج ہم شرمندہ تعبیر کرنے جارہے ہیں اور انہوں نے اس کا اظہار اپنے 2008 کے انتخابی منشور میں کیا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ پروجیکٹ 2016 میں شروع کیا گیا تھا تاہم اس درمیان کچھ مشکلات اور ایسے معاملات ہوئے کہ اس پر کام میں تعطل ہوا اور جب گذشتہ سال اس پر کام شروع کیا تو ہم نے یکم مئی 2020 کو پہلا کارڈ اجراء کرنے کا حتمی فیصلہ بھی کرلیا تھا تاہم کرونا وائرس کے باعث ایک بار پھر سے تعطل کا شکار ہوا اور الحمد اللہ نادرہ اور سیسی کے مابین اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور نادرہ کے چیئرمین سے استدعا کی ہے کہ یکم جنوری 2021 کو پہلا کارڈ جاری کردیا جائے اور انہوں نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ انشاء اللہ وہ اس میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اس پروجیکٹ کے لئے تمام ایمپلائرز اور محنت کشوں کو مکمل اعتماد میں لے کر اس کو مکمل کیا جارہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس اسمارٹ کارڈ کے اجراء کے بعد وہ مزدور اور محنت کش جو کسی بھی وجہ سے اس نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہیں وہ بھی اس کا حصہ بن جائیں گے اور مینوول کارڈ میں جو ٹرانسرینسی کا فقدان تھا اس کا بھی سدباب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارڈ کا اجراء نادرہ کے بغیر ممکن نہیں تھا کیونکہ مکمل ڈیٹا نادرہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس طرح کے مزید منصوبوں پر بھی کام کیا جارہا ہے، جس کے تحت سیسی، ورکر ویلفئیر بورڈ، ای او بی آئی اور مائنز ورکرز آرگنائیزیشن ان سب کو ایک چھتری تلے کردیا جائے گااور ایک قانون بنا کر ان سب کو ضم کردیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مزدوروں کو اس سے فائدہ حاصل ہوسکے اور جو جو خامیاں اور کرپشن ہے اس کا سدباب ہوسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مزدوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے جتنا مجھ سے باز پرس کرتے ہیں شاید وہ کسی اور کے بارے میں کرتے ہوں اور اس کارڈ کے حوالے سے بھی ان ہی کی ہدایات پرمکمل عمل درآمد کیا گیا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نادرہ عثمان یوسف مبین نے کہا کہ آج جو معاہدہ سیسی اور ہمارے درمیان ہورہا ہے وہ ایک تاریخی معاہدہ ہے اور اس سے ہم ایک جدید اور تمام خامیوں سے پاک ایک ایسا اسمارٹ کارڈ جاری کریں گے، جو مزدوروں اور محنت کشوں کو ان کے جائز حق دلوانے میں سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ نادرہ کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسمارٹ کارڈ کے ذریعے ہم مزدوروں اور ان کے بچوں کی مکمل صاف و شفاف کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ سیکرٹری مھنت رشید سولنگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ محنت اور سیسی نے آج اپنا ایک ایسا سنگ میل عبور کیا ہے، جو ملکی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت سندھ نے 18 ویں کے بعد سے جو جو قوانین اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کئے ہیں پورے ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی اور ہم اپنے وزیر سعید غنی کی قیادت میں اس طرح کے مزید انقلابی اقدامات کے لئے کوشاں ہیں۔ جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ، وزیر تعلیم و محنت سندھ، سعید غنی، فون 03333788079 وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی سیسی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ’بے نظیر مزدور کارڈ‘ کے حوالے سے منعقدہ معاہدے کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔ جبکہ دوسری تصویر میں کمشنر سیسی اور ڈی جی نادرہ معاہدہ پر دستخط کررہے ہیں اور بعد ازاں گورننگ باڈی سیسی کے ارکان کی تمام کے ہمراہ گروپ تصویر