کانٹوں سے بھر پور ڈرائیونگ سیٹ

سابق وزیر اعظم میا ں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے عید الضحے کے خاتمے کے ساتھ ہی ”چپ کا روزہ“ توڑ دیا ، اب یہ روزہ کب تک ٹوٹا رہے گا واللہ وعالم ، میا ں نواز شریف کی لندن میں ”سیر سپاٹے“جی ہاں ہماری حکومت کے کچھ وزراء جنکی روزی روٹی حزب اختلاف کے خلاف زبان درازی ہے ، وہ میاں نواز شریف جو تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور با ہوش انسان ہیں اگر وہ کہیں بیٹھ کر کافی سے لطف اندوز ہولیں اور تصویر شائع ہوجائے تو میڈیا میں چند دنوں رونق لگ جاتی ہے، اس بات پر تمام سنجیدہ مبصرین یک زبان ہیں کہ یہ تصویر ہرگز ”لیک نہیں ہوتی “بلکہ کی جاتی ہے، اور اب ”اللہ جانے کون بشر ہے“والی بات ہے لوگ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار میں چند دن بھی سکھ کا سانس نہیں لے سکی، مگر ایمانداری سے دیکھا جائے کہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں جو چند سال سیاست دانوں کو ملے ، جسے جمہوریت کا نام دیا گیا کبھی بھی کوئی سیاسی حکومت سکھ کا سانس نہ لے سکی، اس میں بیرونی عوام کے علاو ہ انکی اپنی محنت بھی شامل ہے جو وہ جمہوریت کے نام پر برسراقتدار آکر تمام غیر جمہوری اقدامات کو عوام پر استعمال کرتی ہے جس سے عوام میٰں جمہوریت کے خلاف راہ ہموار ہونے میں مدد ملتی ہے ۔ ایک دوسرے کی ٹانگیں گھسیٹنا اس خطے میں جس شدت سے ہمارے ہاں ہے اتنی کشامکش دنیا میں کہیں نہ ہوگی۔ جس سے جمہوریت پروان ہی نہیں چڑھتی،اور وہ نعرہ اپنا دم توڑ دیتا ہے کہ ”جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے “ اس نعرے کو لگا کر سیاست دان ایک دوسرے سے انتقام لینے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں اسوقت جو کساد بازاری ہے، بھوک افلاس، بے روزگاری ہے اس پر کبھی ستر سالوں میں اسمبلیوں کے بائیکاٹ کی خبر نہیں آئی، اس پر کوئی مظاہرہ نہ ہوسکا، کوئی دھرنہ نہ ہوسکا، جو حکومت اقتدار چھوڑکر جاتی ہے یا جس سے اقتدار چھوڑوایا جاتا ہے آنے والے دنوں میں حالات اس سے بدتر ہوجاتے ہیں اور پاکستان ایک بند گلی کی طرف گامزن ہوجاتا ہے بی بی مریم نواز نے چپ کا روزہ ایسا توڑا کہ یہ نوید بھی دے دی کہ بہت جلد وہ پاکستانکی سیاست میں ڈرایؤنگ سیٹ پر ہونگیں، ہمارا خیال تھا کہ بیٹی ہونے کے ناطے بی بی مریم اپنے والد سے جو بیمار ہیں ان سے بے پناہ محبت کرتی ہونگی مگر اس کانٹون سے آراستہ ڈرائیونگ سیٹ پر انکے آنے کا مسئلہ سمجھ سے بالا تر ہے۔حکومت جو میاں نواز شریف کو بھیجنے میں ساجھے دار نہ تھی ، اور نہ ہی وہ انہیں لا سکتی ہے صحت کے معاملات تو پاکستانکے معصوم عوام کیلئے ہین یہ تماشہ تو عوام کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں، جیسے مشرف کو پاکستان مین عدالت نے طلب کیا ، وہ عدالت کے راستے سے ہی ہسپتال پہنچا دئے گئے چونکہ یہ انکی توہین تھی کہ وہ عدالت میں پیش ہوں، توہین عدالت تو ہوسکتی ہے مگر مشرف کی توہین نہیں ہوسکتی کہ وہ عدالت آئیں ، وہ مفرور قرار دے دیے گئے، مگر تاحال لندن اور دوبئی کی یا ترہ کررہے ہیں، میاں نواز شریف پر بظاہر کرپشن کے الزامات ہیں، جنہیں ہر دو ماہ بعد حکومت دعوی کرتی ہے انکی واپسی کا ،جبکہ دوسری جانب وطن عزیز کی بہادر افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، ہندوستان کو مدد کیلئے آوازدینے سمیت اسطرح کے بے شمار سنگین اور صحیح الزمات والے ایم کیو ایم کے بانی کہا جاتا ہے کہ
مگر ملک کے کسی کونے سے الطاف حسین کو واپس لانے کی بات نہیں ہوتی انکے پاکستان آنے پر پاپندی ہے جبکہ انکی جماعت اور انکے ساتھیوں کو ”نہلا دھلا “کر ایم کیو، ایم پاکستان کا نام دے دیا گیا۔نواز شریف موجودہ حکومت کو زیادہ خطر ناک لگتا ہے اسلئے اسے لا سکو یا نہ لاسکو واپسی لانے کا شور ضرور مچاؤ۔کہتے ہیں کہ جب تک بھیجنے والے از خود یہ طے نہ کرلیں (چاہے سیاسی لوگ ہوں یا غیر سیاسی )) جس دن طے ہوگیا کہ میاں نواز شریف کو آنا ہے وہ پیدل لندن سے پاکستان کیلئے روآنہ ہوجائینگے، یہ پاکستان کی تاریخ میں ہوچکا ہے بے نظیرشہید نے جب جلاوطنی کانٹی تو پاکستان آنے سے قبل پرویز مشرف اور انکے نمائیندوں سے کئی مرتبہ ”ملاقاتیں“ ہوئیں،یہاں تک کہ لندن تک ”ہرکارے “گئے تھے ۔ جب میاں نواز شریف جدہ سے اپنی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان روآنہ ہوئے تو اس سے قبل انکی جدہ کی رہائش گا ہ پر ”ہرکاروں“ کی آمد و رفت تو میں نے اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھی ہے۔حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے پر بلیک میلنگ کا الزام لگاتی ہے اور اپنا وقت پور ا کرتی ہے جسکے نتیجے میں لوگوں کے مسائل جو ں کے توں رہتے ہیں بلکہ مزید شدید ہوجاتے ہیں، کوئی بھی حکومت حزب اختلاف سے بیٹھ کر کم از کم قومی معاملات پر بات کرنے سے گریزاں رہتی ہے، بعض معاملات جس ملکی سا لمیت کے ہیں ان پر بحث مباحثہ ہوتا ہے چند دن الزام تراشیاں پھر یک دم کسی ”غیبی طاقت“ سے متنازعہ معاملات پر یک جاں دو قالب ہوجاتے ہیں ۔ آج کا موضوع FATF ہے، جس پر ہمارے میڈیا کی روٹی لگی ہوئی ہے اور لاحاصل مباحثیں ہورہے ہیں ایک صبح پوری اسمبلی اور سیاسی جماعتیں یک زبان ہونگیں چونکہ یہ واقعی ہی قومی معاملہ ہے، پاکستان ایف اے، ٹی ایف کے گرداب میں بھی سیاسی جماعتوں، مشرف جیسے آمروں کی وجہ سے آیا جب ہم نے امریکہ کے کہنے پر افغان مسئلے پر جنگجووں کی سرپرستی شروع کی، شدت پسند مذہبی لوگوں نے مدرسوں کو ہتھیار کی مخزن بنایا ، ان سب معاملات کیلئے رقم چاہئے ہوتی ہے جو کسی غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی بلاآخر یہ رواج چل نکلا ، اور اس کا خمیازہ پاکستان کی نیک نامی اور عوام کو بھگتنا پڑا ، جب سے پاکستان اس ایف اے ٹی ایف کے ایجنڈے پر آیا ہمارا ازلی دشمن پاکستان کو بدنام کرنے، نقصان پہنچانے کے ایسے مواقع پر نیچلا نہیں بیٹھتا، پاکستا ن دشمن قوتیں مصروف ہوجاتی ہے، ہماری عوام پہلے ہی کوئی تعلیم کی رغبت نہیں رکھتی ، دوسری جانب جسطر ح آج تک عوام کو کالا باغ ڈیم کیا ہے نہیں بتا سکے اور اسے سیاسی مسئلہ بنا دیا ، اسکی حمایت یا مخالفت صوبوں کی بنیاد پر ہوتی ہے ،پتہ کسی کو کچھ نہیں کہ ہے کیا ؟؟اسی طرح ایف اے ٹی ایف بھی عوام پر مکمل عوام کی سمجھ بوجھ سے باہر ہے حزب اختلاف کو پسند کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف ملک کا سودا کررہی ہے، جبکہ حکومت کے حامی یہ کہتے ہیں حزب اختلاف ملک دشمن ہے ایف اے ٹی ایف پر سب کو حکومت کا ساتھ دینا چاہئے اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کہے گئے تمام احکامات کو ماننا چاہئے، کاش یہ ہوتا کہ حکومت اور حزب اختلاف یک زبان ہوکر یہ کہیں کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے نکات میں کشمیر جیسے معاملات پر نظر ڈالی جائے کہ ہندوستانی دہشت گردی تو وہاں ہے، جب پاکستان کشمیر کی حمائت کرتا ہے تو ہندوستانی الزام کہ پاکستان دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے ، اور دنیا کی نظریں ہم پر آکر جم جاتی ہیں۔ کاش ہماری سفارت کاری ، اور معیشت ایسی ہوتی کہ ایف اے ٹی ایف میں ہر سر اٹھا کر بیٹھتے ہم پر منی لانڈرنگ، دہشت گردی وغیرہ کے لغو الزامات نہ لگتے، ذیل میں اس تنظیم کا مختصر تعارف قارئین کیلئے ضروری ہے
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین سرکار تنظیم ہے جو مالی جرائم سے نمٹنے کے لئے پالیسیاں بناتی ہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ذریعہ تیار کردہ سفارشات منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی اعانت اور عالمی مالیاتی نظام کو درپیش دیگر خطرات کا نشانہ بناتی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف 1987 میں جی 7 کے کہنے پر تشکیل دیا گیا تھا اور اس کا صدر دفتر پیرس میں ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، یا ایف اے ٹی ایف کو اصل میں منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔ اس میں توسیع کی گئی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر تباہی، بدعنوانی، اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ہتھیاروں کی مالی اعانت کو بھی نشانہ بنایا جاسکے۔ٹاسک فورس کا آغاز 1989 میں پیرس میں کیا گیا تھا تقریبا تمام ترقی یافتہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی حمایت کرتے ہیں یا ان کے ممبر ہیں۔دراصل عالمی معیشت کے عروج اور بین الاقوامی تجارت نے منی لانڈرنگ جیسے مالیاتی جرائم کو جنم دیا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) مالی جرائم سے نمٹنے کے لئے سفارشات دیتی ہے چونکہ منی لانڈررز اور دیگر افراد کسی بھی خدشے سے بچنے کے لئے اپنی تکنیک میں ردوبدل کرتے ہیں، لہذا ایف اے ٹی ایف کو ہر چند سالوں میں اپنی سفارشات کو اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے 2001میں دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لئے سفارشات کی ایک فہرست شامل کی گئی تھی، اور تازہ ترین شرایط، جو 2012 میں شائع ہوئی تھی، سفارشات میں توسیع کرکے نئے خطرات کو نشانہ بنایا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی مالی اعانت بھی شامل ہے۔ شفافیت اور بدعنوانی پر واضح ہونے کے لئے سفارشات بھی شامل کی گئیں۔اس تنظیم کے 37 ممبران ہیں
۔ایک بار رکن بننے کے بعد، کسی ملک یا تنظیم کو FATF کی حالیہ سفارشات کی تائید اور حمایت کرنی ہوتی ہے، دوسرے ممبروں کے ذریعہ اندازہ (اور تشخیص) کرنے کا عہد، اور مستقبل کی سفارشات کی ترقی میں ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے کاعہد شامل ہے۔بین الاقوامی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد مبصرین کی حیثیت سے ایف اے ٹی ایف میں حصہ لیتی ہے، جن میں سے ہر ایک کا منی لانڈرنگ کے خلاف سرگرمیوں میں کچھ دخل ہے۔ ان تنظیموں میں انٹرپول، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی)، اور عالمی بینک شامل ہیں۔۔اللہ پاکستان کو اسکے شر سے محفوظ رکھے اور ہمارے سیاست دانوں کی کوششوں سے پاکستان اس لسٹ سے باہر آجائے، مندرجہ بالا قوانین کے مطابق اگر خداخواستہ کسی ملک پر بلیک لسٹ کا لیبل لگتا ہے تو وہ ملک دنیا بھر مین اپنی credibility کھو دیتا ہے تجارت نہیں ہو پاتی وغیرہ وغیرہ ۔ اللہ وطن عزیز کو وطن عزیز کے اندر اور باہر ملک دشمنوں سے نجات دلائے جنکی نادانیوں سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میٰں آیا ۔

امیر محمد خان