اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے

افواج پاکستان سے یکجہتی کا تصور گویا روح کو سرشار کر دیتا ہے دل جذبے سے بھر جاتا ہے اور فوجی جوانوں کی لازوال قربانیوں کی داستانیں آنکھیں نم کر دیتی ہے جنگ ستمبر 1965 کا تذکرہ دلوں کو گرماتا جوش و جذبے کو ابھارتا اور ایمان و یقین کو تازہ کر دیتا ہے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والے اس قابل فخر دن کے حوالے سے آج اظہار خیال کرو گا پاک فوج کو فخر حاصل ہے کہ اس کے دامن میں کھلنے والے پھول وطن کی آن بان شان پر نچھاور ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے غیور قوم کے یہ بیٹے دشمن کی سازشوں سے آگاہ ہیں انہوں نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا اور نہ کریں گے وہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہونے والی اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں پاکستان کی تینوں افواج ہر محاذ پر برسر پیکار تھیں ان افواج کی حوصلہ اور تقویت عطا کرنے میں پاکستان کی غیور عوام کا بھی نہایت اہم کردار تھا 6 ستمبر کا دن ہمارے اس عزم کی علامت ہے کہ اگر کسی نے ہماری سرحدوں کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی تو ہم جارحیت کو کچلنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے جنگ ستمبر 1965 کا جذبہ ایک کسوٹی ہے جس پر ہم بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار اور کارگردگی کو پرکھ سکتے ہیں اور بحیثیت قوم اپنے رویوں اور صلاحیتوں کو جانچ سکتے ہیں 1965 کی جنگ نے جہاں ہمیں اپنے بہادر سپاہیوں کی جرات ، استقامت ، اور بے لوث قربانیوں کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا وہاں اس نے ہمارے اجتماعی رویوں کے ان روشن پہلووں کو بھی اجاگر کیا جن میں ملی وحدت تنظیم حب الوطنی اور قومی افتخار نمایاں ہے اس دن پوری قوم جارحیت کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے فرد واحد کی طرح آٹھ کھڑی ہوئی ہماری بہادر مسلع افواج اور عوام کے مابین ایک ایسا جذباتی رشتہ استوار کیا جو ہمیشہ دلوں کو گرماتا رہے گا یہ ہمارے قومی شعور کا ایسا بھر پور اور جانفزا تجربہ ہے جو باعث افتخار بھی اور قابل تقلید بھی آج ہم اپنے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اپنے غازیوں کے لیے سراپا سپاس ہیں ہمیں جنگ 1965 کے ایک اہم سبق کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایمان و اتحاد اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے اور قربانیاں دینے کے عزم و حوصلے سے ہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں 6 ستمبر شہیدوں اور غازیوں کو یاد کرنے کا دن ہی نہیں یہ دن ہماری عظمت اور بہادری کا نشان ہے 6 ستمبر اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل فخر اور یاد گار دنوں کا درجہ رکھتا ہے قوم اپنے جرات مند فرزندوں شہیدوں مجاہدوں کی بہادری اور حب الوطنی پر کیوں ناز نہ کرے جنہوں نے اپنے ملک کی سالمیت و حفاظت کے لیے اپنی خوبصورت جان بلند حو صلہ کے ساتھ ہمارے آنے والے کل کے لیے قربان کر دی اسی لیے شاعر صوفی غلام مصطفی تبسم نے لکھا

اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کی لبھنی ایں وچ بازار کڑے

اس پر پوری پاکستانی قوم رہتی دنیا تک اپنے شہیدوں مجاہدوں کو سلام پیش کرتی رہے گی جنگ ستمبر 1965 میں دشمن کے مقابلے میں چھوٹے مگر غیور اور متعد ملک پاکستان نے دشمن کے جنگی حملوں کا اس پامبردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ اس کے سارے عزائم خاک میں مل گئے اس جنگ میں جنگی سازو سامان کی کم تعداد کے باوجود پاکستان افواج اور قوم نے اپنے جوش ولولے اور جذبہ شہادت سے ثابت کیا کہ وہ اپنی مقدس سر زمین کے چپے چپے کا دفاع کرنے کی ہر ممکن صلاحیت رکھتی ہیں