پراپرٹی سیکٹر ڈوب گیا آٹو انڈسٹری کی چاندی ۔پراپرٹی کی بجائے گاڑیاں بک کرانے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی چاندی ۔کراچی میں بارشوں کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ۔مختلف کمپنیوں کی گاڑیوں کی قیمتوں میں 1 سے 3 لاکھ روپے کا اضافہ ۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق کرونا وائرس اور اس کے بعد کراچی میں طوفانی بارشوں کے بعد مختلف گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی چاندی ہوگئی ہے اور مختلف کمپنیوں کی گاڑیوں کی قیمتوں میں 1 لاکھ سے تین لاکھ روپے اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ انویسٹرز کا پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبوں سے سرمایہ کاری کی شفٹنگ بتائی گئی ہے سرمایہ کاروں نے کراچی میں طوفانی بارشوں میں بڑی تعداد میں گاڑیاں ناکارہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل میں مارکیٹ ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی تعداد میں نئی گاڑیوں کی بکنگ اور خریداری میں سرمایہ کاری کی ہے اور زبردست ڈیمانڈ کی وجہ سے گاڑیوں کی کمپنیوں کی جان دی ہوئی ہے اور ایک سے 3 لاکھ روپے فی گاڑی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے اٹھ سو گاڑیوں کی بکنگ اور خریداری کے سودے طے پائے ہیں جس کی وجہ سے موٹر ڈیلرز اور گاڑیوں کا کاروبار کرنے والوں اور گاڑیوں کی کمپنیوں کو زبردست منافع سامنے آ رہا ہے ذرائع کے مطابق مختلف بینکوں نے بھی اس سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے اور سرمایہ کاروں کو آٹو سیکٹر میں انویسٹمنٹ کرنے کے لئے بہترین وقت بتا کر ان کا رجحان اس جانب موڑا ہے اور وہ سرمایہ کار جو کرونا وائرس سے پہلے اور بارشوں سے پہلے زیادہ سرمایہ کاری پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں کر رہے تھے ان کی بڑی تعداد نے اپنی سرمایہ کاری کا رخ آٹو سیکٹر کی طرف موڑ دیا ہے کراچی میں طوفانی بارشوں کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کی گاڑیاں ڈوب گئی اور گاڑیاں ناکارہ ہو گئیں پرانی گاڑیاں بالکل اب چلنے کے قابل نہیں رہی جب کہ نئی گاڑیاں کھڑے کھڑے ڈوب گئی نیا ناظم آباد اور ڈیفنس کلفٹن میں لوگوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے طوفانی بارشوں کی وجہ سے جو علاقے ڈوب گئے اور جننی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں زبردست پانی بھر گیا اور لوگوں کو نقصان ہوا وہاں پر مٹی کی کان کی زبردست حد تک گر گئی ہیں لوگ کروڑوں روپے کی انویسٹمنٹ کرکے بھی خود کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکے اس لئے ان کی پراپرٹی کی ویلیو ایک دم نیچے آ گئی ہے اور لوگ وہاں سے شفا پانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں اکثر لوگوں کو بارشوں کے دوران ہوٹلوں میں رہنا پڑا پوش علاقے کے لوگوں کو ہوٹلوں میں قیام کرنے کے دوران اپنی پراپرٹی اور اپنے علاقے غیر محفوظ اور خطرے میں نظر آئے خاص طور پر ڈیفنس کلفٹن کے پانی میں ڈوبے ہوئے فیز اور مختلف شاہراہیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں کے مکینوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کٹنگ کنٹونمنٹ بورڈ کے خلاف احتجاج ہوا اور اس احتجاج میں جس بڑے پیمانے پر پوش علاقوں کے امیر لوگوں نے شرکت کی ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا یہ احتجاج بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کا پوش علاقوں کی ہاؤسنگ سہولتوں کے اداروں پر اعتماد اٹھ گیا اور لوگ بیزار ہوکر احتجاج پر مجبور ہوئے شہر بھر میں طوفانی بارشوں کے بعد پراپرٹی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور پراپرٹی کے لئے رکے ہوئے ہیں کچھ علاقوں میں ہونے داموں پر پراپرٹی خریدنے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن لوگ کم قیمت ہونے کی وجہ سے بیچ نہیں رہے اور کشمکش کا شکار ہیں جبکہ سرمایہ کاروں نے پراپرٹی کی قیمتیں کم کرنے اور انتظار کرنے کے بعد اسے دوبارہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے اس دوران سرمایہ کاروں میں اپنی سرمایہ کاری کا رخ آٹو سیکٹر کی طرف موڑ دیا ہے مختلف بینکوں نے بھی بڑے پیمانے پر آٹو لیزنگ شروع کر دی ہے اور اپنے بینک اکاؤنٹ ہولڈرز اور سرمایہ کاروں کو آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں جس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں اور بڑی تعداد میں آٹو سیکٹر میں گاڑیوں کی بکنگ اور خریداری شروع ہوگئی ہے ۔طوفانی بارشوں نے جہاں پراپرٹی سیکٹر کو زبردست نقصان پہنچایا ہے وہاں آٹو سیکٹر کا زبردست فائدہ ہوا ہے ۔
شہر کے مختلف اور شام اور گاڑیاں ٹھیک کرنے والے مکینک بھی بہت خوش ہیں ان کے پاس گاڑیوں کے کام کرانے کے لیے آنے والوں کا رش لگا ہوا ہے موٹر سائیکل لکھو کی بھی چاندی ہوگئی ہے اور بڑے پیمانے پر موٹرسائیکلوں کے کام ہو رہے ہیں ۔کرونا وائرس کے دوران جو لوگ گاڑیاں گھر سے نہیں نکال رہے تھے اور گاڑیوں کی خریداری اور قبطی قسم نیچے آگئی تھی اور اپریل کے مہینے میں زیرو سیل ہوئی تھی وہاں پر اب بارشوں کے بعد آٹو سیکٹر کی چاندی ہوگئی ہے اور ساری کسر نکل گئی ہے بڑے پیمانے پر خریداری اور بکنگ ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں بڑی تعداد میں نئی گاڑیاں روڈ پر نظر آئیں گی