کراچی دوبارہ جرائم کا مرکز بنتا جارہا ہے، علامہ رضی حسینی

شہریوں کو جامہ تلاشی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی آڑ میں بھتہ خوری جاری ہے

کراچی ۔ تحریک لبیک پاکستان کراچی کے امیر علامہ رضی حسینی نقشبندی نے کہا ہے کہ کراچی ایک بار پھر جرائم کی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جارہا ہے، جس میں پولیس کو جرائم پیشہ عناصر اور لاقانونیت کے مرتکب لوگوں کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری ہے۔ وہ پولیس شریف شہریوں کو جامہ تلاشی لینے کے نام پر کھلم کھلا رشوت وصول کررہی ہے اور ٹریفک پولیس کو کنٹرول کرنے کے بجائے شہر کے چوکوں اور شاہراہوں پر چالان کے نام پر بھتہ خوری میں مصروف ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سیاسی قیادت، محکمہ داخلہ اور پولیس کا کردار ایک صاف ستھری پالیسی کے مطابق نہ ہونا ہے، وہ گزشتہ روز اورنگی ٹاؤن، محمود آباد، لیاقت آباد اور رنچھوڑلائن میں اپنے دورے کے دوران ڈکیتیوں، چھینا جھپٹی، پولیس اور ٹریفک پولیس کے ہاتھوں بھتہ خوری کا شکار ہونے والے متاثرین سے گفتگو کررہے تھے۔ علامہ رضی حسینی نے کہا کہ شہرکراچی کا اور یہاں کے شہریوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ شہریوں نے شہر کو کنٹرول کرنے والے اداروں کو اپنے اداروں کے طور پر قبول نہیں کیا اور ان اداروں کو چلانے والی حکومتوں نے بھی ان اداروں کو ایسی انتظامیہ کے سپرد کیا ہے جو عوام کی خدمت کے بجائے اپنے مقرر کرنے والے حکمرانوں کی خوشنودی میں مصروف رہے ہیں۔ بلدیاتی نظام کی موجودگی کے باوجود مقامی مسائل کا حل نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس نظام میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہ کرکے ہر سیاسی جماعت نے صرف بااختیار عوام کا نعرہ لگاکر انہیں بےوقوف بنایا ہے۔ تحریک لبیک لوٹ کھسوٹ کے نظام کے بجائے دین کو تخت پہ لانا چاہتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں