وفاق ایوانہا ئے تجا رت وصنعت پاکستان جی ڈی پی کی شرح نمو سے سمجو تہ کر نے کے لیے کرنٹ اکا ؤنٹ سر پلس نا قابل قبول۔ایف پی سی سی آئی

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامر س اینڈ انڈسٹری نے پاکستان کے کر نٹ اکا ؤ نٹ خسا رے پر قا بو پا نے کے لیے حکومت کی کو ششو ں کو سراہا جس کے نتیجے میں جو لا ئی 2020میں 424ملین ڈالر کی اضا فی رقم ہو گئی ہے جو اکتو بر 2019کے بعد چوتھا ماہا نہ سر پلس ہے جس نے اضا فی کھا تو ں کا توازن بر قرار رکھا ہے جس کا اثر منفی معا شی نمو کی قیمت پر نہیں ہو نا چا ہیے۔ صدر ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار نے کہاکہ جو ن میں 100ملین کا خسارہ کرنے کے بعد جو لا ئی 2020میں ملک کا کر نٹ اکا ؤ نٹ بیلنس 424ملین ڈالر کی سر پلس میں چلا گیا خسارے سے سر پلس میں ہو نے والی تبدیلی بر آمدات میں مر کزی بینک اور ایف پی سی سی آئی کی طرف سے اٹھا ئے گئے انتظامی اقدامات کی حمایت کے ساتھ تر سیلا ت زر میں اضا فے اور ان اقدامات کی تعریف کر تی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ درآمدات میں بڑے پیمانے پر کمی نے مجمو عی معا شی سر گر میوں کو سست کر دیاہے۔ GDP کی شر ح نموکے با رے میں انہو ں نے کہاکہ کر نٹ اکا ؤ نٹ خسا رے میں کمی کو معا شی استحکا م کی علا مت کے طور پر ایک بڑی کا میا بی ہے لیکن اس سے صنعتی شر ح نمو کو فائدہ مند، معا شی کا رکر دگی اور کسی قوم کی تر قی کا اصل اشا رہ ہے۔ اطلا عات کے مطا بق حکومت کی طر ف سےGDP کی شر ح نمو 2.3فیصد کی مثبت پیش گو ئی کے بر خلا ف عا لمی بینک نے 2020-21میں پاکستان کے لیےGDPمیں منفی 1فیصد شر ح نمو کی پیش گو ئی کی تھی ورلڈ بینک نے کہاکہ معا شی عد م توازن کو دور کرنے کے لیے پاکستان میں پالیسی میں ایڈ جسٹمنٹ کا مجمو عی معا شی شرح نمو پر وزن ہے۔مز ید یہ کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی تیسری سہ ما ہی رپو رٹ ما لی سال 2020میں بھی یہ اندازہ لگا یا ہے کہ ما لی سال 2020میں پاکستان کی حقیقی GDPشر ح نمو 0.4فیصد پر طے پا ئے گی۔ رپو رٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ GDP میں تخمینہ بنیا دی طور پر صنعتی اور خدمات کے شعبے کو سر گر میوں میں کمی کا با عث ہے۔ میاں انجم نثار نے کہاکہ کر نٹ اکاؤنٹ کی اضا فی رقم برآمدات میں ا ضا فے پر مبنی ہو نی چا ہیے جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار کے ساتھ ساتھ روز گا ر کی پیداوار میں اضا فہ ہواہے۔ لیکن بد قسمتی سے مو جو دہ بدلا ؤ بڑی حد تک در آمدات میں کمی کی وجہ سے ہے جس کی وجہ ما ضی میں مارک اپ کی شر ح میں غیر معمولی اضافہ اور 45فیصد سے زائد کی قدر میں کمی کے بعد شر ح نمو میں غیر معمولی سست رو ی کا سامنا کر نا پڑا ہے جس نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا، انڈسٹری کا خا م مال جو ملک میں تیا ر نہیں کیا جا رہا ہے کو بھی اعلیٰ درآمدی ڈیو ٹیو ں کی فہر ست میں شا مل کیا گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ میکر و معا شی اشا رے میں پچھلے دو سالو ں میں استحکام اور بہتر ی دیکھنے میں آئی ہے کیو نکہ تجا رت اور ما لی خسارے کو کم کرنے کرنٹ اکا ؤ نٹ خسارے میں اضافہ، براہ راست غیر ملکی سر مایہ کاری میں اضا فہ،محصول کی وصولی میں اضا فہ، قر ضو ں کے انتظام میں بہتری کو یقینی بنانے میں نما یا ں بہتر ی آئی ہے۔ ایف پی سی سی ائی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مالی سال 2018میں 19.89بلین ڈالر کی تا ریخی اونچا ئی سے مالی خسا رے کو گٹھا کر مالی سال 2019میں 13.83 بلین ڈالر ہو گئی۔ اگر چہ اس سے حکومت کو کرنٹ اکاؤنٹ کے خسا رے کو کم کر نے میں مدد ملی لیکن دو سری طر ف اس نے دنیا بھر میں کو رونا وبا ئی امراض کو ابھر نے سے پہلے پاکستان کی مجمو عی معا شی سر گر می کو بھی سست کر رہا تھا۔ میاں انجم نثار نے مزید کہاکہ اعدادوشمار ایف پی سی سی آئی کے اس نظر یہ کی تا ئید کر تی ہیں کہ خسارے میں کمی کے پیچھے درآمدات میں بڑی کمی اصل طا قت رہی ہے کیو نکہ برآمدات میں برا ئے نا م اضا فہ ہوا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ادائیگی کے توازن میں اضا فی یقینی طور پر حکومت کے لیے ایک مثبت شگو ن ہے جو سست معا شی نمو اور اعلیٰ افراط زر کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہے تا ہم رو پے کی قدر میں بڑے پیما نے پر کمی کے با وجو د ملک کی بر آمدات کسی نما یا ں بہتر ی کو ریکا رڈکرنے میں نا کام رہی ہیں۔ گذ شتہ سالGDPکی شر ح نمو 5.5فیصد سے کم ہو کر 3فیصد ہو گئی تھی اس سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ حکومت معیشت کو گٹھا تے ہو ئے کر نٹ اکا ؤ نٹ کے خسا رے کو کم کرنے میں کا میا ب ہے۔ بین الا قوامی ما لیا تی فنڈسمیت قر ض دہند گا ن کے لیے سر پلس خوشگوار خبر ہو سکتی ہے لیکن ایک ہی وقت میں معیشت میں تیز ی سے سست روی کی وجہ سے یہ کا میا بی حاصل ہو ئی ہے جو لا کھو ں ملا زمتو ں کاسبب بنی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے کہاکہ ایند ھن کے نر خو ں اور توانائی کے نر خو ں میں لگا تا ر اضا فے کی وجہ سے حکومت کی سخت درآمدی پا لیسی کے ساتھ ساتھ کا روبار کر نے میں زیادہ لا گت نے صنعتی پیداوار کو تقریباً روک دیا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ پہلی بار بڑے پیما نے پر مینو فیکچر نگ میں نمو گذشتہ مالی سال کے دوران تقریباً3.5فیصد سے بھی بڑی صنعتو ں کی پیداوار میں کمی کی اطلا ع کے بعد محدود ہو گئی ہے جس نے معا شی سست روی اور بڑھتی ہو ئی بے روزگار ی پر تشو یش پیدا کی ہے۔ میاں انجم نثار نے ادارہ جا تی اصلا حات کے مستقل عمل کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ معیشت کے استحکام کے عمل کو مستحکم کرنے کے مقصد سے مالی نظم وضبط کو یقینی بنایا جا ئے اور پیداواری صلا حیت اور برآمدمسا بقت کو بہتر بنانے کے لیے زراعت، صنعت اور خدمات سمیت تمام شعبو ں میں سا ختی تبدیلیو ں کی ضرورت ہے۔

محمد اقبال تابش
سیکر یٹر ی جنرل ایف پی سی سی آئی