کراچی کی صورتحال، کوئی شہر ایسی قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کرسکتا، آرمی چیف

تفصیلات کےمطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 2 روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے، کراچی پہنچنے پر آرمی چیف نے شہر قائد میں اربن فلڈنگ کے زمینی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے فضائی معائنہ کیا، بعد ازاں آرمی چیف نے کراچی کور ہیڈ کوارٹرز کادورہ کیا جہاں انہیں کراچی کی حالیہ تاریخ کی بدترین اربن فلڈنگ اور سندھ بالخصوص کراچی میں فوج کی جانب سے سول انتظامیہ کی مدد سے متعلق آگاہ کیاگیا۔

انہیں بتایا گیا کہ کئی دہائیوں سے بڑھتی شہری آبادی،بغیر منصوبہ بندی کے آبادکاری اور بنیادی ڈھانچے کے امورسے متعلق مسائل نے غیر معمولی بارشوں کیساتھ مل کرصورتحال کو مزید پیچیدہ کیا، اس موقع پر آرمی چیف کا کہناتھاکہ پاکستان کا کوئی شہر ایسی قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کرسکتا،ہمارا مسئلہ وسائل کی عدم دستیابی کا نہیں بلکہ ترجیحات کا صحیح تعین نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جو منصوبے بنائے گئے ہیں ان میں انہیں فوج کی ہر ممکن مدد حاصل ہوگی، اس قدرتی آفت نے پاکستان کےمیگا شہروں کی انتظامیہ کوترجیحات کے تعین کا موقع فراہم کیا ہےتاکہ مستقبل میں ایسی آفات سے بچا جاسکے،انہوں نے تباہی سے نمٹنے کے کاموں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے ہدایت دی کہ مشترکہ عوامی افادیت اور متاثر ترین علاقوں میں پہلے کام کرنے کو ترجیح دی جائے،کسی بھی مقام پر ، کسی خاص علاقے یا برادری کے اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ضرورتمندوں سے توجہ یا وسائل منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے،یہ ایک نیشنل ڈیزاسٹر ہے اور ہر کوئی اس میں شامل ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج ضرورت کے وقت شہریوں کو مایوس نہیں کرے گی،آرمی چیف نے خاص طور پر محرم کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پرفوج کے اقدامات کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لئے قومی معاشی مرکز کراچی میں قیام امن ناگزیر ہے۔ کراچی اور صوبے میں معمول کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کوششیں جاری رہیں گی ۔

بعد ازاں آرمی چیف نے ریٹائرڈ سینئر اور موجودہ گیریژن افسران سے بات چیت کی،انہوں نے ملک کے دفاع اور سلامتی میں کردار ادا کرنے پر افسران کی تعریف کی۔قبل ازیں ، کراچی پہنچنے پر آرمی چیف کا کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز نے استقبال کیا۔