میں کہیں بھی چلا جاؤں مجھے سکوں کراچی ہی میں ملتا ہے

میں کہیں بھی چلا جاؤں مجھے سکوں کراچی ہی میں ملتا ہے۔۔۔
رہزن راج کے باوجود لفٹ دینا اس شہر کا کلچر ہے۔۔۔
بسوں میں کوئی بزرگ چڑھ جائے تو لوگ اپنی سیٹ دینے کے لئے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
رستے میں گاڑی یا بائیک خراب ہوجائے تو مدد کرنیوالے اتنے آجاتے ہیں کہ اچھا بھلا بندہ شرمندہ ہوجاتا ہے۔۔۔
رمضان میں افطار کے وقت سڑک سے گزر جائیں تو روزہ کھلوانے والوں سے جان چھڑانی مشکل ہوجاتی ہے۔۔۔

یہاں کے لوگ سخی ہیں ملک کی تمام بڑی سماجی تنظیموں:
الخدمت، ایدھی، چھیپا، سیلانی، عالمگیر ویلفیئر، جے ڈی سی، کے کے ایف، انصار برنی، فاطمید اور حسینی بلڈ بینک سمیت سینکڑوں سماجی تنظیموں کی جنم بھومی یہی شہر کراچی ہںے انهیں چندہ بھی یہی شہر دیتا ہے۔
امن پسند صوفی ہوں یا انتہاپسند مولوی، دینی جماعتیں ہوں یا مدارس، فرقہ پرست ہوں یا بھائی چارے کے داعی یہاں سب کے لئے وافر چندہ موجود ہے، چندہ اس شہر کی خو میں اتنا رچا بسا ہوا ہے کہ یہاں کے #لونڈےلپاڑے پکنک پر بھی چندہ جمع کرکے جاتے ہیں۔۔۔
محرم آتے ہی محلے محلے میں چندے سے سبیلیں لگیں گى، رت جگوں کے شور میں حلیم کی دیگیں کھڑکیں گى۔۔۔
یہاں بھیک اتنی ملتی ہے کہ سڑکوں پر بهانت بهانت دیس دیس کے بهکاریوں کا راج ہے، بلکہ بهیک کی جگہیں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔۔۔
ریستورانوں کے باہر مفت کھانے والوں کی لمبی لمبى قطاریں جابجا نظر آتی ہیں۔۔
آج کل خیراتی دستر خوان کا رواج چل پڑا ہے جہاں صدقے کا مٹن غیر مستحق لوگوں کا دل بھی لبھاتا ہے، کراچی میں خیراتی دسترخوانوں پر روزانہ کم سے کم چار سے پانچ لاکھ لوگ کھانا کھاتے ہیں۔۔
اس شہر میں غربت تو ہے مگر بھوک نہیں ہے۔۔۔
سب کے لئے روزگار ہے، پناہ ہے۔۔۔
ہر دوگام بدلتی ہوئی زبان، کلچر اس شہر کا حسن ہے۔۔۔
زاہد، جاوید اور ملا کی نہاری، سٹی کورٹ کے مرغ چھولے، کاشف غائر کی بریانی، جمشید روڈ کی مچھلی، پاک کالونی کی بٹیں، کراچى حلیم میں میری جان بند ہے۔۔۔
یہاں کے لوگ چهٹیاں منانے کے بہت شوقین ہیں، چھٹی کا کوئی بہانہ مل جائے چهٹی کرنے سے نہیں چوکتے ابھی بقرعید پر پانچ/چھ چهٹیاں مناکر اگلى محرم کی دو ىا موڈ ہوا تو پانچ چھٹیوں کے پلان بنانے اسٹارٹ ہو جائیں گے۔۔
بیشتر کو ایم کیو ایم کے جانے سے یہی غم لاحق ہے کہ اب ہڑتال کی چھٹی ماری گئی۔۔۔
اس شہر کی اپنی مدد آپ کے تحت جینے کی خو مجھے بہت پسند ہے، اس کا کوئی والی وارث نہیں مگر یہ سب کا والی وارث ہے۔۔۔
مجھے یہ احساس بھی بے حد سکون دیتا ہے کہ اتنے بڑے شہر کے تمام راستوں سے علاقوں سے واقف ہوں۔۔۔
تما م شارٹ کٹس مجھے معلوم ہیں۔۔۔
اس شہر میں مجھے یہ بات بھی بہت پسند ہے کہ یہاں ہر دوگام کوئی نہ کوئی جان پہچان والا مل جاتا ہے سلام دعا کرلیتا ہے۔۔۔

شکیل احمد خان ( باکو۔ آذربیئجان )