میں تین استانیوں اور ایک طالبہ کا شوہر ہوں، کار کا دروازہ اب تک ویسا ہی ہے، یہ دروازہ میرے لئے خیر کا دروازہ ثابت ہوا

میری بیوی لڑکیوں کے کالج میں پڑھاتی تھی میں روز اسے کالج چھوڑنے اور لینے جاتا تھا،کالج کے گیٹ پر پہنچ کر میں گاڑی سے اترتا اور اس کی طرف کا دروازہ کھول دیتا تب وہ نیچے اترتی، میرا یہ طریقہ لڑکیوں کے کالج میں موضوع بحث بن چکا تھا،کالج کی استانیاں میری بیگم پر رشک کرتیں اور اسے چھیڑتیں کہ کیا نصیب پایا ہے،کیا رومانس ہے،کاش کہ ہمارے شوہروں کو بھی یہ توفیق ملتی،بلکہ طالبات بھی ایسی باتیں کرتی،لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ رومانس ومانس کچھ نہیں تھا گاڑی کا دروازہ خراب تھا اور وہ باہر سے ہی کھلتا تھا.

مختصر یہ کہ اب میں تین استانیوں اور ایک طالبہ کا شوہر ہوں، کار کا دروازہ اب تک ویسا ہی ہے، یہ دروازہ میرے لئے خیر کا دروازہ ثابت ہوا.

محمد منشاء (دبئی)