پی ٹی اے کا ٹک ٹاک سے بھی غیراخلاقی مواد ہٹانے کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستانی ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے یوٹیوب کے بعد ٹک ٹاک سے بھی غیراخلاقی مواد ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک سے غیراخلاقی مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کی جانب سے غیراخلاقی مواد کو ہٹانے سے متعلق حالیہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے ٹک ٹاک سے مطالبہ کیا کہ مواد کی نگرانی کے لیے مضبوط اور معتدل طریقہ کار اختیار کیا جائے تاکہ پاکستان میں غیر قانونی مواد تک رسائی نہ ہوسکے
اس سے قبل گزشتہ ماہ پی ٹی نے ٹک ٹاک پر فحش اور غیراخلاقی مواد اور اس کے نوجوان نسل پر انتہائی منفی اثرات کے حوالے سے معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد ویڈیو ایپ کو ‘ حتمی وارننگ’ جاری کی تھی۔

جس کے بعد ٹک ٹاک کی جانب سے حتمی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایپ انتظامیہ کی اولین ترجیح قانون کی پاسداری کے ذریعے ایپ کے اندرونی ماحول کو محفوظ اور مثبت رکھنا ہے۔

بیان میں ٹک ٹاک کی جولائی تا دسمبر 2019 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ گزشتہ سال ہٹائی گئی نامناسب ویڈیوز میں سے 84 فیصد ویڈیوز ایسی تھیں جنہیں کسی بھی شخص نے نہیں دیکھا تھا