یہاں پٹواری اور تھانیدار پر نزلہ گرتا ہے۔ شوگر مافیا کو سبسڈی کس نے دی

گاجر (مولی سے) تمہارا رنگ پاکستانی جھنڈے جیسا سفید اور سبز ضرور ہے مگر تمہاری بھی پاکستانی عوام کی طرح سرے سے کوئی حیثیت نہیں۔

مولی:تمہارا رنگ سرخ ہے ذائقہ بھی میٹھا ہے مگر گاجر اور مولی ایک ہی تھیلی کے چٹی بٹی ہیں، جب بھی کوئی برا وقت آتا ہے گاجر مولی کو عوام کی طرح اکٹھے ہی کاٹا جاتا ہے۔کراچی کے عوام بھی گاجر مولی ہیںاسی لئے ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

گاجر:یہ ملک بنا تو عوام یعنی گاجر مولی کے لئے تھا مگر یہاں اشرافیہ یعنی آلو گوشت نے قبضہ کر لیا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گامے، ماجھے اور ماٹھے کی عزت بڑھتی ٹینڈے، کدو اور بینگن کی حکمرانی ہوتی مگر نگوڑی گوبھی نے آلو گوشت کے ساتھ دوستی کر کے اقتدار اعلیٰ پر قبضہ کر رکھا ہے۔

مولی:یہ کلغی خان، تمغہ خان اور اشرفی خان کا ملک بن چکا ہے یہاں کسی کو گھاس خان اور پھونس خان کی فکر تک نہیں مہنگائی زوروں پر ہے ،بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ قیمتوں کو آگ لگی ہے مگر کہا جا رہا ہے معیشت ٹھیک ہو رہی ہے۔

گاجر:اگلے دن وزیراعظم نے ذائقہ بدلنے کے لیے میری اور تمہاری چند قاشیں کھائیں اور اپنے ماہرین معیشت سے پوچھا ماجھے، گامے کا کیا بنے گا؟ ان کے ماہرین نے بتایا کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہوا ہے برآمدات بڑھی ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج چڑھی ہے اور کائبر ریٹ میں کمی کی گئی ہے۔

مولی:اتنی موٹی موٹی اصطلاحات کا کیا فائدہ۔ آٹا اور تیل مہنگا ہے تو یہ سب فضول ہے غریب کا چولہا تو تیل سے جلتا ہے اور اس کا پیٹ آٹے سے بھرتا ہے انگریزی کے موٹے موٹے لفظ اور اصطلاحات اس کا پیٹ نہیں بھر سکتے۔

گاجر:وزیراعظم غریبوں کے بارے میں بہت فکر مند ہیں اسی لئے انہوں نے مجھے کھاتے ہوئے ماہرین معیشت سے کہا کہ وہ ٹینڈے کدو اور بینگن کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں۔ وہ ماجھے، گامے اور ماٹھے کوکلغی خان، تمغہ خان اور اشرفی خان کے برابر لانا چاہتے ہیں۔ اقتدار میں بیٹھے سیاستدان ہوں، طاقتور ادارے ہوں یا پھر دولت مند سیٹھ یہ سب غریبوں کا حق کھاتے ہیں وزیراعظم کو اس بات کا احساس ہے میں نے ان کو یہ کہتے خود سنا ہے۔

مولی:کہنے سے کچھ نہیں ہوتا اصل بات کرنے سے ہوتی ہے اب تک اس حوالے سے کیا تو کچھ بھی نہیں۔ ہر روز لمبی لمبی میٹنگزکرتے ہیں جس میں انگریزی کے موٹے موٹے لفظ بولے جاتے ہیں پھر وزیراعظم کی پالیسیوں کی تعریف ہوتی ہے۔ اپوزیشن کی مذمت کی جاتی ہے جس کے بعد تالیاں بجتی ہیں اور میٹنگ ختم ہو جاتی ہے۔

گاجر:اصل میں گوبھی مافیا، مٹر مافیا، آلو مافیا اور گوشت مافیا ساری خرابی کی جڑ ہیں۔ وزیراعظم خود تو گاجر مولی کے حامی ہیں مگر ان مافیائوں نے نظام کو گھیر رکھا ہے۔ خرابی وزیراعظم کی طرف سے نہیں گوبھی، مٹر اور آلو خرابی کے ذمے دار ہیں۔

مولی:میں نے تو سنا تھا ’’جنہاں کھادیاں گاجراں ڈھڈ انہاں دے پیڑ‘‘ یعنی جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں انہی کے پیٹ میں درد ہوتا ہے مگر تضادستان کا دستور نرالا ہے۔ یہاں پٹواری اور تھانیدار پر نزلہ گرتا ہے۔ شوگر مافیا کو سبسڈی کس نے دی اس کا علم تک نہیں ہو پاتا ،سیمنٹ مافیا خود بخود قیمتیں کیسے بڑھا لیتا ہے۔ آٹا مافیا آٹا افغانستان کیسے بھجوا لیتا ہے۔ حکومت چاہے تو سب کچھ پتہ چل سکتا ہے۔ استحصال رک سکتا ہے اگر واقعی چاہے تو…..

گاجر:وزیراعظم نے تو اپنے ذاتی دوست ترین لودھروی تک کو نہیں چھوڑا اپنے صوبائی وزیر خوراک کی چھٹی کروا دی اور کیا کریں؟

مولی:ہا ہا ہا۔ آٹے میں ہاتھ ڈالا تو آٹا کم یاب ہو گیا ،مہنگا ہو گیا ۔چینی میں ہاتھ ڈالا تو چینی مہنگی ہو گئی کیا حسن انتظام ہےہا ہا ہا۔

گاجر:یہ سب مافیا کا کیا دھرا ہے گندم درآمد ہو گئی ہے اب آٹا سستا ہو جائے گا چینی کا مسئلہ بھی جلد حل ہو جائے گا۔

مولی:تمہیں ایک بار وزیراعظم نے کھا کر اہمیت کیا دے دی تمہارا بیانیہ ہی تبدیل ہو گیا تم گاجر کی گاجر ہی رہو گی ساگ پات اور گاجر مولی کبھی گوبھی مٹر اور آلو کے مقابلے میں نہیں آ سکتے۔ غریب مزدور اور کسان اشرافیہ کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟

گاجر:جو جس ماحول میں رہتا ہے اسی کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ انسان تمہیں نمک مرچ لگا کر کھاتے ہیں تمہیں بھی نمک مرچ لگا کر باتیں بڑھانے کی عادت ہو گئی ہے۔ مولی جی! میں صحیح کہہ رہی ہوں وزیراعظم غریبوں کے دل سے حامی ہیں۔

مولی:کسی کو اس پر شک نہیں۔ گاجر بہن، مگر کچھ نظر بھی تو آئے کچھ عمل بھی تو ہو۔

گاجر:میں نے وزیراعظم کو کہتے سنا ہے کہ اب ڈیلیوری کا وقت آ گیا ہے۔ اب گاجر مولی، ساگ پات، ماجھے ساجھے اور گامے کو سب کچھ ملے گا۔

مولی:میری فطرت میں تھوڑا کڑوا پن ہے مگر یہ سچ کا کڑوا پن ہے۔ ہونا کچھ نہیں یہ صرف ہوائی باتیں ہیں۔

گاجر:مولی جی کڑواہٹ ختم کرو یہ تو مانو کہ کرپشن کے خلاف مہم میں حکومت نے سب بڑوں بڑوں کو اندر کر دیا کسی کلغی خان کو نہیں چھوڑا۔

مولی:کرپشن کیخلاف مہم کا ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ نہ پٹواری کی رشوت ختم ہوئی نہ تھانے کا ظلم ختم ہوا۔ کدھر ہیں وہ اربوں ڈالر جو سوئٹزر لینڈ کے بینکوں سے لا کر غیر ملکی قرضے اتارنے تھے۔ کہاں ہیں وہ کرپشن سے بچائے جانیوالے اربوں روپے۔ اگر کرپشن نہیں ہو رہی تو ملک میں روپے کی ریل پیل کیوں نہیں؟

گاجر:بھلیے لوکے۔ یہ معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں تم تو سبزی کی سبزی ہی رہی عوام والی سوچ تمہارے ذہن سے نہیں نکلتی۔ ریاست کے امور بڑے پیچیدہ ہوتے ہیں۔ مافیا ہوتے ہیں نوکر شاہی ہوتی ہے مگر حکمرانوں کی نیت ٹھیک ہے۔

مولی:گاجر جان، تم اپنی کلاس بدل رہی ہو گھاس پھونس ہو پھل فروٹ مت بنو تمہیں ان جھوٹی خوشامدوں سے کچھ ملنا ولنا نہیں ہے۔ اس حکومت سے کوئی امید نہیں ہے یہ ناتجربہ کار اور نا اہل ہے۔

گاجر:یہ عوام کا آخری چانس ہے وگرنہ پھر پرانا مافیا آ جائے گا یہ ان سے تو بہتر ہے کم از کم خود تو کرپٹ نہیں ہے، نیت تو ٹھیک ہے۔

مولی:نیت کا کیا کرنا اگر کچھ کرنے کی صلاحیت ہی نہ ہو۔ ہم افتادگان خاک کی حالت بدلنے والی نہیں، نہ یہ بدلیں گے نہ کوئی اور۔ ہمیں نئے مسیحا کا انتظار رہے گا

——
Sohail-Waraich-Jang