چینی صدر شی جن پنگ کی کہانی … جیوے پاکستان کی زبانی

پاکستان کے دوست ملک چین کے مقبول صدر شی جن پنگ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آخر میں اپنی جوانی کے دنوں میں بیجنگ سے نکل کر چین کے صوبے شان کی کے ایک شہر یا ن ائن کے ایک چھوٹے سے گاؤں لیانگ جا چلے گئے اور وہاں ایک کسان کی حیثیت سے سات سال گزارے ۔بعد میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی گاؤں کی سطح پر شاخ کا سیکرٹری بن کر خدمات انجام دیں اور گاؤں والوں کے ساتھ مل کر فصلیں اگانے اور تیار کرنے میں ان کی قیادت کی۔
وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی دلی خواہش یہ تھی کہ گاؤں کے لوگوں کو باقاعدہ کھانے کے لئے گوشت ملے آج کے چینی صدر اس وقت کے گاؤں والوں کے ساتھ گھل مل گئے ریلوے اور بائی پاس پل کی تعمیر میں حصہ لیا اور د یہی سطح پر چینی کمیونسٹ پارٹی کے رکن بن گئے ۔گاؤں میں گزارے گئے سات برسوں کے دوران انہوں نے بہت کچھ سیکھا اپنے عزم کو پختہ کیا انہوں نے ایک مضمون لکھا کہ شمال مغربی سطح مرتفع میں عوامی خدمت میری جڑ ہے کیونکہ میں نے عزم کیا تھا کہ عوام کی خدمت کرنی ہے۔
چین کا صدر بننے کے بعد مسٹر شی ایک مرتبہ پھر اس گاؤں واپس گئے اور اپنی یادوں کو تازہ کیا انہوں نے گاؤں والوں کو اچھے ناموں سے پکارا ۔گاؤں کے لوگ ان کے صدر بننے اور پھر اپنے گاؤں واپس آنے پر بے حد خوش تھے۔

چینی صدر اس بات پر خوش ہیں کہ گاوں کا نقشہ بدل چکا ہے اب یہاں پر ریلوے کی تعمیر ہوگئی ہے لوگ اینٹوں سے بنے پکے مکانوں میں رہ رہے ہیں انٹرنیٹ کی سہولت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں گاؤں کے بڑے بزرگوں کو بنیادی سہولتیں مل رہی ہیں گاؤں کے سب افراد کو میڈیکل انشورنس مل گئی ہے بچوں کے لیے اچھی تعلیم کے مواقع ہیں۔ ……جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں