غریب بستیاں DHA کو لے ڈوبیں

بریگیڈئیر بشیر احمد آرائیں
——–

آج ڈیفنس سوساٸٹی کراچی کے رہاٸشی کینٹونمنٹ بورڈ کلفٹن اور DHA کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں اور وجہ ہے کہ اپنے گھر ڈوب گٸے ۔ کیا نظارہ ہے کہ اللہ کی بے آواز لاٹھی کی گواہی ڈیفنس والے آج خود دے رہے ہیں ۔ اورنگی ۔ ملیر ۔ کورنگی ۔ سرجانی ۔ خدا کی بستی ۔ انڈہ موڑ ۔ نیوکراچی اور اسی طرح کی غریب بستیاں ہر سال ڈوبتی تھیں اور یہاں بسنے والی خلق خدا سڑکوں پر نکل کر دہاٸی دیتی تھی کہ ہماری مدد کرو ہم لٹ گٸے برباد ہو گٸے مگر ان علاقوں سے ووٹ لے کر ایم این اے اور ایم پی اے بننے والے معززین اپنے ڈیفینس کے بنگلوں میں اے سی چلاکر سو رہے ہوتے تھے ۔

آج رشوت خور آفیسرز کی حرام کی کماٸی سے ڈیکوریٹڈ گھر مٹی والے گندے پانی سے اس طرح تباہ ہوٸے کہ غریب اور کچی بستیوں سے گندا گٹر والا پانی غریبوں کی چیخ و پکار اور غصہ لٸے نکلا اور ہزار ہزار دو دو ہزار گز کے بنگلوں میں مخملی بیڈ رومز میں جا گھسا ۔

فٹ پاتھ پر بکتے سستے فروٹ ۔ سبزی اور غریبوں والی دال چاول کے ٹھیلوں ۔ رکشوں ۔ موٹر ساٸیکلوں اور پرانی ٹوٹی پھوٹی منی ویگنوں کو ڈبوتے ڈبوتے یہی گندا پانی بےلگام ہو کر ماڈرن ڈیپارٹمنٹل اسٹورز ۔ کے ایف سی ۔ میکڈونلڈ ۔ فارم ہاٶس جیسے شاہی بنگلوں کی بیسمنٹ میں کھڑی مرسیڈیز اور پراڈو جیسی لگژری گاڑیوں پر چڑھ دوڑا اور انکے مکینوں کو سڑک پر لا کر رونے پیٹنے پر مجبور کردیا ۔ چیخو اب اجتماعی طور پر چیخو کہ یہ ظلم کا نظام ہے ۔

حد تو یہ ہے کہ اصل اہل اقتدار سڑکوں پر نہیں نکل سکتے کہ وہ بھی DHA اور کنٹونمنٹ بورڈز کے نام پر لوٹ مار کرکے آج خود کٹھہرے میں آ گٸے ہیں ۔ اب کہیں ناں کہ کراچی کا میٸر چور ہے ۔ کہیں ناں کہ سول گورنمنٹ چور ہے جو ترقیاتی فنڈز کھا جاتے ہیں ۔ واہ اب چور مچاٸے شور کا تماشہ ختم ہو گیا ہے ۔ بتاٸیں کہ DHA ڈوبنے کی ذمہ داری کس کے سر ہے ۔

چلیں خود احتسابی کیلیے ڈیفنس کے معززین اپنے اپنے نقصان کا حساب کر لیں تو سمجھ آٸیگی کہ انکا بھی ذکات صدقہ نکل گیا ۔ کماٸی کا وہ حصہ جو خلق خدا پر خرچ ہونا چاہیے تھا اب دوبارہ گھروں کی تزین و آراٸش پر خرچ ہوگا لیکن ٹھہریے جیسے ہی گندے پانی خشک ہوگا تو بے آواز لاٹھی کی اگلی قسط کا تصور کیجیے ۔ غریب بستیوں کے بھوکے ننگ تڑنگ لوگ کسی دن پیٹ کی آگ بجھانے آپکے باورچی خانوں کے دروازے توڑکر آپکے آرڈر کیے پیزا اور برگر آپ سے پہلے کھانے پہنچے گے ۔ پھر کس کے خلاف مظاہرے کریں گے ۔ اپنے خلاف؟

خدارا اب بھی وقت ہے اگر اپنے محل جیسے گھروں میں سکون سے سونا ہے تو جگھیوں میں رہنے والی خلق خدا کا دال آٹا کھانے کا حق نہ چھینیں ۔ پیٹ بھرا ہو تو جانور بھی حملہ نہیں کرتا ۔ خالی پیٹ بھوکی عوام کسی دن گندے بےلگام پانیوں کی طرح آپکے دفتروں بنگلوں اسمبلی ہالوں اور بندوقوں والی گاڑیوں پر جھپٹ پڑے تو کیا ہوگا ۔ اب بھی وقت ہے حرام اور حلال کو الگ الگ کرلیں ۔ گندے پانیوں کا رخ بدل جاٸیگا