مسنگ پرسنز کے حوالے سے بھارت کا مکرو چہرہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے

.
ریاض ( ناظم علی عطاری ) پوری دنیامیں 30اگست کو جبری گمشدگی کے شکار افراد کاانٹرنیشنل دن منایا جاتا ہے مسنگ پرسنز کے حوالے سے بھارت کا مکرو چہرہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر اپنے حقوق کی آواز بلندکرنے والوں کو نہ صرف انکے حق سے محروم کردیا جاتا ہے بلکہ انکو اس فہرست میں شامل کیا جاتا ہے جس کی ایک لمبی لائن ہے جس میں کمی کے بجائے ہرسال اضافہ ہی ہوتا چلاجارہا ہے ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 8000سے 10,000ایسے افراد لاپتا ہوچکے ہیں جن کا آج تک کوئی مقام نہیں ملا اس سے بڑھ کر اگر بھارت میں دیکھیں تو ایک افسوس ناک کیفیت طاری ہوجاتی ہے وہاں مسنگ پرسنز کی تعدا ہزاروں میں نہیں ہرسال لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے بھارت کے اپنے ہی ادارہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیوروکی رپوٹ کے مطابق 2017 میں 3,05,267، 2018 میں 3,47,524جبکہ 2019 میں 3,60,230کی کمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی کیابھارت کی کشمیر میں کھلی دہشت گردی اور آئیے روز مسنگ پرسنز میں اضافہ انکے ناپاک عزائم کی عکاسی ہی نہی آج کا دن گمشدہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ یا پیش رفت کے حوالے سے اقوام عالم کو بیدارکرتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس سیاہ دن کے منانے کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت آج تک تو نہ ہوسکی ہے لیکن مسنگ پرسنز میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا چلاجارہا ہے گمشدہ ہونے والے افراد کے لواحقین آج بھی دروازوں کے تاک لگائے بیٹھے ہیں کہ کب کسی کا بھائی، باپ یابیٹا واپس لوٹے گا اور ان میں سے توکچھ ایسے ہیں جو اس بے رحم انتظار کاشکار ہوکر لقمہ اجل بن چکے ہیں اپنے حق میں آواز حق کو بلندکرنے والوں کو کیوں دبوچ لیاجاتا ہے آج بھی مائیں اپنے بچوں کے انتظار کے میں ہیں کہ کب انکا لال لوٹے گامسنگ پرسنز کے عالمی دن کے موقع پر چیئرمین کشمیر کمیٹی سردار اشفاق احمد ، جنرل سیکرٹری سردار وقاص عنایت ، وائس چیئرمین کشمیر کمیٹی معروف حسین نے بھارت کے کے اس جارہانہ اور انتہائی گھٹیا اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ بھارت ایک دہشتگر اور جارہانہ سوچ کا ملک ہے جس میں حق اور سچ اور آئینہ دیکھانے والوں کی زبان اور آنکھیں دونوں ایک ہی وقت مین چھین لی جاتی ہیں لیکن بھارت چاہیے جنتا بھی اپنے اس مکروہ چہرے کو چھپالیے یہ عیاں اقوام عالم پر عیاں ہوچکا بھارت جان لے کے فتح حق کی ہے۔