یہ تاریخِ اسلام کا ظالم ترین شخص تھا

حجاج بن یوسف کو لیجیئے، یہ تاریخِ اسلام کا ظالم ترین شخص تھا۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اسے گورنر بنایا۔ اس نے اپنے تیس سالہ دور میں عالمِ اسلام کی ان ہستیوں کی داڑھیوں کو خون سے رنگین کر دیا، جن کی طرف لوگ کمر موڑنا بھی گناہ سمجھتے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا یہ حجاج بن یوسف تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو قتل کرنے، خانہ کعبہ کی دیواریں گرانے اور حجرِ اسود توڑنے کے باوجود 52 سال کی عمر میں معدے کے سرطان میں مبتلا ہوا۔ جس کی وجہ سے یہ خوراک ہضم نہیں کر سکتا تھا۔ جو کھاتا تھا، قے کر دیتا تھا اور معدے کے درد کی وجہ سے ساری رات اور سارا دن تڑپتا رہتا تھا۔ یہ آخری وقت میں سردی کا شکار بھی ہو گیا۔ اسے شدید سردی محسوس ہوتی تھی اور یہ سردی سے بچنے کے لئے اپنے اردگرد آگ جلواتا تھا۔ آگ کی حدت کی وجہ سے اس کی جلد جل جاتی تھی لیکن سردی کی شدت ختم نہیں ہوتی تھی۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ حجاج نے جس عہدے اور اقتدار کے لئے اپنے ضمیر، احساس اور انسانیت کی قربانی دی، اسے کم ازکم پانچ سو سال زندہ رہنا چاہیئے تھا۔ لیکن افسوس اسے ان تمام مظالم کے باوجود چند گھنٹوں کی اضافی مہلت بھی نہ مل سکی۔ اور یہ فقط 52 سال کی عمر میں مر گیا۔ یہ حجاج بن یوسف کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔

تاریخ میں حجاج بن یوسف سے ذرا سا پیچھے چلے جائیں۔ آپ یزید کے دور میں چلے جائیں تو یزید کے دور میں کربلا جیسا دلخراش واقعہ پیش آیا۔ ابن زیاد اور شمر نے یزید کے اقتدار کی خاطر امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کو بےدردی سے شہید کر دیا۔ لیکن ہوا کیا، یزید حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے تین سال بعد مر گیا۔ ابن زیاد پانچ اور شمر اڑھائی سال بعد مر گیا۔

تھوڑا آگے آئیں، چنگیز خان نسلِ انسانی کا سب سے بڑا قاتل تھا۔ اس نے قریباً 84 لاکھ لوگ قتل کئے۔ اور یہ اسی طرح کی ایک جنگی مہم میں 64 سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اسی اقتدار کے لئے اشوک اعظم نے اپنے 64 بھائی مروا دیئے، لیکن کیا ہوا، کتنی مہلت مل سکی؟؟؟

ہم اگر اپنی زندگی میں جھانک کر دیکھیں تو تھوڑی سی دولت اور اقتدار کے لئے دن رات ظلم کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کا حق مارتے ہیں، دوسروں کے ساتھ فراڈ کرتے ہیں، ہم دوسروں کی زمین جائیدادوں پر قبضے کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کی زندگی بھر کی کمائی بھی چھین لیتے ہیں۔ ہم چوری کرتے ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، قتل کرتے ہیں، دھونس دھمکی سے دوسروں سے پیسہ ناجائز طور پر نکلواتے ہیں، سیاسی جوڑ توڑ کرتے ہیں، اپنے مخالفین پر جھوٹے پرچے بھی کرواتے ہیں۔ ہم اس دولت، زندگی، اختیار اور اقتدار کے لئے اپنا ضمیر، انسانیت، احساس اور ایمان تک بیچ دیتے ہیں۔ ہم اخلاقیات کی تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد ہوتا کیا ہے، ہم یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہم اپنےہاتھوں مرنے والے مقتول کے چند سال بعد خود بھی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ہم جس اختیار، اقتدار اور عہدے کے لئے انسانیت کی تمام حدیں عبور کر گئے، یہ اقتدار، یہ عہدہ اور یہ اختیار چند سال بعد سرکتی ہوئی ریت کی مانند ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ ہماری مدتِ اقتدار پوری ہو جاتی ہے۔ ہم سے ہمارا عہدہ چھن جاتا ہے یا پھر ہم ریٹائر ہو جاتے ہیں اور چند برسوں کی ذلت، خواری، بیماری کے بعد دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ زمین زمین پر رہ جاتی ہے، مکان دکان اور فیکٹری بک جاتی ہے۔ روپیہ پیسہ بنک کھا جاتے ہیں یا کوئی سالہ بہنوئی لے کر اڑ جاتا ہے یا پھر ہمارا کوئی بیٹا جوئے یا طوائف کے چکر میں اڑا دیتا ہے۔ یا پھر یہ پیسہ آخر میں طبیبوں اور ڈاکٹروں کے کام آتا ہے۔

حجاج بن یوسف سے لے کر ہم تک، انسانوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میں انسان کی اس بےوقوفی پر پریشان نہیں ہوتا ہوں۔ مجھے پریشانی ظلم کے بعد ظالم سے ہونے والے سلوک پر ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ انسان جس عہدے، جس مال اور جس اقتدار کے لئے اتنی قربانیاں دیتا ہے، یہ اس کے بعد اس سے چھننی نہیں چاہئیں۔ اس انسان کو اتنی قربانیوں کے بعد مرنا نہیں چاہیئے۔ اسے کم از کم دو تین ہزار سال تو زندہ رہنا چاہیئے۔ کیا ہم گنتی کے ان چند برسوں کے لئے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ کیا مظلوم اور ظالم کی زندگی میں صرف چند برس کا فرق ہوتا ہے؟
اگر فرق صرف اتنا ہے تو ہماری سوچ اور منفی کوششوں پر تُف ہونا چاہیئے۔ ہم کل کے بارے میں جانتے نہیں اور اپنے آج کو آلودہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیئے اور اگر ہم کریں تو ہمیں مرنا نہیں چاہیئے۔
———-
خالد بدر