کراچی نئی قیادت کا منتظر! ہوا چل پڑی

خصوصی تجزیہ:سراج امجدی –
کراچی نئی قیادت کا منتظر! ہوا چل پڑی –


بارش کے سیلاب میں ڈوبے کراچی کے عوام نئی قیادت کی تلاش میں حقیقی اور سچی قیادت کے منتظر ہیں، رہبروں کی صورت میں روا یتی سیاست دانوں نے اپنے مفادات کے لئے مفادعامہ کو بارش میں غرق کردیا۔ قطار میں لگ کر انہیں ووٹ دینے والوں میں سے کون بچا جو بارش سے زیادہ یا کم متاثر نہ ہواہو۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سرکاری ادارے ترقیاتی اور عوامی بہبود کے فنڈزمیں کھلم کھلا لوٹ مار کرکے اپنا گھر بھرتے رہے اور انہیں کسی نے نہ پکڑے اپنے سیاسی سرپرستوں کے بینک بیلنس میں بھی اضافہ کرتے رہے!۔ عوام اپنا پیٹ کاٹ کر ریاست کو بچانے کے لئے ٹیکس ا دا کرتے ر ہے لیکن ان کے ووٹوں سے ایوان اقتدار میں پہنچنے والے خدمت کی سیاست کرنے کے بجائے عوامی مفادات کی نیلامی کی تجارت کرتے رہے۔ بارش تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے یہ نہ ہوتو ملک معاشی طور پر بدحالی کا شکاراور زراعت برباداور وبائی امراض جان لیوا ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ریاست سے وفاداری کا حلف اٹھانے والے سڑکوں اورراستوں کی تعمیر میں، نکاسی آب کی منصوبہ بندی کے کام کاآغاز امانت کے بجائے خیانت سے کرتے ہیں تو پھر بارش لوگوں کے لئے رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔گزشتہ دو عشروں سے شہرمیں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کوکرپشن اور کمیشن کی ناقابل معافی جرم کے بغیر دیانت داری سے مکمل کیا گیاہوتا توآج کراچی اور کراچی والے بارش سے ہونے والی تباہ کاریوں سے اپنی جان اورمال کوبچانے کےلئے جس کسمپسری میں نقل مکانی کے لئے مجبور ہیں۔ کیایہ مثالی حکومت کی تعریف ہے؟بارش کے بعد لاکھوں شہری پانی کئی کئی فٹ گھروں میں داخل ہونے کے بعد کھانے کے لئے سماجی تنظیموں کی جانب سے تقسیم کئے جانے والے کھانے کے رحم وکرم پر ہے اور اس قیامت خیز تبا ہی و بربا دی پر سندھ کا شہزادہ نورتنو ں کے مشورے پر منصوبہ بندی کے تحت بارشوں کے متا ثرین سے ملنے کے بجا ئے نما یشی دورے پرایسے منتخب علاقوں کا دورہ کرتا ہے ۔جہاں معصوم بچی شہزادے کو گلدستہ اور نو جوان لڑکی شہزادے کے سا تھ سیلفی بنا کر متا ثرین بارش کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجا ئے ان پر نمک چھڑ کا جاتا ہے اور نا لوں کی صفا ئی کاکام محکمہ بلدیات کراچی یا سندھ کے بجا ئے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی جانب سے کیا جا تا ہے اور اس پر بھی شر مندگی اور معذرت کا اظہار کرنے کے بجا ئے ڈھٹا ئی سے نالوں پر سے تجا وزات کے خا تمے کا اعلان کیا جا تا ہے اور جب صحا فی اس نما یشی دورے کے دوران عوام کے جزبات پر مبنی شہزادے سے سوال کرتے ہیں تو انہیں سوال کا جواب دینے کے بجا ئے شہزادہ عا لی جاہ الٹا صحا فیوں پر یہ کہہ کر برس پڑتے ہیں کہ آپ طنزیہ سوال کرتے ہیں ۔یہ وہ شہزادے ہیں جن کے بادشاہ آزادی صحافت کے لئے خم ٹھو ک کر اپنا سب کچھ قربان کردینے کا اعلان کرتے ہیں یہ شہزادے کی نہ اہلی ہے کہ وہ تمام صحا فیوں کو اپنے پے رول پر تصور کرتے ہیں ۔کیا کراچی میں بسنے والے لوگ مشکل کی اس گھڑی میں زرداری کی باد شاہت میںپینے کے صاف پانی کی بوتلوں کے مستحق بھی نہیں تھے ؟عالمی وبا کورونا میں وادی مہران میں راشن کی تقسیم کا ذکر کر کے نہ تو ہم کسی کو شرمندہ کرنا چا ہتے ہیں نہ نا راضگی مول لینا چا ہتے ہیں لیکن اس کے با وجود جیے،جیے کے نعروں کی وجہ ضرور جا ننا چا ہتے ہیں ؟اس تباہ حالی پرتا جر رہنما عتیق میر میڈیا کو یہ بتا رہے ہےںکہ تین روز کے دوران تاجروں کادس سے بارہ ارب کا نقصان ہو چکا ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہم کس کے سامنے اپنا رونا روئیںکو ئی یہاں سننے والا ہے ؟ اب بہت ہو چکا ۔کراچی والوں کو انصاف ان سے نہیں ملے گا جو خود اس شہر کے نوحہ کا حصہ بنے ہیں، لٹے پٹے نزاع کی کیفیت میں مبتلا لوگ ہنگا می انتطامی امدادی سر گرمیوں کیلئے پاک فوج کی طرف دیکھ ہی نہیں رہے ہیں بلکہ تجارتی ادارون کے زریعے ملک کی معشیت کا پیہ چلانے والے جن کا سارا کاروبار کراچی میں پھیلاہوا ہے۔وہ باربارشہر کی تعمیر نو میں کم ازکم پا نچ سال تک فوج کی سر براہی اور نگرانی میںانفرااسٹریکچر کی بحا لی میں ان کی شمولیت کا مطالبہ کررہے ہیں خلق خدا کی یہ آواز خود ساختہ جمہوریت کے علمبردار وں کی جانب سے جمہوریت کے ساتھ کلھلواڑ، مینڈ ینٹ پر نقب زنی ،عوامی حقوق پر ڈکیتی کا شاخسا نہ ہے۔دوسری جانب عوام کو نچلی سطح تک اختیا رات کی منتقلی کیلئے 18ویں آینی ترمیم منظور کرانے کا سہرا اپنے سر لینے والے اپنے ہی قانون کو اپنے پیر تلے روندنے کے لیے بلدیاتی انتخابات کو آینی مقررہ مدت میں نہ کرانے کے لیے شرمناک حربے اور ہتھکنڈے اختیار کررہے ہیں کیونکہ مذکورہ انتخابات مقررہ وقت پر ہو گئے تو پیدا ئشی اور حاد ثاتی بادشاھتو کی مصنوعی عوامی مقبولیت کا چراغ گل ہو نے کا اندیشہ نہیں بلکہ ہمیں تو یقین ہے ۔اس پس منظر میں شفاف اور غیر جانبدار انصاف کا واحد راستہ صوبوں اور ملک کی اعلی عدلیہ کے سوا کو ئی دوسراراستہ نہیں یہ روایتی ، تجارتی اورفصلی سیاست دان آج تک اپنے عمل سے سچ کی سیاست کی سعادت سے دور اور اللہ جن پر جھوٹ کی وجہ سے لعنت بھیجتا ہے ان کی اکثریت بد قسمتی سے اس شیطانی مرض میں اپنی بد اعمالیوں کی بنا پر مبتلا رہی ہے ۔لہذا جب کوئی عدالتی فیصلہ ان کے حق میں آجا ئے تو اسے یہ قانون کی فتح اور کسی مقدمے کا فیصلہ ان کے ذاتی مفادات کیخلاف آجا ئے تو اسے یہ چمک کا نتیجہ قرار دینے میں دیر نہیں کرتے ہیں ۔لیکن عوام ہمیشہ عدالتی فیصلوں کو دل وجان سے قبول کر تے ہیں ۔ملک میںتحریک بحالی عدلیہ سیاسی جما عتوں کی نہیں عوام کی جدو جہد کا نشاةثا نیہ ہے یہ درست ہے عدالت عظمیٰ نے بحالی عدلیہ کے بعد سے اب تک ایک بار نہیں باربارکراچی کے لا علاج مختلف امراض کے شافی علاج کیلئے ازخود نوٹس لیکر مریض کراچی کو انتہا ہی نگہداشت کے شعبے سے نکال کر بحالی کے وارڈ تک لانے کا اپنا فریضہ بلا خوف وخطر قانون کے دایرے میں رہتے ہوئے سرانجام دیا ہے یہ اور بات ہے کہ حکومت اور انتطامیہ نے ان فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کرنے کے بجا ئے اپنی منا فقا نہ روش کے عنصر کو برقرار رکھا ہے اب سندھ ہایکورٹ کی باری ہے ۔اسی طرح جیسے تحریک پاکستان میں سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستا کے حق میں قرار داد منظور کی تھی اب سندھ کارڈ کے راستے کو ہمیشہ کیلئے ضروری ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سندھ کی وحدت اور کراچی کی تاریخی حیثیت کی بحالی کےلئے ازخود نوٹس لیتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دے کر بار بار سندھ کے نام پر سندھ کو لوٹنے والے اور کراچی کے نام پر کراچی کو یرغمال بنانےوالے ان پردہ نشینوں کو بے نقاب کردے جنہوں نے ملک اور قوم کی دولت کو لوٹ کر سندھ کو معاشی طور پر کنگال اور کراچی کو کھنڈر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔سندھ ہائیکورٹ اس جرات مندانہ اقدام کے نتیجے میں آج ڈوبتے پاکستان کو بچانے کے لئیے مسیحا ثابت ہو سکتا ہے۔