تباہی سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام شروع

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اور کے الیکٹرک سب اسٹیشنوں سے برساتی پانی کے نکاسی کیلئے کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) سے تعاون کرنے کلئے واٹر بورڈ اور کے ایم سی کو متحرک کیا ہے۔ انہوں نے ہفتے کو ڈی ایچ اے، کے الیکٹرک ہیڈ آفس اور سی بی سی آفس کا دورہ کرنے کے بعد فیصلہ لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے الیکٹرک ہیڈ آفس گئے جہاں ای سی ای مونس علوی نے ان کا استقبال کیا اور انہیں شہر میں بجلی کی فراہمی سے متعلق اآگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1900 میں سے 1532 فیڈرز بحال کردیئے گئے ہیں جبکہ ڈی ایچ اے کے علاقے میں 60 فیڈرز ہیں ان میں سے 50 فیصد کو بحال کیا گیا اور 50 فیصد ابھی بحال ہونا باقی ہے۔ مونس علوی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ان کے 25 سے 30 سب اسٹیشن زیر آب آگئے ہیں اسی لئے ان کے فیڈرز ٹرپ گئے ہیں۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ اور کے ایم سی کو ہدایت کی کہ کے الیکٹرک سب اسٹیشنوں سے پانی نکالنے کلئے اپنی سکشن مشینیں جلد از جلد بھیجیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سی بی سی کا دورہ کیا اور ایڈمنسٹریٹر سے ملاقات کی جس میں ڈی ایچ اے علاقے سے متعلق مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سی بی سی چیف نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ گھروں سے پانی نکال دیا گیا ہے لیکن پھر بھی خیابان راحت، خیابان شہباز، صبا ایوینیو، اسٹریٹ 26 اور دیگر ایوینیو 6 تعطل کا شکار ہے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ چار ہیوی گاڑیوں سے چلنے والی پمپنگ مشینیں پانی کو ڈی واٹرنگ کیلئے فیز VI کے علاقے میں بھجوادی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ اور سی بی سی کے سربراہ نے ایک چار رکنی مشترکہ رابطہ کمیٹی تشکیل دی جس میں سندھ حکومت کی جانب سے وزیر ایکسائز مکیش چاولہ اور مشیر مرتضیٰ وہاب جبکہ کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے دو سینئر حکام شامل ہیں جوکہ علاقے کو برساتی پانی سے صاف کرنے کیلئے مشینری لگوا کر نکاسی کرائیں گے۔ واٹر بورڈ اور سی بی سی افسران نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ان کے پاس جمع شدہ پانی کو قریبی نالے میں خارج کرنے کیلئے کوئی لمبی پائپ نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ گذری کی کسی دکان پہنچ کر پائپ خریدیں لیکن میں دو گھنٹے کے اندر مشینری کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔ مراد علی شاہ نے نکاسی آب کے نظام سے نمٹنے والے محکمہ آبپاشی کے افسران کو بھی ضروری مشینری کے ساتھ ڈی ایچ اے پہنچنے کلئے ہدایت کی ۔واٹر بورڈ نے چار ہیوی گاڑی پر سوار پمپنگ مشینوں کو ڈی ایچ اے منتقل کردیا۔ سی بی سی چیف نے وزیراعلیٰ سندھ کے تعاون اور مدد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ محرم کے جلوس کے راستے کی نگرانی کلئے ٹاور گئے جہاں کے ایم سی کے مسعود عالم بھاری سکشن اور پمپنگ مشینوں کے ساتھ موجود تھے تاکہ جمع شدہ برساتی پانی نکالا جاسکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ بارش کے چھٹے اسپیل سے پہلے پورے شہر میں جمع شدہ پانی کو نکلوانا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کراچی ڈویژن کے تمام چھ اضلاع سمیت حیدرآباد ڈویژن اور میرپورخاص ڈویژن کے تین اضلاع اور شہید بینظیر آباد ڈویژن کے دو اضلاع کو آفت زدہ علاقے قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا نوٹیفکیشن کے اجراء کے فوراً بعد ہی حکومت تباہی سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام شروع کردے گی۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ