ملکی ترقی تعمیراتی شعبے سے جڑی ہوئی ہے۔ محسن شیخانی

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آباد کے پیٹرن اور سابق چیئرمین اور ممتاز بلڈر محسن شیخانی نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کی ترقی تعمیراتی شعبے سے جڑی ہوئی ہے یہ ایک سو اسی سے لے کر دو سو ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے تعمیراتی شعبے کو جتنی سہولتیں دی جائیں گی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے گی اتنی ہی تیزی سے معیشت ترقی کرے گی ملک میں خوشحالی آئے گی لوگوں کو روزگار ملے گا لوگوں کی اچھی رہائشی اسکیمیں بنے گی کچی آبادیوں کا خاتمہ ہوگا دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی شہر خوبصورت ہوں گے گندگی اور ٹریفک جام کے مسائل سے چھٹکارا ملے گا ایک بہتر صاف ستھرا اور سکون رہائشی ماحول تعمیراتی شعبے کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں آباد نے اس سلسلے میں اپنا کردار بخوبی ادا کیا ہے کم لاگت کے منصوبوں پر کام کر کے لوگوں کو بہتر سہولتیں دی آ سکتی ہیں اور کچی آبادیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے پاکستان میں بارہ ملین گھروں کی قلت ہے جن کی تعمیر پر ایک سو اسی ارب ڈالر لگیں گے اس کا مطلب ہے کہ کم از کم مزید ایک سو اسی ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے ملکی معیشت کی ترقی کا انحصار تعمیراتی شعبے پر ہوتا ہے تعمیراتی صنعت کو فروغ دیا جانا چاہیے آسانیاں پیدا کی جانی چاہیے جب تک تعمیرات سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے طویل المدتی پالیسیاں نہیں بنائی جائیں گی مسائل حل نہیں ہونگے ایڈہاک ازم کی پالیسیوں نے ماضی میں بھی کافی نقصان کیا ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے ۔حکومت اگر کرپشن ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے حکومتی محکموں کو آن لائن کر دینا چاہیے ۔مختلف محکموں کے این او سی دراصل بلڈرز کو محکموں کے پیچھے بھاگا کر رشوت بٹورنے کا نام ہے رجسٹریشن کی اسٹیمپ ڈیوٹی کم ہونے سے معیشت کا حجم بڑھ جائے گا محسن شیخانی نے کہا کہ بیس سال پہلے کی دنیا اور آج میں زمین آسمان کا فرق ہے تب گراؤنڈ پلس فور کی عمارت ہی ہائی رائز سمجھی جاتی تھی ملک کی سب سے اونچی عمارت 22 منزلہ حبیب بینک پلازہ تھا اب چالیس پر پچاس منزلہ عمارتیں بنانا عام سی بات ہے ٹیکنالوجی تبدیل ہو چکی ہے زمانے کے ساتھ چلنے کے لیے ہمیں بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں